پیار کیا تو ڈرنا کیا – سدا بہار گیت
اس تحریر میں ہم ان گلوکاروں کا تذکرہ کر رہے کہ جو نہایت معروف و مقبول تھے لیکن کچھ گیت یا تو ان کی پہچان بن گئے یا ان کا نام آتے ہی بے ساختہ یاد آ جاتے ہیں۔
لتا منگیشکر
پیار کیا تو ڈرنا کیا، لتا منگیشکر کی آواز میں یہ گیت ممتاز جہاں بیگم دہلوی عرف مدھو بالا پر عکس بند کیا گیا ہے۔ مدھوبالا نے جو چہرے کے تاثرات دیے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ ہدایت کار کے آصف نے کیا ہی زبردست عکاسی کی تھی۔
کے ایل سہگل
سہگل نے تو بہت سے مقبول گیت گائے جیسے ”اے کاتب تقدیر“ لیکن ان کا سب سے اعلٰی گیت ”جب دل ہی ٹوٹ گیا ہے“ جس کی گلوکاری اور پھر بعد میں اس پر ان کی اداکاری ناقابل فراموش ہے۔
عالمگیر
عالمگیر کا گایا گانا ”دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں“ دیکھیے۔ ساحرہ کاظمی کی ہدایت کاری میں اس گانے کی ویڈیو میں عالمگیر گھاس پر لوٹنیاں لگا رہے تھے جس پر انور مقصود نے ایک دفعہ تبصرہ کیا تھا کہ بھائی پیٹ میں درد تھا تو ڈاکٹر کے پاس جاتے۔ اس گیت میں عالمگیر کے چہرے کے تاثرات اور آواز کا انداز اتنا خوشی لیے ہوئے ہے کہ ناظر بھی ان کے ساتھ ساتھ جھومنے لگتا ہے۔
نازیہ حسن
نازیہ کا اٹالی دے تلے بیھ کے سنیں اور دیکھیں، ان کی سہیلیاں مہندی لگا رہی ہوتی ہیں اور جھولا جھول رہی ہوتی ہیں۔ نازیہ نے یہ گیت ایسے اہل زبان کی طرح گایا ہے جیسے پنجابی ان کی مادری زبان ہو۔
حس جہانگیر
سانولا سا چہرہ اور لمبے لمبے بال اور حسن کے ساتھ بنجمن سسٹرز، ”ہوا ہوا اے ہوا خوشبو لٹا دے“ نے پورے برصغیر میں دھوم مچا دی تھی۔
محمد رفیع
محمد رفیع نے تو اتنے بہترین گیت گائے ہیں کہ ہر ایک ان کے پسندیدہ گیتوں کی اپنی فہرست بنا سکتا ہے۔ ان کا ایک گیت ”آنے سے اس کے آئے بہار“ جیتندر پر فلمایا گیا ہے۔ فلم میں یہ گیت دو مرتبہ آیا ہے۔ ایک دفعہ صرف جیتندر پر اور دوسری مرتبہ جیتندر فلم کی معذور ہیروئن کے لیے گاتے ہیں۔ یہاں ان کی اداکاری اور عکس بندی بہت ہی لاجواب ہے۔ دونوں نے خوب اچھے تاثرات دیتے ہوئے اداکاری کی ہے۔
ابرارالحق
ابرارالحق اپنے پہلے گانے بلو دے گھر سے ہی سب کے پسندیدہ ہو گئے۔ یہ گانا انہوں ہے۔ اس قدر تیزی سے گایا تھا کہ بہت سے لوگوں کو تو اس کے پورے بول سمجھ ہی نہیں آتے تھے یا وہ غلط سمجھ بیٹھتے تھے۔ کوئی دو دہائی بعد جب ابرار نے اسے کوک سٹوڈیو میں قدرے کم رفتار سے گایا اور کوک سٹوڈیو میں گانے کے ساتھ اس کے بول بھی لکھنے کا رواج ہے تو تب جا کر یہ گانا لوگوں کی سمجھ میں پورا آیا۔ اس کے علاوہ ”مینوں یار دے ویاہ وچ نچ لین دے“ ، ”سانوں تیرے نال“ ، ”نی بے جا سائیکل تے“ جو غیر ارادی طور پر ایک سیاسی جماعت کا گانا بن گیا، ”پریتو میرے نال ویاہ کر لے“ جس کے ویڈیو میں گلوکار علی ظفر بھی تھے۔ لیکن ہمیں سب سے زیادہ ”بھیگا بھیگا سا دسمبر“ پسند ہے۔ آج کل دسمبر کا مہینہ ہی چل رہا ہے۔ دسمبر کا ویڈیو بھی بہت خوب ہے
بیڈ
مائیکل جیکسن کا گانے اور اداکاری کا انداز سب سے جدا گانہ ہے۔ ان کا مشہور زمانہ ”مون واک“ ناچ اور گانا ”بیڈ“ تو خوب ہی مقبول ہوئے۔ مائیکل جیکسن بظاہر تو انگریزی زبان کے گلوکار تھے لیکن بحیثیت مجموعی انہوں نے پوری دنیا میں موسیقی کی دنیا کو تبدیل کر ڈالا۔
ایلوس پریسلے
