اسلام میں خدا کا تصور: ابتدائیہ


 خدا کا تصور انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی موجود ہے۔ تاریخ میں شاید ہی کوئی معاشرہ خدا کے تصور سے خالی رہا ہو۔

خدا کی فطرت کیا ہے؟
یہ کسی خاص مذہب کے عقیدہ کے ساتھ کیسے مطابقت رکھتی ہے؟
کیا ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ خدا موجود ہے؟
کچھ نہیں کے بجائے کچھ کیوں ہے؟
کیا ایسا ہو سکتا تھا کہ یہ کائنات موجود نہ ہوتی؟

یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کے لیے ہر دور میں انسان بے چین رہا ہے۔ یہ تڑپ آج تک جاری ہے۔ ان سوالات کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ان کے تسلی بخش جوابات ملنا انسانوں کے لیے بہت مشکل، بلکہ ناممکن، رہا ہے۔

اس مضمون کا مقصد مضامین کی اس سیریز کا تعارف کرانا ہے جس میں، میں خدا کی فطرت کے بارے میں تاریخی دلائل اور اسلامی افکار کے دائرہ کار میں اس کے وجود کے ثبوت اور نوعیت کے موضوع پر بحث کروں گا۔

اسلام، یہودیت اور عیسائیت کی طرح ایک ابراہیمی مذہب ہے۔ ان مذاہب کی خاصیت ایک ایسے خدا پر یقین ہے جو ابدی ہے، کائنات کی ہر چیز کا خالق ہے، اور تمام جانداروں، خاص طور پر انسان، کی تقدیر کا مالک ہے۔ اسلام ایک توحید پرست مذہب ہے جس کا پیغام آفاقی ہے۔ اسلامی عقیدہ کا سب سے اہم حصہ 610 عیسوی سے 632 عیسوی تک 23 سال پر محیط پیغمبر محمد (ص) پر الہامی وحی ہے۔ الہامی وحی کا مجموعہ قرآن کی شکل میں موجود ہے۔

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں خدا کی نوعیت، قرآن کے معانی اور تفسیر، اور الہام کی نوعیت پر گفتگو کا سب سے نمایاں پہلو بحث کی فلسفیانہ نوعیت ہے۔ اسلام کی موجودہ رجعت پسند حالت میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایک وقت تھا جب اسلام سے متعلق ان بنیادی سوالات کے جوابات میں عقلیت سے کام لیا جاتا تھا۔ خدا کی نوعیت کے بارے میں سوال کرنے والے پہلے مسلمان فلسفی الکندی تھے جو اٹھ سو عیسوی میں پیدا ہوئے اور آخر میں ابن رشد تھے، جو بارہویں صدی کے اہم ترین فلسفی تصور کیے جاتے ہیں۔ خدا کی نوعیت کے بارے میں اس بحث میں اہم ترین فلسفیوں میں الفارابی، ابن سینا اور الغزالی شامل ہیں۔

یہ سب فلسفی خدا کی فطرت اور کائنات کی تخلیق کے حوالے سے مختلف نتائج پر پہنچے۔ مثال کے طور پر، الکندی نے فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات محدود ہے اور ابدی نہیں ہے۔ ابن سینا، اسی طرح کے فکری دلائل کا استعمال کرتے ہوئے، اس کے برعکس نتیجہ پر پہنچے کہ کائنات لامحدود اور ابدی ہے۔ تاہم ان سب فلسفیوں میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ سب قرآن کی بالادستی کے قائل تھے اور اس کو خدا کا کلام مانتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فلسفیانہ نظریات پر مبنی خدا کا تصور مقدس متن میں بیان کردہ خدا کی خصوصیات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

مسلمانوں کا سب سے بنیادی عقیدہ خدا کی وحدانیت ہے۔ اسلام کے فلسفیوں نے قرآنی نظریات کی روشنی میں واحد خدا کی موجودگی کے ثبوت پیش کیے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ کائنات خدا کی پیدا کردہ ہے۔ تاہم، ان کے مطابق، الوہیت کائنات کے چلانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے انسانی معاملات میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی ہے۔ ان کے مطابق کائنات کو قوانین فطرت کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔

فلسفیانہ تحریک خدا کے وجود اور تخلیق اور کائنات کے چلانے کے بارے میں سوالات کو حل کرنے والی واحد تحریک نہیں تھی۔ مسلم معاشرے میں ایک سوچ یہ بھی تھی کہ ان بنیادی سوالات کو حل کرنے کے لیے عقلی نقطہ نظر کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کیا جانا چاہیے۔ دو اور اہم مکاتب فکر تھے۔ ایک طرف اشعری روایت کے مطابق، خدا کی براہ راست مداخلت کے بغیر کوئی چیز حرکت نہیں کر سکتی اور ارتقا پذیر نہیں ہو سکتی۔ یہ روایات عقلیت کے خلاف تھیں۔

