ملٹری کالج کی یادیں
یادیں بھی ہمارے ساتھ کبھی کبھی کیسے کھیل کھیلتی ہیں۔ یہ ہمیں وہ سب سوچ کر ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ جب ہم کسی کے ساتھ مل کر روئے تھے۔ اور کبھی ہمیں یہ سوچ کر رونے پر مجبور کر دیتی ہیں جب کبھی ہم کسی کے ساتھ مل کر ہنسے تھے۔ کالج کی یادیں بے تحاشا ہیں۔ ان سب یادوں کو کسی ایک دو صفحوں پر تحریر کرنا تو بہت مشکل ہے۔ مگر میں ایک ادنی سی کوشش ضرور کر رہا ہوں۔ میرے قارئین میں اگر کوئی کالج کا دوست ہے تو اس سے درخواست ہے کہ اگر بیتے ہوئے لمحوں کو اس طریقے سے بیاں نہیں کر سکا جس طرح سے ان کا حق ہے تو آپ سے پہلے ہی معافی کا طلبگار ہوں۔
میں اپنی یادوں کو صبح کے مارننگ اسمبلی سے شروع کرتا ہوں۔ ویسے تو مارننگ اسمبلی ہر اسکول اور کالج میں ہوتی ہے مگر ملٹری کالج کے مارننگ اسمبلی کا طریقہ ہی نرالا تھا۔ تلاوت سے پہلے سٹاف کا لکچر لازمی ہوتا۔ جس میں وہ گزرے ہوئے دن کے بارے میں بتاتا کہ آپ لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے مجھے کتنا رنج اور تکلیف پہنچی ہے۔ اور اس دن کے لئے خصوصی ہدایات نامہ جاری کرتا، اور مجرموں کو اعلیٰ حکام کی طرف سے سزاؤں کی فہرست سناتا، اور وقت کی پابندی پر تفصیلی گفتگو اس لکچر کا لازمی حصہ ہوتا۔
اکثر اوقات میں بھی ان مجرموں کی لسٹ میں شامل ہوتا جنہوں نے پچھلے دن کوئی غلطی کی ہوتی۔ اس کے بعد دو مقررین خطاب کرتے۔ موضوع کچھ بھی ہوتا مگر اپنے دوستوں کے الٹے سیدھے نام لازمی شامل کرنے ہوتے تھے۔ جیسے کہ ”سر عامر مونڈی“ چمن ستاں، قوم لوط، pinky، duck، alien وغیرہ۔ اور آخر میں کالج کا آنر کوڈ سنایا جاتا جو سب نے مل کر پڑھنا ہوتا، اکثر لڑکے اپنے نام کی بجائے دوست کا نام لینا مناسب سمجھتے اور ہم نے صرف ہنسنا ہوتا، ہمیں یہ تو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ نفس، علم کے بغیر ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔
بس پھر کیا ہونا ہوتا، سٹاف کی کان تک ہماری ہنسی کی آواز پہنچنے کی دیر ہوتی۔ سٹاف نے اپنے مطابق کوئی مطلب اخذ کر کے اور انتہائی سرعت سے اس مطلب کے موافق جذبات کو پیدا کر کے اور اپنے جسم کو ان جذبات کی مناسبت سے ردعمل ظاہر کرنا ہوتا، اور کان کے ساتھ چیخنے کی آواز آتی اور تھوڑی ہی دیر میں ہمیں کمرہ عدالت پہنچا دیا جاتا اور ادھر جانے سے پہلے ہی فیصلے ہوئے پڑے ہوتے ہیں۔ پہنچنے کے ساتھ سزا سنا دی جاتی۔ مجھے تو صرف ایک خوف رہتا، خوف بذات خود کوئی شے نہیں بلکہ ہمیشہ کسی شے کا ہی ہوتا ہے۔
مجھے اکثر کمرہ عدالت میں رکھی مختلف اقسام کی لاٹھیوں کا ڈر ہوتا، جو جج (ایجوڈنٹ) کے ساتھ والے الماری میں موجود رہتیں۔ پھر مجھے خیال آتا کہ مشکلات تو قدرت کی طرف سے تحفے ہوتے ہیں۔ کیونکہ مشکلات کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ سوچ کر سزا بھگت لیتا۔ اور پھر علم کی پیاس بجھانے کے لئے کلاسز کی طرف بھونچال کی مانند چل پڑتا۔ کلاس میں پہنچنے سے پہلے خیال آتا کہ لیکچر کا آدھا حصہ تو گزر چکا ہو گا، سمجھ تو ویسے بھی نہیں آنی، چلو واش روم جا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے۔ اور کچھ گانوں کی پریکٹس بھی ہو جائے گی۔ کیونکہ واش روم میں مجھے اپنی آواز کسی بڑے گلوکار کی آواز سے کم نہیں لگتی تھی۔
