امن اور ریاستی اداروں کا کردار


امن، سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں معاملات زندگی بغیر کسی خوف، تفریق اور خوف پر تشدد اختلافات کے چل رہے ہوں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند، مثبت بین الاقوامی یا بین الانسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ریاست سے مراد سیاسی طور پر ایک منظم ملت جو کم و بیش آزاد ہوتی ہے اور اس کے قبضہ و تصرف میں ایک مستقل اور معین علاقہ ہوتا ہے۔ جہاں لوگ سکون و آشتی کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں پر امن ریاست کہلاتی ہے۔

پرامن اور جمہوری ریاست کا نظام چند اہم ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ جو کہ اس کا امن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان ستونوں میں سے کوئی ایک ستون بھی کمزور ہوتو سارا ریاستی نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے۔

جمہوری نظام کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ عوام کو ان کی مرضی کے مطابق ریاست میں حکمرانی اور قانون سازی کا مکمل اور غیر مشروط حق دیا جائے ایسا کر کے ہی ریاست میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی ریاست میں امن و امان قائم کرنے میں اس کی عوام اور ریاستی اداروں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے جمہوریت کو اس وقت زوال آتا ہے جب یہ ادارے اپنا کام اپنی مکمل ذمہ داری سے ادا نہ کریں اس وقت ریاست کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ ریاست کے وہ ادارے جو اس کے بنیادی ستون ہیں جو امن قائم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ان میں آئین، پارلیمنٹ، انتظامیہ، قانون، عدلیہ، میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔

آئین انسانی رویوں اور ادارے کے خد و خال کا نام ہے اور جمہوری نظام میں ریاست اور عوام کے درمیان ہونے والے معاہدے کو آئین کہا جاتا ہے انہی بنیادی دستاویز کی روشنی میں ریاست مختلف شعبوں کے لیے ان کے حقوق و فرائض متعین کرتی ہے۔ آئین کی پاسداری کر کے ہی ہم امن و امان کی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آئین میں موجود نکات کی تردید و ترمیم عوام کے فیصلوں کے بغیر ناممکن ہے۔ جب بھی آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی ہے امن و امان کی صورتحال خراب ہی ہوئی ہے۔

پارلیمنٹ ایسا ریاستی ادارہ ہے جہاں عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی کا عمل مرتب کیا جاتا ہے یہ ایک ایسا جمہوری ادارہ ہے جہاں عوام کی خواہش کے مطابق اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے قانون سازی کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے اور ان کی پسندیدہ لوگوں کو حکمرانی کا سنہرا تاج پہنایا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جو عوام کی نمائندگی کریں اور ریاست میں امن و امان کے مسائل کی صورتحال سے لے کر تمام عوامی مسائل کی نشاندہی کر کے ان کا حل ڈھونڈیں اور ان کے بہتر مستقبل اور حالات کے لیے آواز اٹھائیں۔

انتظامیہ یا حکومت ریاست کا ایک اہم ستون ہے۔ جسے بیورو کریسی بھی کہا جاتا ہے پارلیمنٹ تو عوام کی نمائندگی کرنے والا ادارہ ہے لیکن انتظامیہ ایک مستقل اور غیر متبدل تنظیم امر ہے۔ جو عوامی نمائندے عوام کی اکثریت رائے سے منتخب ہوتے ہیں۔ جبکہ انتظامیہ کے ارکان ان کے عقل و دانش کی وجہ سے منتخب کیے جاتے ہیں انتظامیہ کی بنیاد بھی میرٹ پر رکھی جاتی ہے لیکن اگر اس پر بھی سیاست کا جبری اثر ڈالا جائے تو جمہوریت اور امن کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا ہے۔

جمہوری ریاست کی بنیاد کا ایک اہم ستون عدلیہ ہے جو امن و امان قائم کرنے میں اپنا بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ریاست کو درپیش مسائل میں بروقت انصاف کی فراہمی عدلیہ کا کام ہے۔ انسانی غیر اخلاقی و آئین شکنی عمل کا سدباب کرنے کے لیے عدالت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ کسی بھی جمہوری ریاست کے امن کو قائم رکھنے کے لیے عدلیہ اگر اپنا کردار خوش اسلوبی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ادا نہ کرے تو خانہ جنگی کے عمل کا خدشہ بن جاتا ہے جو کہ ریاست کے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی وجہ بنتا ہے۔ عدلیہ اگر اپنا کام اپنے فرائض کی ادائیگی خوش اسلوبی سے ادا نہ کریں تو ریاست میں جنگل کا راج قائم ہو جائے جہاں اقتدار کی ایسی بندر بانٹ ہو کے امن و امان کا نظام تہس نہس ہو جائے کیونکہ جہاں عدلیہ اپنا کام نہیں کرے اور عدل و انصاف کا نظام سیاست کی بھینٹ چڑھ جائے تو ریاست تنزلی کا شکار ہو نے لگتی ہے۔