وجہ اور اثر کا تعلق، جو کہ عقلی سوچ کی بنیاد ہے، اشعری فکر میں قابل قبول نہیں تھا۔ مثلاً یہ ضروری نہیں کہ اگر آگ کو کسی کپڑے کے پاس لایا جائے تو ہمیشہ نتیجہ کپڑے کا جلنا ہو گا۔ اشعری عقائد کے مطابق اگر خدا چاہے تو کپڑا نہیں جلے گا۔ دوسری اہم تحریک صوفیانہ سوچ کی ترویج تھی۔ ان روایات میں غور و فکر کے ذریعے انسان براہ راست خدا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

”اسلام میں خدا کا تصور“ کے نام سے بارہ یا تیرہ مضامین کی اس سیریز میں، میں عالم اسلام کے اندر ان اہم موضوعات پر فکر کے ارتقاء کو پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ مضامین یوں تو اسلام کی ابتدائی تاریخ میں خدا کے تصور کو بیان کریں گے لیکن ان سے یہ سمجھنے میں بھی مدد ملے گی کہ وہ کیا حالات تھے جب مسلمان ایک سائنسی اور فلسفیانہ سوچ سے محروم ہوتے چلے گئے۔ میرے نزدیک یہ ہی ان مضامین کے لکھنے کا مقصد ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بنیادی سوالات کا جواب دینے کے لیے مسلمانوں کے فلسفیانہ نقطہ نظر نے بعد میں موسیٰ میمونائیڈس ( 1204۔ 1138 ) ، تھامس ایکیناس ( 1225۔ 1274 ) اور دیگر کے کاموں کے ذریعے خدا کے بارے میں یہودی اور عیسائی افکار کو متاثر کیا۔

آٹھویں صدی فارسی اور بازنطینی سلطنتوں پر مسلمانوں کی حکومت کی صدی تھی۔ یہ سلطنتیں 630 کی دہائی میں حضرت عمر کی خلافت کے دوران فتح ہوئیں اور اموی دور حکومت میں اس میں توسیع ہوئی۔ اموی حکومت کا خاتمہ 750 عیسوی میں ہوا جب عباسیوں نے ایک خونریز تصادم کے بعد اقتدار سنبھالا۔ اس عرصے کے دوران، پیغمبر اسلام کی پہلی مسلسل تاریخ محمد ابن اسحاق ( 704۔ 767 ) نے آٹھویں صدی کے آخر میں لکھی تھی۔ اس دور کا ایک اور بڑا واقعہ یہ تھا کہ اسلامی فقہ کی بنیاد جعفر الصادق ( 702۔ 765 ) ، ابو حنیفہ ( 699۔ 767 ) ، مالک بن انس ( 711۔ 795 ) ، ابن الشافعی ( 767۔ 820 ) ، اور احمد بن حنبل ( 780۔ 855 ) کے قابل ذکر کاموں کی وجہ سے ڈالی گئی۔

ابتدائی عباسی دور میں علم کی پیاس اتنی بڑھ گئی تھی کہ مشہور عباسی خلفاء ہارون الرشید اور ان کے ہونہار بیٹے مامون الرشید کی قیادت میں ترجمے کی ایک مکمل تحریک چلائی گئی۔ ابتداء میں، فلکیات، طبیعیات، ریاضی، فلسفہ اور طب سمیت ہر قسم کے مضامین پر کتابیں چین، ہندوستان، فارس اور یونان جیسے دور دراز مقامات سے بغداد میں نئے قائم کردہ بیت الحکمہ (حکمت کا گھر) میں لائی گئیں۔ اور ان کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ اسلامی سنہری دور کا آغاز تھا جو چار سو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ میں اس دور کے ارتقا اور زوال کے بارے میں مضامین لکھ چکا ہوں۔

مسلم فلسفیانہ فکر کے ارتقاء پر یونانیوں کے اثرات بہت زیادہ تھے۔ افلاطون اور ارسطو کو یونانی فلسفے کی اہم ترین شخصیات شمار کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں شخصیات دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے انتہائی با اثر رہی ہیں۔ ان کا اثر آج بھی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی دنیا میں خدا کی فطرت کو سمجھنے کی فلسفیانہ کوششوں کو سمجھنے کے لیے افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔

اس سیریز کے سب سے پہلے مضمون میں، میں ان یونانی فلسفیانہ افکار کا جائزہ پیش کروں گا جنہوں نے خدا اور کائنات کے بارے میں اسلامی سوچ کو متاثر کیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy

One thought on “اسلام میں خدا کا تصور: ابتدائیہ

  • 27/12/2023 at 9:30 صبح
    Permalink

    امام غزالی کو فلسفی شمار کیا جا سکتا ھے؟ غزالی تو فلسفے پر عقیدے کو ترجیح دیتے تھے۔ عقیدہ جامد فکر ھوتی ھے جبکہ فلسفہ آزادانہ غوروفکر پر یقین رکھتا ھے۔ غزالی چاہتا تھا کہ فلسفے کو عقیدے کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جاے جو ظاہر ھے بنیادی فلسفیانہ فکر سے مطابقت نہیں رکھتا۔

Comments are closed.