موت بانٹتی گنے کی ٹرالیوں سے کیسے بچیں؟


پاکستان چونکہ ایک ”آزاد ملک“ ہے اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی بھی پابندی کو آزادی کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین، قانون، اخلاقیات وغیرہ کو آزادی کی روح کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اب اگر آپ بزدل، تھڑدلے یا شریف آدمی ہیں اور قانون و آئین کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجانا ہی چاہتے ہیں تو اپ کو ”پاکستانی آزادی“ کے درمیان میں سے اپنے لیے عزت، صحت اور زندگی کی گنجائش خود ہی ڈھونڈنا پڑتی ہے۔

اب چونکہ سڑک پر ہر کوئی آزاد ہے کہ وہ جیسے چاہے جہاں چاہے گاڑی چلائے، سڑک کے درمیان کھڑی کر دے یا اپنی مرضی کا لوڈ لاد لے تو ایسی صورت میں آپ کو آزاد لوگوں سے اپنی غلامانہ زندگی کی حفاظت کے لئے کچھ احتیاطیں کرنا ہوں گی تاکہ آپ وہ معجزہ بپا کر سکیں جسے ایک غیر ملکی سیاح کے بقول پاکستانی سڑکوں پر خیریت سے گھر پہنچ جانا کہتے ہیں۔

ویسے تو یہ معجزہ ہم پورا سال خود بپا کیے رکھتے ہیں لہٰذا یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن دسمبر کے ان دنوں میں جب دھند بہت شدید ہو تو گنے کی ان بھیانک موت بانٹتی ٹرالیوں سے بچنا اصل معجزہ ہے جن کے پیچھے ”زندگی موت کی امانت ہے“ جیسے فقرے نہ دکھنے والی سیاہی سے واضح لکھے ہوتے ہیں۔ خاص طور ایسی صورت میں جب حکومت اور ٹریفک پولیس کے اہلکار اپنے پیاروں کے ساتھ ٹھٹھرتی سردی میں خواب خرگوش لے مزے لے رہے ہوں تو آپ کا اپنے پیاروں تک باحفاظت پہنچنا آپ کی ذاتی ذمہ داری اور ضرورت بن جاتی ہے۔ دھند کی صورت میں بالخصوص اور رات کی صورت میں بالعموم موت کے چنگل سے زندگی بچانے کو ان تجاویز اور احتیاطی تدابیر پر عمل کیجیے۔

1۔ سامنے سے آنے والے موٹر سائیکل کو کبھی موٹر سائیکل نہ سمجھیے۔ بہت زیادہ چانس ہیں کہ یہ ایک آنکھ والا ”کانا“ ٹریکٹر ہو گا۔ جب اپ اس کے قریب جائیں گے تو اندازہ ہو گا کہ ایک چھوٹی سی لائٹ کے پیچھے آٹھ فٹ چوڑا ٹریکٹر موجود ہے۔ مزید قرب پر اس اٹھ فٹے ٹریکٹر کے پیچھے دس فٹ چوڑی ٹرالی دکھائی دے گی اور اس دس فٹی ٹرالی کے اوپر تیرہ چودہ فٹ پھیلا ہوا گنا نظر آئے گا تو تب تک اچانک اس سامنے آئے پہاڑ سے اچانک کٹ کر کے بچنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ اس صورت میں نیچے کوئی کھائی یا درخت یا دیوار آپ کو گلے لگانے کو بے تاب ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال سے بچنے کے لئے بار بار ڈپر دیں۔ تجربہ کار ٹریکٹر ڈرائیور اپنی لائٹیں بند کر کے اپ کو اپنے پیچھے موجود پہاڑ کو دیکھنے کا موقع دے دیتے ہیں مگر یاد رکھیں یہ عموماً تجربہ کار نہیں ہوتے۔ لہذا بروقت مناسب جگہ پر رکنا یا کراس کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ قانونا ٹریکٹر کے مڈگارڈ پر لگی پچھلی لائٹ کا گنے کے اوپر پڑھنا چاہیے تاکہ سامنے سے آنے انے والی گاڑی کو ٹرالی کا حجم واضح نظر آئے۔