ملٹری کالج میں پڑھنا دنیا کے مشکل کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ویسے بھی ملٹری کالجوں کے طلبا کو ہر چیز کرنے کی جستجو ہوتی ہے جسے کہ کھیلنا، مختلف کاموں میں حصہ لینا سوائے پڑھنے کہ وہ ان پر زوری ٹھونسا جاتا ہے۔ ان کو پڑھ کر کرنا بھی کیا ہوتا، اکثر روزانہ کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں کہ جو کچھ کل سیکھا تھا وہ صحیح نہیں تھا۔ جیسا کہ کیمسٹری میں پڑھائے جانے والے سائنسدانوں کے تجربات وغیرہ۔
شروع شروع میں میرا بھی کچھ یہی حال تھا کہ سہ ماہی امتحانات میں صرف مطالعہ پاکستان کے پرچہ میں کامیابی مل سکی۔ مجھے پہلی دفعہ سچا پاکستانی ہونا کا ادراک ہوا تھا۔ کچھ دوست حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے مگر میں تو ہر بندے کو اپنے سچے پاکستانی ہونا کا خوشی خوشی بتا رہا تھا۔ اگلی دفعہ کے لئے وارننگ مل گئی۔ مگر اگلے دفعہ انتھک کوشش کی باوجود بھی مطالبہ پاکستان کے پرچہ کے ساتھ اردو کا پرچہ بھی پاس کر گیا۔
میرے دل میں پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنی قومی زباں سے محبت بھی رزلٹ کی صورت سامنے آ گئی۔ رزلٹ اگلے ہفتہ کو ہی ہوسٹل کے نوٹس بورڈ کی زینت بن گیا۔ بچے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کر رہے تھے۔ اور گھر فون کر کے والدین سے داد وصول کر رہے تھے۔ مگر مجھے تو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ کالج سے نکال دیا گیا تو کیا کروں گا۔ رات کو ڈیوٹی افسر نے، ڈپٹی کمانڈنٹ (پرنسپل) کی خواہش بتا دی کہ وہ ہم سے کل دفتر کے اوقات کار میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
رات بھر اگلے دن کی ملاقات کے بارے میں سوچتا رہا کہ کل ہماری گفتگو کا آغاز کیسے ہو گا اور اختتام کیسے ہو گا۔ صبح دفتری ٹائم پر ہم سب کو یعنی (جن کو امتحان) میں کامیابی نہیں مل سکی، لیے جایا گیا۔ پرنسپل صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی۔ وہ میرے توقعات سے بڑھ کر نکلے۔ بڑے ہی مہرباں اور خوش اسلوب شخص تھے، کسی زاویے سے فوجی نہیں لگ رہے تھے۔ ہر ایک کو کوئی نصیحت کر کے رخصت کر رہے تھے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کتنے آہستہ آگے بڑھ رہے ہو، ناکامی تب آتی ہے جب تم رک جاتے ہو۔
اتنی سی گفتگو کہ بعد مجھے جانے کی اجازت مل گئی۔ جب میں دفتر سے باہر آیا تو ہاؤس ماسٹر (ہاسٹل وارڈن) میرے انتظار میں باہر کھڑے تھے۔ مجھے روک کر کالج کی پوری قانون کی کتاب پڑھ کر سنا دی۔ اور ادھر سے بھی اجازت مل گئی کلاس کے بجائے کمرے کا رخ کیا۔ کمرے میں کچھ آرام کرنے کے بعد کلاس کی طرف جانے لگا۔ کلاس میں اپنے معمول کی طرح سونا ہوتا تھا۔ صبح کی پی ٹی کی تھکاوٹ کلاس میں سو کر پوری کرنی پڑتی تھی۔
میرے جسے بچے اکثر اوقات دعا میں رضوان بھائی کے شعر پڑھا کرتے تھے
خدا ہم کو ایسی پڑھائی نہ دے
کتابوں میں کچھ دکھائی نہ دے
کروں نیند پوری کلاس میں
کہ ٹیچر کا لیکچر سنائی نہ دے
ہر انسان کا کوئی مقصد حیات ہوتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر بن کر فلاح و بہبود کا کام کرنا چاہتا ہے۔ کوئی انجینئر بن کر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے خواہش مند ہوتا ہے۔ کوئی تدریس بن کر قوم میں شعور اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ مگر ہم جسے کیڈٹ کا مقصد حیات باقیوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ جیسا کہ کسی طرح کالج ہاسپٹل میں زندگی کے کچھ خوشگوار لمحہ اے سی کے نیچے گزارنے کا موقع ملے یا پھر کلاسز کے بجائے سارا وقت لائبریری میں گزرے۔
