کمی کمین


سامراجی نظام کے متاثرہ ملکوں میں قومی ہیروز سامراجیت کے مفاد کے پیش نظر گھڑے جاتے ہیں اور ان افراد کو ہیروز بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو ان کے کمرشل مفادات کو فروغ دیتے ہوں۔ اسی لیے ماضی کے ہیرو اب سیلیبرٹی کہلاتے ہیں۔ ماضی کے ہیرو کے تصور کے برعکس اب ہیرو یا سیلیبرٹی وہ نہیں جو جاگیرداروں، سرمایہ داروں یا طاقتور لوگوں کے ظلم کے خلاف ڈٹ جاتا ہو، یا غریبوں کے حقوق کی بات کرتا ہو بلکہ ہیرو وہ ہے جو نفیس اور خوبصورت شخصیت کا مالک ہو۔ بہترین لباس پہنتا ہو، عمدہ کھانے کھاتا ہو، بہترین گاڑیوں میں سفر کرتا ہو اور اس کی اک اک ادا کمرشل ہو اور لوگ اسے عملی زندگی میں کاپی کرنا اعزاز سمجھتے ہوں۔ چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہو اندر چاہے زہر ہی کیوں نہ بھرا ہوا ہو۔ بی بی سی نے حال ہی میں پاکستان میں گوگل انجن پر سرچ کی جانے والی شخصیات کا ڈیٹا پر رپورٹ شائع کی ہے جس سے ہماری ذہنی ابتری اور افلاس کی کیفیت کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کی کس قماش کے لوگوں کو لوگ فالو کرنا پسند کرتے ہیں۔

سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کی شاندار تصنیف لیڈرز پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے جس میں بین الاقوامی سیاسی لیڈروں کی سوچ اور اپروچ کا مطالعہ کرنے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔ سامراجی نظام چونکہ اب سرمایہ دارانہ نظام میں تبدیل ہو چکا ہے اور میڈیا سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے چنانچہ میڈیا کے ذریعے ایسے جعلی ہیروز کو پروموٹ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ سراب کے پیچھے دوڑتے رہیں اور آج کے جدید ہیروز اور ہیروئنز کی طرح پروقار اور عیش عشرت سے لبریز زندگی کا حصول ہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا بن جائے۔

دوسرے لفظوں میں اجتماعی تبدیلی کی بجائے انفرادی تبدیلی کے لئے جدوجہد اور کوشش ہی جدید سرمایہ دارانہ نظام کا فلسفہ حیات ہے۔ سوچنے اور سمجھنے والے دماغ سرمایہ دارانہ نظام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور یہ کام ”فری پریس“ کے ذمہ ہے کہ وہ لوگوں کی ذہن سازی کرے۔ عام آدمی کو روز مرہ کے مسائل میں اتنا الجھا کر رکھ دیا گیا ہے کہ مادیت کی دوڑ میں اس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں بانجھ ہو کر رہ گئی ہیں اور وہ معلومات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا اس کے باوجود کہ اس کو تجسس ہوتا ہے اور اس تجسس کو میڈیا اپنے انداز سے استعمال کر کے عام آدمی کی ذہن سازی کرتا ہے۔

اگرچہ سوشل میڈیا نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی معلومات کی نشرو اشاعت کے اجارے کو کسی حد تک چیلنج کیا ہے لیکن وہاں بھی قابل اعتبار مواد کی بجائے اکثر پروپیگنڈا پر مبنی مواد ہی ملتا ہے جو مزید ذہنی پراگندگی کا باعث بنتا ہے۔ آزاد میڈیا درحقیقت کتنا پابند ہوتا ہے اس کا اندازہ مشہور میڈیا ٹائیکون اور نیو یارک ٹائمز کے سابقہ ایڈیٹر جان سونٹن نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر کی جانے والی تقریر میں کچھ ان الفاظ میں کیا۔

”دنیا کی تاریخ کے اس موڑ پر امریکہ میں آزاد میڈیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔ آپ میں سے کوئی بھی دیانتداری سے اپنی رائے نہیں دے سکتا، اور اگر آپ دیانتداری سے اپنی رائے دیں گے تو آپ اس کے انجام سے بھی خوب واقف ہوں گے کہ آپ کی دیانتدارانہ رائے کبھی اخبار میں نہیں چھپے گی۔ مجھے ہر ہفتے اپنی دیانتدارانہ رائے کو منظر عام پر نہ لانے کی تنخواہ اس اخبار کی طرف سے دی جاتی تھی جس کا میں ملازم رہا ہوں۔

