بہروپیے کا المیہ

ریاست کی بہترین تعریف اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ۔ ”ریاست در حقیقت منظم انسانوں کی اجتماعیت ہی کا نام ہے“ تو پھر یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک مدت طویل تک ان کو بے وقوف بنا کر رکھا جائے۔ کروڑوں انسانوں کے گلے میں چند خاندانوں کی غلامی کی زنجیر ڈال دی جائے۔ مفاد پرستوں کے ہاتھوں ان کی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیا جائے۔ ریاست کے محنت کشوں کی روزی روٹی کا فیصلہ کاروباری اجارہ داروں کے منشیوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے، لیکن نام نہاد دیوتاؤں کی بیہودگیوں کا یہ سلسلہ ہمیشہ نہیں چل سکتا۔
المیہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ مٹھی بھر لوگ ہوتے ہیں جنہیں عوام پر اپنا تسلط قائم رکھنے، ریاست کو اپنی جاگیر سمجھ کر رعب اور دبدبہ ڈالنے کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے۔ ان کے لئے سب سے خطرناک چیزوں میں ایک تو وہ انسانی شعور ہوتا ہے جس کی روشنی سے عوام کو حکمران طبقے اور اپنے حقوق و فرائض سے آگاہی اور واقفیت ہو جائے۔ دوسری خطرناک چیز حکمران طبقے کے سامنے حقوق کی آواز بلند کرنے کی روایت ہے۔ اپنے حقوق کے لئے کسی خطرے کے پیش نظر دبی دبی زبان میں گستاخی حرف شکایت کی بھی محال ہوتی ہے۔
لیکن جبریت کے طویل دور میں خاموشی اور بزدلی کے جمود کو توڑنے والے ماورائے عقل و خرد ایسے افراد بھی سامنے آتے ہیں جو اپنے سماج کے انسانوں کی بڑی اجتماعیت کی خاطر ہر دکھ اور تکلیف سے گزر جانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لئے ان کی آواز جب اٹھتی ہے تو وہ آواز مدھم، سرسری اور بے جان نہیں ہوتی یہ اتنی بلند ہوتی ہے کہ آسمان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے کا پورا سماج ان کا ہم آواز اور ہم قدم ہوجاتا ہے۔
معاشروں کی تاریخ میں یہ ہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرہ ذہنی اور عملی طور پر بلندی پہ پرواز کرتے ہوئے عقاب کی مانند ارتقائی کروٹ لیتے ہوئے جھپٹنا سیکھتا ہے۔ اور یوں صورت حال نہ چاہتے ہوئے لاکھ رکاوٹوں کے باوجود بھی حکمراں طبقے کی خواہشات کے بالکل الٹ ہوجاتی ہے۔ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں ان کی بددیانتی، خیانت، اجارہ داریوں اور نا اہلیوں کو جان بوجھ کر یا بے وقوف بن کر در گزر کرنے والے عوام کی برداشت ختم ہوجاتی ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ سماج کے سیدھے سادھے عام لوگ بھی اپنے وجود کی اہمیت کو منوانے اور اپنے حق اور حقوق کی جنگ لڑنے پر اتر آتے ہیں۔
عوام کو یہ شعور آتے آتے دیر تو لگتی ہے مدتیں اپنے حقوق اور اپنے وجود کی طرف سے بے پرواہ ہو کر رہنے میں گزر جاتی ہیں لیکن اس درمیانی عرصے میں حکمران طبقہ خواہش اقتدار کے ہاتھوں اس قدر مغلوب ہوتا ہے کہ تخت اقتدار سے محرومی ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ نظام جمہوریت کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ فرد چاہے وہ کوئی بھی ہو عوام میں مقبول ہو یا غیر مقبول شوق حکمرانی کا موقع جمہوریت اسے پوری ایمانداری سے فراہم کرتی ہے اور ایمانداری کا تقاضا بھی یہ ہی ہے کہ اس کھیل کو جمہوری اصولوں کے دائرے میں رہ کر کھیلا جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ملک کی کوئی ایک جماعت ایسی نہیں بغیر بیساکھیوں کے جس نے شوق حکمرانی پورا کیا ہو۔ لیکن نتیجہ ان سب حماقتوں کا بھگتنا ہمیشہ عوام ہی کو پڑا ہے۔ ہر چند کہ عوام سے اگر رتی بھر بھی ہمدردی ہے تو پھر تاج حکمرانی سر پہ رکھنے کا شوق بنا بیساکھیوں کے بھی تو پورا کیا جا سکتا ہے۔
