سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت

آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلیں جائیں طاقتور طبقہ چاہتا ہے کہ اس کے زور بازو کا سورج ہمیشہ سوا نیزے پر رہے اور اسے کبھی گرہن نہ لگے۔ وہ اپنی طاقت کو بچانے کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کو تیار ہوتا ہے۔ اس کے لیے دوسروں کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ طاقتور ہمیشہ چاہتا ہے کہ صرف اسی کی مرضی چلے چاہے وہ غلط ہو یا صحیح۔
موجودہ دور میں طاقتور طبقے میں سب سے اوپر سرمایہ دار آتا ہے۔ سرمایہ دار اپنے دھن سے اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔ اپنی مرضی سے تجارت و کاروبار میں عام آدمی پہ اثر و رسوخ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کئی مزدور اور ملازم اس کی جی حضوری میں ہر وقت لگے ہوتے ہیں۔ اور وہ صرف اپنی مستی میں مگن ہوتا ہے۔
دور حاضر میں سرمایہ کاری کا نظام اس قدر پیچیدہ اور مشکل صورت اختیار کر گیا ہے کہ جہاں پہلے کسے ایک شہر یا ملک میں سرمایہ کاری ہوتی تھی اب ٹیکنالوجی کی بدولت تمام دنیا میں صرف ایک ملک میں بیٹھ کر ہو سکتی ہے۔ اب آپ خود سرمایہ کار کی وسعت کا حساب لگا لیں کہ اس کی طاقت کا حلقہ کتنا وسیع پیمانے پر پھیل گیا ہے۔ جو اب کئی ممالک کی حکومتوں سے بھی طاقتور ہو گیا ہے۔
کسی ملک کی حکومت ان دیوؤں کے آگے بہت کم اہمیت رکھتی ہے۔ اب یہ سرمایہ کار آسانی سے کسی ملک کا استحصال کر سکتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے وہ ایک ملک سے اپنی سرمایہ کاری واپس اٹھاتا ہے تو اس ملک پر اس کے اچھے خاصے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ آسانی سے کسی بھی ملک میں کوئی بڑا نقصان بھی کرا سکتا ہے۔
اگر وہ اپنی سرمایہ کاری واپس لے جاتا ہے تو وہاں موجود ہزاروں لوگ نوکری جانے کی صورت میں بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ اور اچانک ایسی صورتحال حکومتیں کنٹرول بھی نہیں کر سکتیں۔
سرمایہ کی دنیا میں 2 سے 3 فیصد لوگ اس نظام پر غالب ہیں۔ کڑا سچ تو یہی ہے کہ یہ چند فیصد لوگ ہی دنیا کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ آپ معائنہ کر لیں کہ چند ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی ساری دنیا میں چھائی ہوئی ہیں۔ کوئی بھی ملک یا براعظم ایسا نہیں جہاں ان کا بول بالا نہ ہے۔
ان بڑے دیوؤں کی قوت اب عام آدمی کے ذہنوں کی رسائی تک پہنچ چکی ہے اور یہیں بس نہیں! بلکہ آپ کے ذہنوں میں جو مستقبل میں سوچنے کی صلاحیت ہے اس کا ادراک بھی کر لیا گیا ہے۔
انسانی ذہنوں تک رسائی گوگل، فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ کے الگارتھم سے آسانی سے ممکن ہو گئی ہے۔ اب صرف ایک گوگل کمپنی پوری دنیا کے بہت سے انسانوں کو اپنے گھر میں بیٹھ کر آسانی سے پڑھ سکتی ہے۔ ان کے خیالات کو جان سکتی ہے اور الگارتھم کی بنیاد پر آپ کے مستقبل کا اندازہ بھی لگا سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی نے سرمایہ کاری کے جن کو بڑے دیو ہیکل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طاقت ماضی کے حساب سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ دولت صرف 2 سے 3 فیصد لوگوں تک محدود ہو گئی ہے۔
اب ایک کمپنی کا بجٹ بیسیوں ممالک کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت حکومتوں کے لیے پروپیگنڈا وار پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی گرفت عام ممالک پر اب پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی ہے۔