2۔ سڑک پر رات کو انڈیکیٹر یا ٹیل لائٹ کو ہی گاڑی سمجھا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ گاڑی خود ہی آپ کو نظر آئے۔ لہذا ٹیل لائٹ کا درست ہونا ازحد ضروری ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ گنے کی ٹرالی کے اوپر نہ تو عملاً کوئی ٹیل لائٹ موجود ہوتی ہے نہ ہی کوئی ریفلیکٹر۔ لہذا دھند میں آپ کو لگے گا کہ سڑک کے اوپر کوئی چیز موجود نہیں ہے جبکہ سڑک کے اوپر ایک بہت بڑا پہاڑ چیونٹی کی رفتار سے جا رہا ہوتا ہے۔ مدھم لائٹ کی صورت میں تو یہ آپ کو بالکل نظر نہیں آئے گا اور دھند کی صورت میں اونچی لائٹ آپ کو کچھ دیکھنے نہیں دے گی۔

لہذا واحد راستہ یہ ہے کہ اپ اپنی سپیڈ کم رکھیں اور وقتاً فوقتاً لائٹ کو مدھم اور فل کر کے دیکھتے رہیں۔ یاد رہے کہ ٹرالی کے اوپر قانونا رفلیکٹنگ سٹیکر یا ٹیل لائٹ اور انڈیکیٹرز کا ہونا لازم ہے اور ٹریکٹر کی نمبر پلیٹ کے ساتھ اس کے کنکشن کی ساکٹ بھی موجود ہوتی ہے۔ مگر ٹریکٹر ڈرائیور کو صرف کھیت کے اصولوں کا پتہ ہوتا ہے سڑک کے اصولوں کا نہیں۔ لہٰذا یہاں احتیاط آپ پر واجب ہے کیونکہ جان آپ کی داؤ پر لگی ہے۔

3۔ ون وے کی سب سے ٹاپ لین انتہائی سپیڈ والی گاڑیوں کے لیے ہوتی ہے لیکن گنے کے سیزن میں اس پر ٹرالیوں کا راج ہوتا ہے۔ لہذا ٹاپ لین کو دھند میں اوور سپیڈنگ کے لیے ہرگز استعمال نہ کریں۔ ٹریکٹر ڈرائیور عموماً ٹاپ لین کو پارکنگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور دھند کی صورت میں گاڑی کو یہاں کھڑا کر کے کسی قریبی ہوٹل میں کھانا کھانے، آرام کرنے یا تیل ڈلوانے کے لیے بھی چلے جاتے ہیں۔ اگر آگے مل یا سڑک بند ہو، ٹرالی کا دھرا ٹوٹ جائے، پہیہ پھٹ جائے (جو اکثر اوور لوڈنگ سے ہو جاتا ہے ) ، یا ٹرالی الٹ جائے تو ان کا یہ قیام کئی دنوں تک طویل ہو سکتا ہے۔

اس امکان اور ٹریکٹر ڈرائیورز کے آرام کو ہر صورت ذہن میں رکھیں بصورت دیگر خدانخواستہ آپ کی تیز رفتار بے آرام گاڑی ٹرالی کے نیچے ارام کرتی ہوئی پائی جا سکتی ہے جہاں اپ کی حیرت کے لیے کوئی ایک آدھ گاڑی پہلے بھی موجود ہو سکتی ہے۔ پولیس کو اس صورت میں یہ سہولت ہو جاتی ہے کہ ایک گاڑی کے لیے زحمت کرنے کی بجائے ان کی وہی محنت تین چار گاڑیوں کے لیے استعمال ہو جاتی ہے۔