ایلوس کو ”کنگ آف راک اینڈ رول“ کا خطاب ملا۔ انہوں نے بھی دنیائے موسیقی کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔ ان کے بہت سارے گیت بہت اچھے ہیں جیسے ”جونی بی گڈ“ لیکن ہمیں سب سے زیادہ ”مائی وے“ پسند ہے جسے اصل میں فرینک سناترا نے گایا تھا۔ ویسے یہ ایک فرانسیسی زبان کے گانے کو انگریزی میں ڈھالا گیا تھا۔ یہ ایک ایسے عمر رسیدہ فرد کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے کہ جسے اپنی زندگی میں زمانے کے سرد و گرم سے پالا پڑا ہے۔ یہ گیت ان کی آخری بڑی عوامی محفل ”الوہا فرام ہوائی“ میں گایا گیا تھا۔ محمد رفیع کے ”تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے“ اور نورجہاں کے ”گائے گی دنیا گیت مرے“ کی طرح یہ گیت بھی ایلوس کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
شمشاد بیگم
شمشاد بیگم نے گلوکاری کی ہر صنف میں بہترین گانے دیے ہیں۔ خواہ وہ ان کا خوشی کا گیت ”میرے پیا گئے رنگون ہو“ یا غمگین ”چھوڑ بابل کا گھر موہے پی کے گھر آج جانا پڑا“ اور ”تقدیر بنی، بن کر بگڑی“ ہو۔ اسی طرح نعتیہ کلام میں ”پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی سے“ اور ”اے مولا علی، اے شیر خدا، مری کشتی پار لگا دینا“ کیا ہی زبردست ہیں۔ اسی طرح مغل اعظم میں گائی ان کی قوالی ”تیری محفل میں قسمت آزماء کر ہم بھی دیکھیں گے“ کیا خوب ہے۔
احمد رشدی
احمد رشدی نے ”کوکو کورینا“ کیا ہی سریلا گایا ہے اور پھر پی ٹی وی کے پروگرام کے لیے گاتے ہوئے اپنے ہی گانے پر کیا زبردست تاثرات دیتے ہوئے اداکاری کی ہے۔
نور جہاں
نور جہاں نے ویسے تو بہت ہی خوبصورت گیت گائے لیکن ”دل کا دیا جلایا“ کیا ہی زبردست گایا اور اس گیت پر ان کی اداکاری بھی نہایت عمدہ تھی۔
مہدی حسن
مہدی حسن نے یوں تو بے شمار گیت اور غزلیں گائی ہیں لیکن ”گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے“ کی کیا ہی بات ہے۔
ناہید اختر
ناہید اختر نے ویسے تو بے شمار زبردست گیت و غزلیں گائی ہیں لیکن ان کی گائی غزل ”زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خاموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا“ کی کیا ہی بات ہے۔ خاص طور پر یہ شعر کہ ”ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے“
رونا لیلٰی
رونا لیلی نے ویسے تو بے شمار گیت گائے ہیں لیکن ان کے گائے گیت ”مٹی کے کھلونے بابو لے جا“ کیا ہی حسرت اور دردناک لہجے میں گایا ہے۔
اخلاق احمد
اخلاق احمد نے بھی کیا خوبصورت گیت گائے جیسے ”ساون آئے ساون جائے“ اور ”ایک تھی گڑیا بڑی بھولی بھالی“ لیکن ان کا گیت ”کبھی خواہشوں نے لوٹا“ بہت ہی زبردست ہے۔ خاص طور پر یہ شعر کہ ”گلہ موت سے نہیں ہمیں زندگی نے مارا“
شوکت علی
شوکت علی نے کا نام سامنے آتے ہی ”جب بہار آئی تو صحراء کی طرف چلا نکلا“ ذہن میں چلی آتی ہے۔
ماسٹر مدن
ماسٹر مدن نے بہت کم عمری میں گانا شروع کیا۔ لیکن پورے ہندوستان میں اپنا سکہ منوایا۔ ان کی گائی ہوئی آٹھ غزلیں ہی اس وقت دستیاب ہیں۔ کسی ظالم نے انہیں افغانستان سے واپسی پر پارہ کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ مختلف اعضاء ناکارہ ہونے پر نہایت اذیت ناک موت سے دو چار ہوئے۔ صرف بارہ سال کی عمر پائی لیکن کیا ہی زبردست آواز تھی۔ ”حیرت سے تک رہا ہے“ کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔ اگر وہ جیتے تو غزل کی دنیا میں کیا دھوم مچاتے۔
جنید جمشید
جنید جمشید ویسے تو دل دل پاکستان سے چھا گئے تھے لیکن ان کا ”آنکھوں کو آنکھوں نے جو سپنا دکھایا ہے“ گانا اور اس کا ویڈیو بھی بہت خوب ہے۔ جنید اور آمنہ حق نے اس کے ویڈیو میں راجستانی انداز میں اداکاری بھی خوب کی تھی۔ ان کا اسی مہینے دسمبر کی سات تاریخ کو انتقال ہوا اور یہ ہیرا اپنے چاہنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

