مسنگ پرسنز، اکبر بگٹی، پنجاب کے مخالفین اور کچھ دوسری باتیں


آمر مشرف کے دور میں جب مسنگ پرسنز پر بات کرنے کی آزادی نہ تھی اور سب خوف کھاتے تھے کہ بات کی تو اٹھا لیے جائیں گے تو عین ان ہی دنوں خاکسار نے مسنگ پرسنز کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیم ”ڈیفنس فار ہیومین رائٹس“ کی چیئرپرسن ممتاز خاتون آمنہ مسعود جنجوعہ (جن کے اپنے شوہر بھی مسنگ پرسنز میں شامل تھے اور ہیں ) کا لاہور کے ماہنامہ ”پولیٹیکل سین“ کے لیے زبردست انٹرویو کیا تھا، جو ادارے نے لگانے سے معذرت کی لیکن خاکسار اڑ گیا اور آخر کار اسے لگانا پڑا بلکہ ٹائٹل پر آمنہ مسعود کی تصویر لگا کر یہ سرخی نکالی گئی کہ ”کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں“

اس میں براہ راست جنرل مشرف کو للکارا گیا تھا اور انٹرویو کے آخر میں یہ شعر درج کیا تھا
ہر ایک شخص کی آزادیوں کو سلب نہ کر
امیر شہر ذرا اپنے اختیار سمیٹ

اور جب کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور اکبر بگٹی پہاڑوں کی طرف نکلنے والے تھے تو انہوں نے دوست احباب کے دباؤ پر کہ وہ حالات کی نزاکتوں سے آگاہ ہوچکے تھے، 3 لوگوں کو ”ثالث“ مان کر مذاکرات کی آفر کی تھی
مشاہد حسین سید
ایاز امیر
اور
ارشاد احمد حقانی (سینیئر گروپ ایڈیٹر، جنگ گروپ آف پبلی کیشنز)

عین ان ہی دنوں عاصمہ جہانگیر ڈیرہ بگٹی کی طرف گئیں لیکن پھر یہ کہہ کر لوٹ آئیں کہ ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا ہے اور وہ مزید آگے نہ جاسکیں گی۔
خاکسار آمر مشرف کے لب و لہجے اور بگٹی صاحب کو یہ دھمکی کہ ”تمہیں پتا بھی نہ چلے گا کہ اوپر سے کیا آئے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہو گا، یہ 70 کا زمانہ نہیں ہے“ کو بہت سیریس لے رہا تھا اور جناب ارشاد احمد حقانی سے بارہا فون کالز پر کہہ رہا تھا کہ ”عوام نہ مشرف پر یقین کر رہے ہیں اور نہ بگٹی صاحب پر۔ آپ ڈیرہ بگٹی جا کر خود اصل حقائق تک پہنچیں اور پھر اپنے کالم کے ذریعے سب تک حقائق پہنچائیں“

وہ خاکسار کی بات سے اتفاق کر رہے تھے اور ڈیرہ بگٹی جانے کو تیار بھی تھے لیکن عین ان ہی دنوں وہ گھر میں گر گئے اور کولہے پر شدید چوٹ لگوا بیٹھے اور نقل و حرکت سے معذور ہو گئے۔ ان دنوں وہ صرف خاکسار سے ٹیلی فونک رابطے میں تھے کہ خاکسار ان پر ایک کتاب لکھنے کے لیے مسلسل ان سے رابطے میں تھا اور ایک بڑا سوالنامہ ان کے پاس موجود تھا جس کے جوابات وہ خاکسار کے لیے آڈیو ریکارڈنگ کی صورت محفوظ کیے جا رہے تھے اور یہ بات یا وہ جانتے تھے یا ان کے ایک معاون خاص (غالباً شفقت نام تھا ان کا) ۔ لیکن پھر اکبر بگٹی کو آمر مشرف نے شہید کر دیا۔ اور نفرت کی آگ مزید بڑھ گئی جو آج تک نہ بجھائی جا سکی ہے اور پھر ارشاد احمد حقانی صاحب بھی بہت سے حقائق ساتھ لیے ابدی نیند سو گئے اور خاکسار اپنے سوالوں کو آج تک کندھے پر لادے پھر رہا ہے۔

آخری بات یہ کہ بلوچستان، سندھ اور کے پی کے میں پنجابیوں کے لیے کبھی بھی حالات اچھے نہ رہے لیکن دوسری طرف پنجابیوں نے کبھی بھی ان صوبوں کے لوگوں کو نفرت سے نہ دیکھا ہے۔ ہاں پالیسی سازوں کے ہاں کچھ کہانیاں ضرور ہیں لیکن ان کا عوام سے کیا تعلق؟

پنجاب واحد صوبہ ہے جسے سندھی، بلوچی اور کے پی کے لیڈران کھلے عام توڑنے، تقسیم کر کے سرائیکی صوبہ، پوٹھوہار صوبہ، بہاولپور صوبہ اور پتا نہیں کن کن صوبوں میں تقسیم کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب سندھ ہی سے کراچی صوبے کی بات نکلتی ہے تو

مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں
سندھ مقدس دھرتی ہے
کے جواب ملتے ہیں۔ باقی صوبے غیر مقدس ہیں؟

کے پی کے والے ہزارہ صوبے کی بات پر تپ جاتے ہیں لیکن پنجاب کو آبادی کی بنیاد پر توڑنے کی خواہش والے یہ دوست فاٹا کو کے پی کے میں ضم کر کے اور بھی بڑا صوبہ کرلیتے ہیں اور اس صوبے کا واحد لیڈر ہونے کا دعویدار جب وزیراعظم تھا تو لاہور کو 3 حصوں میں بانٹنے پر تل گیا تھا اور ایسا اس نے پشاور، ملتان، کراچی وغیرہ کے بارے نہ کہا تھا۔ کیوں؟ وجہ سب جانتے ہیں

اسی طرح بلوچستان میں 40 فی صد پشتون ہیں لیکن کوئی ان کے لیے الگ صوبے کی بات تو کر کے دیکھے ذرا۔

لے دے کے ایک پنجاب ہی رہ جاتا ہے جو اپنی تقسیم پر نہ مرسوں مرسوں کی بات کرتا ہے اور نہ ہی مقدسی راگ الاپتا ہے۔ باقی صوبوں والے اپنے اپنے دن بھی مناتے ہیں۔ سندھ میں اجرک ٹوپی ڈے مناتے ہیں لیکن پنجابی دھوتی کرتہ ڈے منا کے دکھائیں ذرا؟

ایک نعرہ ملتان کے لیگی کارکن شیخ ظہور نے ”جاگ پنجابی جاگ“ کا لگایا تھا جو آج تک پنجابیوں کے گلے پڑا ہوا ہے۔

آخری بات یہ کہ جس طرح باقی صوبوں کے لیڈران اپنے اپنے صوبے کی تقسیم نہ چاہتے ہیں، عین اسی طرح پنجاب کے لیڈران بھی نہیں چاہتے کہ پنجاب تقسیم ہو۔ اور اس کی وجوہات سب کے سامنے ہیں

اپنے صوبے کے عوام کا خوف
ووٹ بنک کھو جانے کا خوف
کم آبادی پر حکومت کا رہ جانے کا خوف
وسائل کے کم ہو جانے کا خوف
وغیرہ وغیرہ وغیرہ

رہا خاکسار تو وہ تنظیمی بنیادوں تقسیم کے کل بھی حق میں تھا اور ہمیشہ رہے گا لیکن ایسا سب صوبوں کے ساتھ ہو۔
صرف پنجاب کو ٹارگٹ بنانا انصاف کیسے ہو سکتا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments