ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

آج اس عظیم شاعر کا یوم پیدائش ہے جس کے خیال میں غیب سے مضامیں آتے تھے اور جس نے دعوی کیا کہ اس کا صریر خامہ نوائے سروش ہے۔ جس کا انداز بیان دنیا کے لاتعداد سخن وروں میں منفرد ہے۔ جو ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہے کہ ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے اور جواب بھی دیتا ہے کہ وہ شاعر تو اچھا ہے پر بدنام بہت ہے۔ جسے نہ ستائش کی تمنا رہی نہ صلے کی پروا۔ جس نے جھنجھلا کر کہا تھا کہ گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی لیکن جس کے اشعار میں معنی ڈھونڈنے اور ان کی شرح کرنے میں ناقدین کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہیں جو آج بھی ان کے اشعار میں معنی کے گہر اور موتی نکال لاتے ہیں۔
جو اپنے قول کا صادق تھا اور ہمیشہ سچ کہتا تھا کہ جھوٹ کی عادت نہیں تھی اسے۔ جو قرض کی مے پیتا تھا اس یقین کے ساتھ کہ رنگ لاوے گی اس کی فاقہ مستی ایک دن۔ جسے ہمہ وقت علمی نقطے سوجھتے تھے۔ جو منہ میں زبان تو رکھتا تھا لیکن خاموش رہتا تھا کہ کسی نے اس کا مدعا نہیں پوچھا۔ جس نے خلد سے آدم کا نکلنا سنا تھا اور جسے شاید یہ خبر نہ تھی کہ کوچہ محبوب سے اسے بہت بے آبرو ہو کر نکلنا پڑے گا۔ جو سوال کرتا تھا کبھی دل سے کہ اے دل نادان تجھے ہوا کیا ہے؟
تو کبھی درد سے کہ آخر اس درد کی دوا کیا ہے، کبھی ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے۔ جس کو بات کرنے کا سلیقہ اور طریقہ تھا اور خبر رکھتا تھا کہ کہاں کیا بولنا ہے ورنہ ایسی کون سی بات تھی جو اسے کرنی نہ آتی تھی۔ جو اپنے دوستوں کو مشورہ دیتا تھا کہ ہم سے تعلق قطع نہ کیجے گر محبت نہیں رکھنی ہم سے تو عداوت رکھ لیجیے۔ جو نہ دانا ہونے کا دعوی کرتا تھا اور نہ اس کی زبان پر یہ آیا کہ میں کسی ہنر میں یکتا ہوں پھر بھی بے سبب جس بے چارے کا دشمن آسمان ہوا۔
جس نے زمین و آسمان کی گردش کو دیکھ کر نہ گھبرانے کا مشورہ دیا تھا اور کچھ نہ کچھ ہونے کی پیشن گوئی کی تھی۔ جس نے یہ مشورہ دیا تھا کہ نہ سنو گر برا کہے کوئی اور نہ کہو گر برا کرے کوئی۔ جو اس راز سے واقف تھا کہ ایک چپ ہزار سکھ۔ جو کبھی پاؤں کے آبلوں سے گھبرا جاتا تھا لیکن جب راہ کو پرخار دیکھتا تھا تو اس کا جی خوش ہوتا تھا۔ جو اس عظیم شاعر کو نہیں جانتے اور سوال کرتے ہیں کہ غالب کون ہے؟ ان پر انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا اور یہ دہرایا کہ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
جس نے ہمیں یہ سمجھایا کہ موت کا ایک دن معین ہے اس پر سوچتے نہ رہا کرو اس سے آنکھوں سے نیند اور رات کا چین غائب ہو جائے گا۔ جس نے ہمیں بتایا تھا کہ میرے پاس بھی دل ہے نا کہ سنگ و خشت جو درد سے بھر آتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو میں ہزار بار زار زار روتا ہوں۔ جس کے آگے دنیا بازیچۂ اطفال تھا۔ جس نے گلہ کیا تھا کہ یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح اگر واقعی آپ میرے دوست ہیں تو کوئی چارہ سازی کیوں نہیں کرتا اور کوئی غم گسار کیوں نہیں ہے۔
جو اس راز سے واقف تھا کہ عشق پر کسی کا زور نہیں اور یہ وہ آتش ہے کہ جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔ جس نے کبھی ان سے بھی وفا کی امید باندھی تھی جو نہیں جانتے تھے کہ وفا کیا ہے۔ جو خود آگاہ تھا اور اپنے پیش روؤں کا قدر داں۔ اسی لئے تو اس نے کہا تھا کہ فقط میں ہی ریختے کے استادوں میں شمار نہیں ہوتا بلکہ میر جیسے مجھ سے بڑے استاد بھی اگلے زمانے میں موجود تھے۔ جو اس کا قائل ہرگز نہ تھا کہ خون بس رگوں میں ہی دوڑتا پھرے وہ چاہتا تھا کہ یہ آنکھ سے بھی ٹپکے۔
جو یہ ادراک رکھتا تھا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ جس کو جنت کی حقیقت معلوم تھی، جو کام کا آدمی تھا لیکن اس کا خیال تھا کہ عشق نے اسے نکما کر دیا ہے۔ جس نے بڑھاپے میں بھی جب اس کے پاس طاقت گفتار نہ تھی اپنی آرزو کا اظہار نہ کیا۔ جس نے کہاں تھا کام کرتے رہو مجھ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔ جس کی قسمت میں وصال یار نہ تھا اور جو آگاہ تھا کہ اگر میں مزید زندہ رہا تو میرے نصیب میں بس انتظار رہے گا۔ جو مدت ہوئی اس جہان فانی سے کوچ کر گیا پر اس کا وہ استفہامیہ لہجہ یاد آتا ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔

