بالی وڈ فلم ”مست میں رہنے کا“ اور پاکستانی کلچر
پاکستان اور اس کا ہمسایہ ملک جو ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب آبادی رکھتا ہے وہ دونوں اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک اس وقت ٹرانسفارمیشن آف کلچر کے بہت بڑے دور سے گزر رہے ہیں۔ لباس، لائف اسٹائل، رواج، کھانوں، زبان یہاں تک کے ادب و آداب کے طریقوں میں بھی بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ ہالی وڈ کے بعد بالی وڈ ہی دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے جہاں اس وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں۔ چونکہ اب بالی وڈ میں بھی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے اس لیے لگ رہا ہے اس انڈسٹری میں کام کرنے والے آٹھ لاکھ افراد میں سے پانچ لاکھ ورکرز آہستہ آہستہ بے روزگار ہو جائیں گے۔
بالی وڈ فلموں کے سیکوئل کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی سے نہ صرف چند سیکنڈز کے اندر اندر پوری فلم کا اسکرپٹ لکھوا لیا گیا بلکہ کچھ مناظر بھی اے آئی ٹیکنالوجی نے ہی بنا کر دے دیے جو فلموں میں شامل کر لیے گئے۔ (خیر۔ اب تو اپنے پیارے ملک پاکستان اور بالی وڈ فلمیں بنانے والے ملک میں یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز اے آئی ٹیکنالوجی سے لکھوائے جا رہے ہیں۔ رہ گیا Google Plagiarism Checker تو یار لوگوں نے ڈیپ ٹیکنالوجی مارکیٹ سے آنے والے سافٹ ویئرز سے اس کا بھی توڑ کر لیا ہے۔
AI Anthropic, AI LLAMA, AI Chatbot, AI Gemini
وغیرہ سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کا لکھوایا ہوا تھیسز
Google Plagiarism Checker
میں پوسٹ کر کے ساتھ ڈیپ ٹیکنالوجی سافٹ وئیر کو منسلک کر دیتے ہیں۔ وہ ملتے جلتے الفاظ اور فقروں کو ری رائٹ پہ لے جا کر متبادل الفاظ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اب پی ایچ ڈی کی بنا پر بڑے عہدے پہ جاب لو، اگلے گریڈ میں ترقی لو اور تنخواہ بڑھوا لو۔ بازار میں آواز لگ رہی ہے ”آؤ باجی! آؤ بھائی! آپ کو دو ہزار روپے میں پی ایچ ڈی سکالر بنا دیں صرف دو ہزار روپے میں“ ۔ خیر۔
اگر میرے اس بلاگ کی باز گشت بالی وڈ فلموں کے ڈائریکٹرز تک پہنچ جائے تو ان سے عرض ہے کہ آپ بھی لکیر کے فقیر کے ہیں۔ پرانی فلموں کی طرح نئی فلموں میں بھی ہر ہیرو کو کسی ایک شہر سے بمبئی کا سفر کرنا دکھاتے ہیں۔ آپ کی طرف سے کوئی جدت تو نہ ہوئی۔ دوسرا گالی کلچر فلموں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں متعارف کرا رہے ہیں یہاں تک کہ اب پاکستان میں بھی ”وڑ گیا“ والی زبان سوشل میڈیا اور سیاستدانوں کی گفتگو میں آ گئی ہے تاہم آپ اپنی فلموں کے ذریعے جو ”کتا کلچر“ متعارف کرا رہے ہیں وہ جنوبی ایشیا کے عام آدمی کو ذہنی اذیت اور سٹریس میں مبتلا کر رہا ہے۔
فلم ”مست میں رہنے کا“ میں بھی ہیرو اپنے چھوٹے شہر میں ناکام ہونے کے بعد بڑے شہر غالباً بمبئی کا رخ کرتا ہے جہاں دولتمند لوگ پالتو کتے رکھنے کے شوق میں مبتلا ہیں۔ ہیرو بے روزگاری سے تنگ آ کر دولت مندوں کے کتے پارک میں روزانہ لے جا کر ٹہلاتا ہے جس سے اسے تھوڑے بہت پیسے مل جاتے ہیں۔
خاص طرح کے فیس ایکسپریشنز دینے والا یہ ہیرو جسے سرائیکی اور پنجابی زبانوں میں عام طور پہ بونگا کہا جاتا ہے اس کی دوستی بھکاری کم چور زیادہ گروہ کی ایک بھکارن سے ہو جاتی ہے۔ ویسے پنوار تو اپنے بہاول پور، ملتان اور سندھ میں بھی بہت رہتے ہیں لیکن یہ شرفاء اور مہذب لوگ ہیں۔