4۔ اگر سڑک ٹو وے ہے یعنی ایک ہی سڑک پر آنے جانے والی ٹریفک ہے تو اپ سڑک کے بائیں طرف چلتے ہیں اور سامنے سے آنے والی ٹریفک دوسری طرف ہوتی ہے۔ یہاں ایک بہت بڑی پریشانی آپ کی منتظر ہو سکتی ہے۔ چونکہ ایسی سڑک درمیان میں سے اونچی اور دونوں طرف سے تھوڑی سی نیچی ہوتی ہے۔ گنے سے لدی ٹرالیاں جب کافی دیر تک بائیں چلتی ہیں تو ان کے اوپر لدا ہوا گنا کھسکتے کھسکتے بائیں طرف الٹنا شروع ہو جاتا ہے ایسی صورتحال میں مل تک پہنچتے ٹرالی الٹنے کے چانس بہت بڑھ جاتے ہیں۔

تجربہ کار ڈرائیور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹریفک کی جان لیوا اور بھیانک ترین خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ ٹرالی کو مخالف سائیڈ پر لے جاتے ہیں تاکہ ٹرالی دوسری طرف سے نیچے ہو اور گنے کا وزن بیلنس ہو جائے۔ ایسی صورت میں یاد رکھیں کہ سامنے سے آنے والی ٹرالی آپ کو رستہ دینے کے لئے دوسری طرف نہیں جائے گی اور جس قدر اس پہ لوڈ لدا ہوا ہے اچانک بریک لگانے پر وہ رک بھی نہیں سکے گی۔ اس صورت حال کو بروقت بھانپ کر آپ کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ اپ نے کیا کرنا ہے۔ ایسی صورت میں سپیڈ کم رکھنا ہی واحد حل ہے تاکہ اپ بروقت صورتحال کو سمجھ کر رسپانڈ کر سکیں۔ یہ رول اف تھمب بھی یاد رکھیں کہ عموماً ٹرالیاں سنگل سڑک کے عین درمیان میں چلتی ہیں تاکہ ان کا لوڈ دونوں طرف برابر رہے۔

5۔ بظاہر بے ضرر مگر حقیقتاً دوسروں کے لئے جان لیوا غلطی جو ٹرالی ڈرائیور کرتے ہیں کہ دو ٹرالیاں یا تین ٹرالیاں ایک ٹریکٹر کے پیچھے باندھ لیتے ہیں۔ اس صورت میں اوورٹیک کرنے والے صرف ایک ٹرالی سمجھ کر اوورٹیک کرتے ہیں اور پھر متوازی آ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ تو ایک ٹرالی نہیں پوری ریل گاڑی کو کراس کرنے کی سچوایشن میں آ گئے ہیں۔ اس صورتحال سامنے سے آنے والی روٹین رفتار گاڑی بھی ایک ہی ایک ٹرالی سمجھ کر آپ کو نکلنے کا موقع دیتی ہے۔

یوں اوورٹیک کرنے والی گاڑی کا سامنے سے آنے والی گاڑی سے آمنے سامنے ٹکرا ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں اوور ٹیکنگ اسپییڈ بہت زیادہ ہوتی ہے اور اچانک بائیں ہونے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی یوں دھند میں سامنے سے آنے والی گاڑی سے ہونے والے ٹکراؤ سے بچنا سب سے مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہاں رسپانس ٹائم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

یاد رکھیے آپ کی جان سب سے قیمتی ہے۔ قانون پولیس ریسکیو یہ سب اس وقت پہنچتے ہیں جب آپ غلطی کر چکے ہوتے ہیں۔ لہٰذا غلطی سے بچنا اپ کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر آپ دوسروں کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر کچھ اضافی ریفلیکٹر سٹکرز خرید کر اپنے پاس رکھیں اور جہاں کوئی گاڑی، کوئی ریڑھی، رکشہ موٹر سائیکل ٹیل لائٹ کے بغیر دکھائی دے تو درخواست کر کے اسٹیکر اس کے پیچھے چپکا دیں یا چوک پر کھڑے ٹریفک اہلکار کو دے دیں تاکہ وہ لگوا سکے۔ سڑک پر اصول ہے کہ ایک بھی غیر محفوظ ہو تو سب غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

شیئر کریں آگاہی پھیلائیں

Facebook Comments HS