سورہ رحمٰن سے دل کی بیماریوں کا علاج اور میرے محلے کا مولوی


گزشتہ دنوں ”ماہر دین و دنیا“ ساحل عدیم کا ایک کلپ نظروں سے گزرا، جس میں وہ ارشاد فرما رہے تھے۔

” سورہ رحمٰن میں دل کی تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے مگر ایک خاص قاری کی مخصوص قرات کے ساتھ ہوتا ہے“

اس کے علاوہ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اب تو سائنس کو بھی اس حقیقت کا پتا چل چکا ہے کہ سورہ رحمٰن دل کی بیماریوں کو دور کرنے کے لیے نافع ہے۔

ان کی اس قسم کی گفتگو سن کے مجھے اپنے محلے کا مولوی یاد آ گیا جو ہر صبح فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو مشکلات سے بچنے کے وظائف و تسبیحات بتاتا رہتا ہے، مختلف بیماریوں سے محفوظ رہنے کے وظائف، بچیوں کے رشتوں کی بندش اور کاروباری رکاوٹ کو دور کرنے کی تسبیحات وغیرہ بتانا اس کا روزانہ کا معمول ہوتا ہے۔

مسجد کی انتظامیہ بیچارے کو تنخواہ بہت کم دیتی ہے، ایک دن فجر کی نماز پڑھانے کے بعد کھڑا ہو گیا اور نمازیوں کو ایک لمبا چوڑا لیکچر جڑ دیا کہنے لگا۔

” جناب میرے آٹھ بچے ہیں اور جو تنخواہ آپ مجھے دیتے ہیں وہ تو بہت کم ہے یا تو میری تنخواہ بڑھائیں یا پھر میں آپ کو ایک کلیہ بتاتا ہوں اس کے مطابق میرے ساتھ معاملات کریں“

مقتدیوں نے کہا قاری صاحب حکم کریں۔

فرمانے لگے کہ جب ہم جمعرات کی جمعرات مسجد و مدرسہ کے لیے چندہ وغیرہ اکٹھا کرتے ہیں تو ساتھ میں ہی میری خدمت کے لیے بھی فی گھر 500 روپے مختص کر لیں تاکہ میرا گزر بسر اچھا ہو سکے اور میری فیملی کی ضروریات بھی اچھے سے پوری ہو سکیں۔

پوچھنے والے نے پوچھ ہی لیا کہ حضور والا! آپ روزانہ تو ہمیں قرض سے محفوظ رہنے اور امیر بننے کے وظائف بتاتے رہتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اگر آمدن تھوڑی بھی ہو تو فلاں تسبیح پڑھ لیا کریں تھوڑی سی آمدن میں بھی کثرت ہو جاتی ہے تو حضور پوچھنا یہ تھا کہ جناب کے حالات پر کیا یہ سب وظائف اثر نہیں کرتے؟

ان وظائف کے پڑھ لینے کے بعد آپ کا رزق کشادہ کیوں نہیں ہوتا؟ آپ کی تھوڑی سی آمدن میں کثرت کیوں نہیں ہوتی؟ آپ خود ہی تو فرماتے ہیں کہ بچے آسمان سے اپنا رزق خود لے کر آتے ہیں تو پھر آپ کا رازق پر بھروسا اتنا ناقص کیوں؟

اور اگر وظائف و تسبیحات سے ہی تمام بلائیں و آفات اور مشکلات دور ہو جاتی ہیں تو پھر آپ تو ماشاءاللہ حافظ قرآن ہیں اور پورا قرآن آپ کے سینے میں محفوظ ہے تو پھر بھی آپ دو ٹکوں کے لیے ہم ایسوں کے اگے ہاتھ پھیلاتے رہتے ہیں اور ہر دوسرے دن ڈاکٹروں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں کیوں جناب؟ تھوڑا رہنمائی فرمائیں کہ آخر یہ چکر کیا ہے یہ سب گورکھ دھندا کیا ہے؟