آپ لوگوں کو بھی اسی چیز کی تنخواہ ملتی ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی نے دیانتدارانہ صحافت کرنے کی بے وقوفی کی تو اگلے ہی لمحے وہ باہر گلیوں میں دوسری نوکری ڈھونڈ رہا ہو گا۔ اگر میں نے ضمیر کے مطابق لکھنا شروع کر دیا تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجھے اپنے پیشے سے فارغ کر دیا جائے گا۔ ایک صحافی کا کام سچ کو تباہ کرنا، سفید جھوٹ بولنا، رائے عامہ کا رخ موڑنا، بدنام کرنا، دولت کے قدم چومنا اور اپنی روزی روٹی کے لئے اپنے ملک اور اور قوم کو بیچنا ہوتا ہے، یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں، آزاد صحافت محض ایک ڈھکوسلا ہے ہم فقط کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈوریں کسی اور ہاتھ میں ہیں جو ہمیں جیسے چاہیں نچاتی ہیں۔

ہماری قابلیت، ہماری خواہشات اور زندگیاں کسی اور کی ملکیت ہوتی ہیں، ہم صرف بکاؤ دانشور (Intellectual Prostitutes) ہیں“ ۔ اس اقتباس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میڈیا حقائق کو مسخ کر کے صرف وہی حقائق دکھاتا ہے جو ان کے مالکان کے مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ سو اس پس منظر میں جعلی ہیروز کو ہیروز اور سیلیبرٹی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور میڈیا کے ذریعے انھیں پروموٹ کیا جاتا ہے۔ دن رات کی محنت سے فصل اگانے والا کسان اور ہاری یا کسی صنعت سے وابستہ ورکر ہیرو نہیں بلکہ عمدہ سوٹ پہنے اور خوبصورت گاڑیوں کا مالک جاگیردار جو شاید کبھی فصل کے نزدیک بھی نہ گیا ہوا یا کوئی سرمایہ دار اور ہٹے کٹے ارب پتی افراد معاشرے میں رول ماڈل اور ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

جس طرح برطانیہ کا شاہی خاندان جن کا کوئی کام نہیں لیکن بلین ڈالرز کی جائیداد رکھتے ہیں اور اس قماش کے دیگر لوگ ہمیشہ میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمائے کی قدر ہے نہ کہ محنت کی۔ آج جتنی امارت ہے اتنی تاریخ میں کبھی نہ تھی اور جتنی غربت اور استحصال ہے وہ بھی انسانی تاریخ میں کبھی نہ تھی۔ لوگ زندہ رہنے کے لئے اپنے گردے بیچتے ہیں، بچے بیچتے ہیں، یہاں تک کہ عزتیں بیچتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی منڈی میں ہر چیز نیلامی پہ لگی ہوئی ہے۔

یہ انسانی نہیں ایک وحشیانہ نظام ہے جس کو بدلنے کا واحد طریقہ سوشلزم ہے۔ غریب نوجوان جو اپنی محنت کے بل بوتے پر تھوڑی بہت ترقی کرتا ہے وہ ہیرو نہیں ہوتا بلکہ جعلی ڈگریوں کے مالک کسی رئیس یا کسی رئیس کے بیٹے کو معاشرے کا ہیرو بن کر پیش کیا جاتا ہے۔ محنت کش، فنکار اور ہنرمند طبقے کو موچی، نائی، مصلی، تیلی، کمھار، چوہڑا، درکھان، لوہار، چمار جیسے القابات سے کمی کمین کہہ کر ان کی تحقیر کی جاتی ہے جبکہ معاشرے کا استحصال کرنے والے کرپٹ، کام چور اور ظالم لٹیروں کو معاشرے کا باعزت شخص اور لیڈر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

کارپوریٹ نظام میں ہر چیز اپنی کمرشل ویلیو کے اعتبار سے پہچانی جاتی ہے اور یوں معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار بنتا چلا جاتا ہے۔ بقول معروف ڈرامہ نگار اور دانشور ڈاکٹر انور سجاد ”ہر زمانے میں دو قسم کے کمیٹڈ لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کہ طاقت کی غلام گردشوں کے غلام ہوتے ہیں اور دوسرے جزیرے کے اندر کھڑے ہوتے ہیں جنھیں اپنی زندگی، اپنی کمٹمنٹ اور اپنی سوچ کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے، اور ظاہر ہے جو طاقت کی غلام گردشوں کے غلام ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس وقت حکومت وقت کے حوالے سے سرفراز ہوتے ہیں اور دوسرے جو سامنے کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں ان کے لئے غربت، خراب صحت، اعصاب شکن بیماری اور مفلسی ہوتی ہے۔ وہ ان چیزوں کو سینے کے ساتھ لگا کے ساری زندگی بسر کرتے ہیں“ ۔ وہ ہمیشہ کمی کمین رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کمی کمین

  • 27/12/2023 at 2:10 شام
    Permalink

    Reading worthy

Comments are closed.