قدیم ہندی کہاوت ہے کہ : دھی بیٹی پیا یعنی شوہر کا گھر چھوڑ کر پتا کے گھر راج بھی کرے تو دنیا اس پر کلنک لگائے گی انگلیاں بھی اس پر اٹھتی رہیں گی اور اگر شوہر کے گھر میں لونڈی بھی بن کر رہے گی تو کسی کو اس پہ ہنسی نہ آئے گی۔ شفاف طریقے سے اگر شکست بھی ہو گئی تو اس میں بھی ایک عزت ہوگی لیکن غیر آئینی اور غیر شفاف طریقے سے عوام کی توقعات اور امنگوں کے بر عکس غیر مقبول اور نا پسندیدہ لوگوں کو حکومت اگر مل بھی گئی تو وہ حکومت عوام کی نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسی حکومت پر عوام کو اعتماد ہو گا۔
اور پھر بالخصوص وہ طبقہ جسے متعدد بار حکومت کے بھر پور مواقع مل چکے ہوں اور اس کے باوجود بھی عوام میں مقبول اور قابل قبول نہ ہو سکا تو اس میں قصور کسی اور کا نہیں بلکہ سراسر ان کا اپنا ہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت کرنے کے جتنے مواقع جب تک نصیب ہوئے ان کو کافی غنیمت سمجھا جاتا اور اقتدار کی بازی کو اپنی ذات اور اعتماد کے دم پر کھیلا جائے۔ لیکن حیرت اور ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ حکومتوں کے بارہا تجربات کے بعد بھی آج حالت یہ ہے کہ بنا بیساکھیوں کے دو قدم چلنے کا بھی خود پر اعتماد نہیں۔ لیکن ایسی نیک خواہشات کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ حالیہ دور جدید کا با شعور ووٹر ہے جس کے ہوتے ہوئے انسانوں کی بڑی اجتماعیت کو چند امرا ء اور اشرافیہ کے ہاتھوں میں کھلونا بنا کر رکھنے کی مزید گنجائش اب باقی نہیں رہی۔
مطلق العنانیت ہو یا آمریت یا پھر حکومتوں کا ہر وہ انداز جس سے آمریت کی بدبو آتی ہو اب کسی صورت قابل قبول نہیں رہا۔ ظلم وہ ہی نہیں ہوتا جو کسی بیرونی حملہ آور کی بربریت سے منسوب ہو۔ ظلم جیسا بھی ہو اور ظالم کی صورت چاہے ایک جیسی نہ ہو اور ظلم کی نوعیت بھی کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو، حتی کہ عقائد بھی ان کے ایک دوسرے سے الگ اور اختلاف بھی ان میں لاکھ ہوں لیکن ان میں ایک یہ ہی بات مشترک ضرور ہوتی ہے کہ ان کا شمار ظالمین میں ہی ہوتا ہے، ان کے مفادات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ان کے گٹھ جوڑ ان کی مشاورت ان کی طاقت اور دولت انسانوں کی بڑی اجتماعیت کے خلاف ان پر اپنی اجارہ داری اور اپنی حاکمیت کی دھاک بٹھانے کے لئے ہوتی ہے۔ دور حاضر کی انسانی اجتماعیت میں اب فقط ایسی حکومت کو ہی برداشت کر سکتا ہے جو حقیقتاً عوامی ہو اور عوام کے سامنے جواب دینے کی پابند بھی ہو۔
سیدھی اور سمجھنے والی بات اتنی سی ہے کہ محرومیوں، ذلتوں اور نا انصافیوں کے مارے مظلوم انسان کہ جن کا مقدر سوائے غلامی اور بے عزتی کی زندگی کے اور کچھ نہ تھا اب وہ بہ ضد ہو چکے ہیں کہ زمام حکومت اب ان کے ہاتھ میں ہو۔ ان کی نسلوں کے حال اور مستقبل کا فیصلہ ان ہی کی مرضی سے تعین ہو۔ ماضی کے دریچے میں ایک نظر جھانک لیجیے خلقت خدا کو معمولی اور حقیر سمجھنے والے حکمران اپنے تخت سمیت اوندھے منہ پڑے ملیں گے۔
ویت نام کے تھیو، شمالی یمن کے امام محمد، مصر کے شاہ فاروق، عراق کے شاہ فیصل، نکارا گوا کے سموزا، یوگنڈا کے عیدی امین اور افغانستان کے ظاہر شاہ ان سب کا شمار ان حکمرانوں میں ہے جو عوام میں اتنے غیر مقبول ہوئے کہ آخر کار تخت اقتدار چھوڑ کر راہ فرار ہی میں عافیت ڈھونڈنی پڑی۔ پرتگال، فرانس، برطانیہ اور امریکہ دنیا کی معمولی طاقتیں نہیں تھیں دھن دولت، اسلحہ، طاقت جدید وسائل کی فراوانی کے ساتھ ساتھ قوموں کو بیوقوف بنانے، خون کا کھیل کھیلنے کی مہارت ان سے زیادہ کہاں دیکھنے کو مل سکتی ہے؟
شاطرانہ مکر و فریب سے کام لینا ان سے زیادہ کون جان سکتا ہے، لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ان سب کو اپنے ہی ہاتھوں بنائی گئی نو آباد کالونیوں میں عوام کی قوت سے زبردست شکست کھانی پڑی۔ کارل مارکس نے نپولین اور اس کے گھمنڈی بھتیجے لوئی بونا پارٹ بادشاہ فرانس سے موازنہ کرتے ہوئے کیا خوب جملہ کہا تھا کہ : ”ہیگل نے کہیں لکھا ہے کہ تاریخ عالم کے تمام اہم واقعات اور اشخاص دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں، مگر وہ یہ اضافہ کرنا بھول گیا کہ ایک بار المیے کی صورت میں اور دوسری بار مسخروں کے بہروپ میں۔ چچا المیہ تھا اور بھتیجا مسخرہ بہروپیہ۔“