کتا کلچر سے یاد آیا، راقم کو بہاول پور شہر سے اپنے گاؤں چندی پور جانا تھا۔ رینٹ اے کار منگوائی۔ سلفر مزاج باتونی ڈرائیور صاحب ترنگ میں آئے تو کہنے لگا یہ جو بہاولپور شہر کا فلاں بڑا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے نا وہی جس نے کافی ساری زرعی جائیداد اور کئی بنگلے اور پلاٹ بنا لیے ہیں، اس کا بیٹا بھی ڈاکٹر ہے وہ اپنے پالتو جرمن کتے کا دیوانہ ہے۔ اس کی گاڑی اس کی بیوی لے گئی تھی۔ کتا بیمار ہو گیا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر کو بھی کھانا پینا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ کتوں کا علاج کرنے والا مشہور ویٹرنری ڈاکٹر لاہور میں بیٹھا تھا۔ مجھے پچاس ہزار روپے گاڑی کا رینٹ دیا اور کتے کو لاہور لے گئے۔ دوچار دفعہ لے جانا پڑا۔ کتے کے علاج پہ چھ لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔
بھائیو فلمی ڈائریکٹرو! آپ کی فلموں کے زیر اثر بہاول پور میں لوگوں نے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں بھی پالتو کتے رکھنا شروع کر دیے ہیں جو گلی میں گزرنے والے لوگوں پہ چھت سے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمسائے بھی بہت تنگ ہیں۔ راقم بہاول پور کے ایک نئے ٹاؤن میں کسی دوست سے ملنے گیا تو ہمسایہ میں کسی ایڈوکیٹ کا پانچ مرلہ کا گھر ہے اور گیٹ تک کورڈ ہے وہاں گیراج سے کتے کے زور زور سے بھونکنے کی آواز پوری گلی میں گونج رہی تھی۔ پورا محلہ تنگ تھا۔ کسی صاحب سے میں نے کہا آپ لوگ عدالت کیوں نہیں چلے جاتے۔ وہ طنزاً ہنسا اور کہنے لگا اس ایڈوکیٹ کے پیچھے وکلاء کی بار ایسوسی ایشن کھڑی ہے۔ کیا جج ہماری سنے گا؟ میں نے کہا آپ بدگمانی نہ رکھو۔ اچھے جج بھی موجود ہیں جو انصاف کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔ خیر۔
افریقہ، چین، عرب ممالک، پاکستان اور پاکستان کے ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب آبادی رکھنے والے ہمسایہ ملک میں قبائلی اور دیہاتی علاقوں میں کچھ جگہوں پہ سگے باپ اور سگے بھائی اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اس طرح فروخت کرتے ہیں جیسے کسی گائے یا بکری کو فروخت کیا جاتا ہے اور بہت سارے کیسز میں اس فروخت شدہ لڑکی کا اپنے میکے سے ہمیشہ کے لیے رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔
سوات کی ایک عورت بیوہ ہوئی، بچے بھی بڑے بڑے تھے۔ اس کے بھائیوں نے اسے بہاول پور کے ایک شخص کے ہاتھوں قسطوں میں فروخت کر دیا۔ ٹوٹل ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا ہوا۔ ستر ہزار روپے ایڈوانس لے لیے اور قسطیں پوری ہوئیں تو بغیر نکاح اور شادی کے اس مرد کے حوالے کر دیا۔ اس شخص کچھ عرصہ اپنے پاس رکھ کر بدر شیر کچی آبادی کے ایک کباڑیے کو بیچ دیا جو ریڑھی پہ گلی گلی جا کر کباڑ خریدتا ہے۔ اس عورت نے بتایا کہ ان کے قبائلی علاقوں میں بھائی اپنی بہنوں کے شناختی کارڈز اس لیے نہیں بنوانے دیتے کہ کل کو عدالت جا کر جائیداد میں حصہ نہ مانگ لیں۔ مولوی نے شرعی نکاح پڑھا دیا۔ دو بچے بھی پیدا ہو گئے۔
کباڑیے کا دل کسی اور عورت پہ آ گیا تو دوسری عورت کے کہنے پہ اس سوات والی کو طلاق دے دی اور کہا بچے چھوڑ کر نکل جاؤ۔ اب کہتی ہے سوات واپس گئی تو دوبارہ کسی کو بیچ دیں گے۔ بیچاری در بدر ہو گئی ہے۔ بہاول پور کا ایک شخص چترال سے ایک لڑکی خرید کر لایا۔ سیٹلائٹ ٹاؤن بہاول پور میں رہتے تھے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کے باپ اور بھائیوں نے اسے سات لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ بعد میں یہ جوڑا اسلام آباد شفٹ ہو گیا۔
اس بلاگ کے ذریعے ہالی وڈ، بالی وڈ، لالی وڈ اور نالی وڈ (نائیجیریا) فلم ڈائریکٹرز سے ایک گزارش کرنا ہے کہ آپ اس موضوع پہ بھی فلمیں بنا کر عوام کا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں کہ بیٹیاں بھی اولاد ہوتی ہیں ان کو گائے بکری کی طرح فروخت نہ کریں۔