میرا تو مقصد حیات بھی یہی تھا۔ دن بھر اسی کوششوں میں لگا رہتا، کئی دفعہ ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ اور پھر سے کمرہ عدالت میں پہنچایا جاتا۔ میرے خیال میں جو کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں وہ مرتے تو نہیں اور جو بغیر مقصد کے جیتے ہیں، وہ جیتے تو نہیں۔ مرنے سے پہلے زندہ ہونا ضروری ہے اور زندہ ہونے کا مطلب زندگی کا جواز جو میرا واضح تھا۔
میں رات کو سونے سے پہلے اگلے دن کا منصوبہ بند کرتا تھا۔ ایک رات کافی دیر ہو گئی تھی تو میرا ایک دوست جو ٹی وی روم میں تھا۔ کمرے میں اکر مجھے کہنے لگا غفار بھائی آپ اتنی دیر سے کام کر رہے ہو۔ سو جاؤ
میں نے مشہور زمانہ قول سنا دیا
ترقی کرنے والے لوگ گھڑی دیکھ کر کام نہیں کرتے، گھڑی کو اپنے اہداف کے مطابق چلاتے ہیں۔
مجھے اس دن ایسے لگا کہ اگر میرے کالج میں مردم شماری کی جائے تو ہزار لوگ ہوں گے مگر اگر مردم شناسی کی جائے تو صرف چند ایک لوگ ہوں گے جن میں میرا یہ دوست بھی شامل تھا۔ جو مجھے سونے کی تلقین کر رہا تھا۔
کالج کے میس کا ذکر اگر نہ ہو تو میس حوالدار کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مینو تو اسلام آباد کے موسم کی طرح بدلتا رہتا۔ میں صرف پراٹھوں کا ذکر کرنا مناسب سمجھاتا ہوں۔ جن کو کھانے کے لیے ہم صبح نماز سے پہلے اٹھ جایا کرتے تھے، جس وقت وہ تیار ہو رہے ہوتے تھے۔ کچھ ناشکرے دوست تو 8 بجے کے ناشتے سے بھی لیٹ ہو جاتے تھے۔ اور ان کے لئے میس سے کلاس تک پراٹھے لیے جانا باڈر کراس کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ڈرل سٹاف میس کے سامنے مونچھوں کو تاؤ دے کھڑا ہوتا تھا۔
مگر یہ اگر روز کا معمول بن جاتا تو دکھ بڑا ہوتا تھا۔ ایک دفعہ کسی ساتھی کی پراٹھوں کے ساتھ پکڑے جانے پر جو بے عزتی ہوئی اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں کو واضح کر کے بتایا کہ عیش و عشرت کی سامان، انساں کو نااہل، کاہل اور دوسروں کے بل بوتے پر زندہ رہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ اور یہ اچھے اور برے کی تمیز تک لے جاتا ہے، تو آئندہ ناشتہ کرنے وقت پر پہنچ جایا کرو۔ نا کہ اس غریب دوست کے لئے سر درد بن جایا کرو، جس کے اپنے اتنے سارے مسائل ہوں۔
میری تقریر کے اختتام پر ایک دوست نے غالب کا شعر یوں سنا دیا
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں!
اتنی دیر میں سر کلاس میں آ پہنچے۔
سوئمنگ پول
ہمارا کالج صحرائے گوبی کی کنارے پر واقع تھا۔ اس میں سوئمنگ پول کا ہونا قدرت کا کرشمہ تھا۔ اور جب گرمیوں کے موسم میں تیرنے کا موقع مل جاتا، تو ہماری دن بھر کی تھکاوٹ دور ہو جاتی تھی۔ مگر یہ کام سال میں کم کم ہی کرنے کو نصیب ہوتا تھا۔ مگر ہر الٹے سیدھے کام کی کوشش کرتے تو ہمارے لئے قلبی سکون رہتا۔ بس کلاس ختم ہونے کی دیر رہتی۔ کسی نہ کسی کارے خیر کے لئے نکل جاتے۔ ایک دن تیرنے کی نیت سے ہاؤس پہنچے ہی تھے، کسی نے نوٹس بورڈ کی طرف متوجہ کیا۔