امن و امان کی صورتحال میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم ریاستی ادارہ میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ بھی ہے۔ جس میں پرنٹ میڈیا ٹی وی میڈیا اور اب تو سب سے زیادہ ٹاپ ٹرینڈنگ سوشل میڈیا شامل ہے۔ جو انسان کو سیکنڈز میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک خبر کو منٹوں سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے لے کے دوسرے کونے تک پہنچانا بہت آسان ہے یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو امن و امان قائم کروا سکتا ہے لیکن اس کے غلط استعمال سے منٹوں میں ملکی انتشار اور فساد کو بھی پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر غلط خبروں کی ترویج کی جائے جو جھوٹ اور افواہوں پہ مبنی ہوں تو وہ ریاست کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا ایک وائرس کی طرح سیکنڈز میں خبر کو پھیلانے والا مضبوط ترین نیٹ ورک ہے جہاں ہر انسان آزادی کے ساتھ اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔

اگر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ پوری ذمہ داری سے اپنا کام کریں تو ملک کے امن و امان کی صورتحال کے قیام میں بہت بڑی مدد ملتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا جمہوری ادارہ ہے جس پر ہر خاص و عام کو آزادی کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ جبرا عوام کو منتشر کرنے کے لئے اس پر سیاسی رنگ کا غلبہ ڈال کر جھوٹ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو ریاستی اداروں اور عوام کے بیچ ایک خطرناک سرد جنگ چھڑ جاتی ہے جو عوام کو بغاوت پر اکساتی ہے کیونکہ زیادہ دیر تک آپ جھوٹ کی ترویج کر کے سچ کو عوام سے چھپا نہیں سکتے۔

ریاستی اداروں میں کسی بھی ریاست کا سب سے اہم ستون اس کے دفاعی ادارے ہوتے ہیں۔ جو عوام کے لئے ایک چھایا کا کام کرتے ہوئے ریاست اور اس کی عوام کو مضبوط چار دیواری اور چھت کا احساس دلاتے ہیں۔

مضبوط دفاعی نظام دشمنوں کو لوہے کے چنے چبوا دیتا ہے اور ان کی بری نظروں کو نوچ پھینکنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت تین دفاعی ادارے ملک کی سلامتی اور امن و امان کو قائم کرنے کے لیے اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ویسے تو دفاعی اداروں کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے لیکن جب ملکی خانہ جنگی کا عمل ہو یا دشمنوں کو زیر کرنا ہو ہمارے دفاعی ادارے ہر مورچے پر چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔

جمہوری آئینی نظام میں ریاست کے معاملات میں دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہوتا لیکن جب بات ریاست کی سلامتی اور امن کو قائم کرنے کی ہو تو درپیش موجودہ مسائل اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے عناصر کو روکنے کے لیے ہماری دفاعی ادارے اپنا کردار نہایت خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں۔

جس طرح وہ بارڈر پر دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے ہیں اسی طرح ملک کے اندر چھپی کالی بھیڑوں پر بھی زیرکی اور دانائی سے قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن جب جب دفاعی ادارے ضرورت سے زیادہ ریاستی معاملات میں اپنی مداخلت کرتے ہیں تو جمہوریت کے لئے خطرۂ بن جاتا ہے۔

اگر جمہوریت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تمام ریاستی ادارے اپنی حدود و قیود میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں تو امن و امان کی ہوا کو قائم رکھنے کے لیے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ اور نہ ہی ریاست کو درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ کیونکہ جب جب ریاست کے جمہوری نظام پر آمرانہ حکومت کا غلبہ ہوا ہے ریاست دولخت ہوئی ہے۔ اور امن و امان کی ہوا خراب ہوئی ہے۔ اس لئے تمام ادارے اپنی ذمہ داریوں کو جمہوری اور آئینی تقاضوں کے مطابق ادا کریں عوام کی رائے اور مرضی کے ساتھ تو ریاست کو متحد اور پر امن رہنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Facebook Comments HS