بچوں کا کتھارسز
کیا آپ کا بچہ کتھارسز کرنا جانتا ہے یا کبھی آپ اس عمل سے گزرے۔ کتھارسز ہے کیا؟ اور اسے کرنا کیوں ضروری ہے اور خاص کر بچوں میں۔ روح کو پرسکون کرنا، ذہن کو مطمئن کرنا، جذبات پہ قابو پانا، اپنے آپ کو حالت سکون میں رکھنے کا نام کتھارسز ہے۔
کسی ٹروما سے نکلنے کے لیے بھی کتھارسز کرنا ضروری ہے مگر ہم اس عمل کو روزمرہ کی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر انسان ایک تخلیقی عمل کرنا چاہتا ہے اور جیسے ہی وہ یہ تخلیق کر لیتا ہے ویسے ہی کامیابی کی خوشی اس کے دماغ کو روشن کر دیتی ہے۔
ایک بچہ بہت چھوٹی عمر سے تخلیق کرنا چاہتا ہے گھٹنوں کے بل چلنے کے عمل کے بعد سے چلنے اور بولنے کے عمل تک اور اسے کرنے کے بعد اعتماد کی منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے۔
یہ تخلیق کرنے کا عمل اسے مکمل کرتا ہے اس کے جنون کو کم کرتا ہے سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے لیکن ہم اسے فارغ وقت کی علامت کے طور پر رکھتے ہیں ہم بچے کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ وہ کام ہیں جب آپ کے پاس وقت ہو تب کریں ویسے بھی حقیقت تو یہ ہے کہ آج کا بچہ بہت مصروف بچہ ہے اس کے پاس وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ کسی تخلیقی عمل کو مکمل کر سکے صبح اسکول دوپہر مدرسہ اور پھر ٹیوشن اس کے بعد نہ اس میں ہمت ہے اور نہ وقت کہ وہ کچھ سوچ سکے وہ اپنی مصروف ترین زندگی میں صرف کچھ لمحے ہی کھیل کے نکال سکتا ہے جبھی تو کے جی ون سے اے پلس اور 98 فیصد لینے والا بچہ جب 80 پر پہنچتا ہے تو والدین کو پریشانی لاحق ہونا شروع ہو جاتی ہے اور وہ پڑھو پڑھو اور صرف پڑھو کا فارمولا لگا کر بچے کو ہر کام سے روک دیتے ہیں۔
یہاں بچے کا دماغ کیونکہ اس چیز کو قبول نہیں کر رہا ہوتا تو وہ بے زار ہو جاتا ہے اور بے دلی یا بد دلی سے پڑتا ہے پڑھائی ایک بوجھ کی طرح لگنے لگتی ہیں یہاں پر بہت زیادہ قصور ہمارے اسکول کے تعلیمی نظام کا بھی ہے جہاں بچہ حافظ بن رہا ہوتا ہے۔ وہ اردو انگلش، سندھی، ریاضی، مطالعہ پاکستان، اسلامیات سب کچھ حفظ کر رہا ہوتا ہے۔ یہاں یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو عمر بچوں کے کھیلنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچے صرف مشقتیں جھیل رہے ہوتے ہیں۔ کھیل کا وقت ان کی زندگی میں آٹے میں نمک کے برابر ہے، اس لیے بہت ضروری ہے کہ ان کو کتھارسز کا موقع دیا جائے۔
پورے دن میں ایک عمل جو بہت شوق سے کرتے ہیں وہ ان سے ضرور کروایا جائے جیسے وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ ڈائری لکھنا اس طرف بچوں کو ضرور راغب کریں ڈائری لکھنے کا مطلب صرف روز مرہ کے معاملات لکھنا نہیں بلکہ اپنے احساسات جذبات کو قلم بند کرنا مسئلہ لکھنا ہے تاکہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل سے خود نمٹنا سیکھے یہی اصل ڈائری لکھنا ہے (اور اس میں انہیں مکمل پرائیویسی دیں انہیں اس بات کا یقین دلائیں کہ کوئی ان کی باتیں نہیں پڑھے گا) کوئی بھی انسٹرومنٹ بچانا، گانا گانا، پودے لگانا، ڈرائنگ بنانا، قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنا۔
جہاں بچہ اپنا کوئی کام خوشی خوشی کر رہا ہوتا ہے وہاں اس کا کتھارسز بھی ہو رہا ہوتا ہے خوشی الگ مل رہی ہوتی ہے اور دماغ تیز چل رہا ہوتا ہے اس کی مشق ابھی سے کروائیں تاکہ شدید غصے اداسی میں اس عمل کو کر کے کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو پرسکون کر سکے اس طرح کر کے نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی اپنا کتھارسز کر سکتے ہیں۔
ہمیں ضرورت ہے اپنا غصہ نکالنے کی، تھکن نکالنے کی، اندر کی گھٹن نکالنے کی، اس لیے کچھ ایسے اقدامات کریں یا کوئی ایسا شوق اپنائیں جو آپ کے یا بچوں کے جنون کو کم کرے اور ٹینشن کی حالت سے آپ خود باہر آ سکیں۔
کیا آپ کے گھر میں پنچنگ بیگ لٹکا ہے؟ نہیں ہے تو لٹکائیں، نہیں تو ایک تکیہ مخصوص کر دیں کہ اگر غصہ ہے مارنے کا دل کر رہا ہے، کسی کو! تو اپنا غصہ اس پر نکالو، میڈیٹیشن کروائیں، آئینے سے باتیں کرنا سکھائیں کس بات کا غصہ ہے؟ کیوں اداس ہو؟ جاؤ یہ سوالات آئینے سے کرو اسے پرائیویسی دیں تنہائی میں اپنے آپ کو ٹٹولنا سکھائیں۔



نہایت خوبصورت تحریر ہے