کیونکہ میں تو نوٹس بورڈ پر مختص حصہ پر اپنا نام دیکھتا، جو مجرم کے لئے آویزاں کردی گئی تھی، پر نوٹس بورڈ پر کسی خاص رنگ کے کچھ صفحہ دکھائی دے، عینک لگانے سے پتہ لگا کہ اس میں سوئمنگ پول کی مختلف قوانین کے ساتھ ساتھ شیڈول بھی درج ہے۔ اور اس دن ہم سے سینئر کلاس کے اس میں لطف اٹھانے کا اہتمام تھا۔ مگر دوستوں کی اصرار نے پول کی گیٹ تک پہچانے میں مدد دی۔ اور ادھر، ادھر جھانکا، گھڑی دیکھی، مگر ابھی تک کسی آدم زاد کا وہاں وجود نہیں تھا۔ اور ہم بڑے آسانی کے ساتھ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہمارے اردو کے سر انگریزی کی ٹانگیں توڑتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے۔ ایک ہی لمحہ میں سوئمنگ پول کے اندر کی بجائے، باہر کی دیوار کے ساتھ لیگز بھی کرا دیا۔ اور پھر سر جی سٹاف سے مل کر سزائیں ترتیب دیے لگے۔ مگر پھر کیا سوجھی، اچانک گیٹ سے باہر نکل جانے کا حکم جاری کر دیا۔ پول سے باہر آتے ہی ایک دوست بول پڑا کہ پریشاں نہیں ہونا۔ منزلیں، بہادروں کا استقبال کرتی ہیں۔ بزدلوں کو راستے کا خوف مار دیتا ہے۔ واپس ہاؤس آ کے دو رکعات شکرانے کے نفل پڑھنے کے بعد ، چائے پینے کے لیے نکل گئے۔ وہاں کچھ دوست گزرے ہوئے لمحات کی یادوں کو تازہ کر رہے تھے۔ ساتھ ہی اس دن کے منصوبہ سازپر تنقید بھی جاری و ساری تھی۔
ہاؤس پریپ
دن بھر کے تھکے بچے کی ذہنی نشو و نما بڑھانے کی نیت سے رات تادیر، کچھ کتابوں سمیت کمرے میں بند رکھ کر ، یہ خیال کرنا کہ وہ بچہ سائنسی، سماجی حصول کو ازسرنو ترتیب دیے سکے گا، سراسر خوش فہمی تھا۔ امتحان کے دنوں میں ان کی ٹائمنگ تبدیل کر کے نماز فجر سے لے کر رات گیارہ بجے تک کر دی جاتی۔ جس کے درمیاں کچھ گھنٹے، ہمیں کھانے کے ساتھ، سونے کے مل جاتے تھے۔ بورڈ کے پرچوں سے پہلے کے ہاؤس پریپ کرکٹ ٹورنامنٹ سے شروع ہو کر لوڈو پر اختتام پذیر ہوتے تھے۔
Always number 3rd
جب آدمی خواب دیکھنا چھوڑ دیے اور اپنے کیے پر پچھتانا شروع کردے تو جان لو کہ وہ اب بوڑھا ہو گیا ہے۔ ہمارے ہاؤس ماسٹر صاحب کا حال بھی اس کے قریب قریب تھا۔ کہ جناح ہاؤس میں مجھ جیسے سیکڑوں شہزادوں کو لا کر، پچھتا رہا تھا۔ اور ان کا داؤ تھا کہ ہاؤس کو آخری نمبر پر لانے میں ہمارے کچھ دوستوں کا ہاتھ شامل ہے۔ ہزار ہا کوششوں کے باوجود بھی اس رواج میں کمی نہیں کرسکے۔ ایک دفعہ تو اس کو خوش کرنے کے لیے تقریری مقابلے کے لئے اپنا نام دے ڈالا۔ اور ہاؤس ماسٹر لسٹ میں میرا نام دیکھ کر کچھ دیر کے لئے صدمے میں چلے گئے۔ پر بلا کر تقریر ہاتھ میں تھما دی۔ اور اچھی طرح رٹنے کی تاکید بھی کردی۔
وقت گزرتا گیا۔ اور وہ صفحہ، روم میٹ کے شوز صاف کرنے کے کام آ گیا تھا۔ ایک دن ہاؤس ماسٹر فالن کے سامنے تقریر کرنے کے لیے بولا کر تقریر ہاتھ میں تھما دی۔ اور اچھی طرح رٹنے کی تاکید بھی کردی۔ ایک دن ہاؤس ماسٹر نے فالن کے سامنے تقریر کرنے کے لیے بلا لیا۔ نام سن کر ہاتھ پیر پھولنے لگے۔ مرتا کیا نہ کرتا، ہاؤس کے سامنے پہنچ گیا۔
اللہ کا نام لے کر تقریر شروع کردی۔
حاضرین و ناظرین!
کچھ دیر کی خاموشی پھر
حاضرین و ناظرین
بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ سچ بولنا تو بہت اچھی عادت ہے۔ عادات انسانی شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اتنے میں اچانک زور دار تھپڑ کی آواز آئی۔ انگریزی کی دو گالیوں سمیت سامنے سے ہٹنے کا حکم دیا گیا۔ واپس کمرے میں پہنچ کر ذہین نشین کر لیا کہ فوجیوں انسٹرکٹروں سے ہمدردی لینا، ناممکنات میں سے ہے۔