ہمیں تو آپ وظائف پڑھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں اور آپ کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ان تسبیحات کا ورد کرنے کے بعد آپ امیر ہو جائیں گے اور خود تنخواہ بڑھانے اور کچھ ایکسٹرا مالی تعاون کی بھیک ہم سے مانگ رہے ہیں یہ تو کھلا تضاد نہیں؟ اب سوال تو سارے معقول ہیں مگر جواب کون دے بھائی؟ مولانا صاحب خاموش، جواب دینے کی بجائے وہی رٹ کہ میری تنخواہ بڑھاؤ اور میرے لوازمات زندگی پورے کرو۔ ساحل عدیم بھی کچھ اسی قسم کے دعوے فرما رہے ہیں کہ ایک خاص قاری کی خاص قرات سے دل کا علاج ہو سکتا ہے۔ بھائی اس دعویٰ کے ساتھ یہ بھی بتا دو کہ وہ خاص قاری کہاں سے ڈھونڈیں جو خاص قرaت کے ساتھ دل کی بیماریوں کا علاج کرے؟

تاکہ آپ کی رہنمائی سے انسانیت کا بھلا ہو جائے اور کرہ ارض سے دل کے ہسپتالوں کا نام و نشان ہی مٹ جائے۔

غریب غرباء جو بیچارے دل اور بلڈ پریشر کی میڈیسن افورڈ نہیں کر سکتے سکھ کا سانس لیں اور آپ کو جی بھر کے دعائیں دیں۔

لگے ہاتھوں ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ سائنس کو کیسے پتا چلا کہ اس سورہ میں شفا ہے اور اس کے متعلق جامع تحقیق سائنس کی کس ویب سائٹ پر دستیاب ہے؟

کیا اس تحقیق کے متعلق کوئی پئیر ریویو یا سائنسی اذہان کی کوئی تصدیق بھی موجود ہے؟ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ساحل عدیم کی اتنی زبردست تحقیق بارے مولانا طارق جمیل بے خبر رہے، ممکن ہے انہیں اس تحقیق کا پہلے سے پتا ہوتا تو شاید انہیں کینیڈا سے سٹنٹ ڈلوانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور وہ کافروں کے دیس سے علاج کروانے کی ہتک سے بھی بچ جاتے۔

کیا مولانا کو عجوہ کھجوروں کی برکات کا نہیں پتا تھا؟

کووڈ 19 کو دیکھ لیجیے جو پوری دنیا میں لاکھوں لاشیں بچھا کے چلا گیا، جس کے نتیجے میں مسجد، مندر، گرجے سناگوگ حتی کہ سعودی عرب نے بھی حرم مقدس جانے تک پر پابندی عائد کر دی تھی۔

دعا و مناجات کے باوجود بھی کووڈ کا علاج ویکسین سے ہی ممکن ہو پایا جس سے بلا تفریق ہر مذہبی و غیر مذہبی کو چار و ناچار مستفید ہونا پڑا۔ انسانیت کو بچانے کی یہ توقیر اور عزت بھی انہی کافروں کے حصے میں آئی جن کے متعلق ہمارا ٹھوس اور متفق علیہ موقف ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

اب اس میں جلن کیسی جناب؟ ہماری مذہبی تشریحات کے مطابق تو یہی اصول ہے نا!
وتعز من تشاء و تزل من تشاء
”بے شک وہی عزت دیتا ہے اور وہی ذلت“
ہاں ہمیں جلن اس بات پر ضرور ہونی چاہیے کہ انہیں قدرت کی یہ عزت و پذیرائی مسلسل کیوں مل رہی ہے؟

وہ کافر ہونے کے باوجود بھی مسلسل انسانی سہولیات میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ قطع نظر اس حقیقت کے کہ انہیں اس کا اجر کیا ملے گا؟ جنت نصیب ہوگی یا جہنم؟

بس لالچ و خوف سے بے نیاز انسانیت کے بھلے میں لگے ہوئے ہیں۔

ہمارے مذہبی طبقے میں عملی لحاظ سے اس سے بڑا تضاد کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں دنیا بیزاری پہ لگا کر خود کی دنیا سنوارنے پر لگے ہوئے ہیں۔ آخرت تو پہلے ہی ان کی اپنی ہے بھائی۔

میری خود کی ابتدائی تعلیم مدارس کی ہے اور میرے حلقہ یاراں میں ایک اچھی خاصی تعداد مذہبی طبقے کی ہے جو دنوں میں ککھ پتی سے لکھ پتی بن چکے ہیں، نا تو ان کی آخرت کا کچھ بگڑا اور دنیا کے تو خیر وارے نیارے ہو ہی گئے۔ دینداری بھی خوب کرتے ہیں اور دنیا داری بھی۔

Facebook Comments HS