بیرسٹر محمد علی جناح نے کیا دلیل دی ہوگی؟


میرے ایک دوست نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے صفحہ پر مشتاق احمد یوسفی کے نام سے یہ لکھا کہ اس وکیل نے یہ ثابت کر دیا کہ جو آٹھ سو سال سے اکٹھے رہ رہے تھے وہ اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، اور وہ وکیل جناح سے قائد اعظم ہو گیا۔ ویسے تو سماجی رابطہ کے صفحات پر اقبال، فراز اور یوسفی کے نام سے وہ کچھ چھاپ دیا جاتا ہے جس کے بارے میں شاید ان حضرات نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ قطع نظر اس بات سے کہ لکھی ہوئی بات میں کتنا سچ تھا میں سوچتا رہا کہ جناح نے کیا دلیل دی ہوگی جو آٹھ سو سالہ اکٹھے رہنے کی تاریخ ہر حاوی ہو گئی ہو گی۔

آئیے سوچتے ہیں۔ سوچنے سے پہلے ایک کتاب کا حوالہ، آپ نے معروف ناول آگ کا دریا تو پڑھا ہو گا یا اس کے بارے میں سنا تو ہو گا۔ وہ ناول بھی یہی کہتا ہے کہ جو صدیوں سے اکٹھے رہ رہے تھے وہ اور بھی اکٹھے رہ سکتے تھے۔ اب جناح کی اس دلیل کی طرف آتے ہیں جو ایک حقیقت ہر حاوی ہو گئی بلکہ ایک نئی حقیقت کو جنم دے گئی۔ جناح نے تاریخ پر ایک نگاہ ڈالی ہوگی اور جو کچھ سامنے آیا ہو گا وہ یہ تھا:

مسلمان جو پہلے پہل تجارت کی غرض سے ہندوستان میں آئے ہوں گے وہ ہندوستان میں حکومت کرتے ہوئے ایک یا ایک سے زیادہ غیر مسلم حاکموں کی ایسی رعایا ہوں گے جن کی تعداد نا قابل توجہ ہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دور اور قریب کے مسلمان حاکم ہندوستان پر حملہ آوروں کے روپ میں آئے ہوں گے اور پھر یہاں پر حکومت کا آغاز کیا ہو گا۔ حاکم ہوتے ہی اقلیت نے توجہ حاصل کی ہوگی اور حکومت کی طاقت سے وہ اکثریت کے لیے قابل قبول ہوتی چلی گئی ہو گی۔

اس سے پہلے کے مسلمان ہندوستان پر بلاشرکت غیرے حاکم ہو جاتے، مغل دور میں، ہندوستان میں کہیں مسلم حکومتیں تھیں اور کہیں غیر مسلم۔ دونوں کے ہاں ایک دوسرے کی خدمات سے فائدہ حاصل کرنے کا رواج ہوتا گیا ہو گا۔ یہ بات سماج پر بھی اس حد تکا اثر انداز ہوئی ہوگی کہ دونوں ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ جلتے ہوں گے کبھی ملے بغیر۔

مغل دور میں جب مسلمانوں کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی ہوگی تو سمجھدار حاکموں نے اکثریت کو قومی دھارے میں رکھتے ہوئے اس کی خدمات سے ہر سطح پر فائدہ اٹھا یا ہو گا۔ حکومت کرتی اقلیت کو اکثریت سے کیا خطرہ ہو گا۔ وقت گزرا اور مغل سلطنت تحلیل ہو کر ٹکڑوں میں اس طرح بٹی یوگی کے کہیں مسلم حاکم ہوں گے ، کہیں غیر مسلم اور کہیں فرنگی۔ یہاں بھی اکٹھے رہنا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اور پھر جب فرنگی مکمل حاکم ہو گیا تو اس وقت بھی جہاں فرنگی حکومت تھی وہاں سب کالے ایک سے تھے اور جہاں دیسی حاکم تھے وہاں مسلم و غیر مسلم حاکموں کے ہاں رعایا بس رعایا تھی۔

وقت آگے بڑھا 1937 میں صدیوں بعد اکثریت کو حکومت کا وہم ہوا تو اس نے اقلیت کا دل دہلا دیا۔ پھر 1946 آیا جس میں دونوں کو مل کر حکومت کا وہم ہوا مگر وہ حالانکہ وہم ہی تھا مگر ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ میں سوچتا رہا کہ جناح نے بس یہ تاریخ بیان کی ہو گی، اس نے مستقبل کی تصویر عیاں کردی ہوگی، اور وہ ہر دلیل پر حاوی ہو گئی ہوگی۔ جناح پھر قائد اعظم ہو گئے ہوں گے ۔

Facebook Comments HS