میں احسن اقبال کو ووٹ کیوں دوں گا؟
میں نے 2007 ء میں اسلام آباد میں یونی ورسٹی میں داخلہ لیا تو نارووال سے اسلام آباد کے طویل سفر نے اس حسرت کو جنم دیا کہ کاش اپنے شہر میں بھی یونی ورسٹی ہوتی۔ یہی سوچا کرتا تھا کہ جو لیڈر بھی نارووال کو یونی ورسٹی دے گا میں اس کو ہی نارووال کے لیے منتخب کروں گا۔ یہ وہی برس تھا جب اس وقت کی قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو رہی تھی۔ ایک روز اخبار میں قومی اسمبلی کی پانچ سالہ کارکردگی چھپی جس میں یہ بھی تھا کہ پانچ برس کی مدت کے دوران کس ممبر قومی اسمبلی نے کتنی دیر گفتگو کی؟ کتنے سوال پوچھے؟ وغیرہ۔ یہ پڑھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ نارووال سے خاتون ممبر پارلیمنٹ جن کو فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے 2002 ء میں مشرف انتظامیہ نے زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے۔ ان موصوفہ نے پانچ سال میں ایک بھی سوال نہیں پوچھا اور چپ کا روزہ ہی رکھا ہے۔
2008 ء، 2013 ء اور 2018 ء کے الیکشن میں نارووال کی عوام نے قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لیے احسن اقبال کا انتخاب کیا (*احسن اقبال 1993 ء اور 1997 ء میں بھی نارووال سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ) اور وہ ایک قومی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی قیادت میں ان برسوں میں نارووال نے ترقی کا ایسا سفر شروع کیا، جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ میرا وہ خواب جو میں نے 2007 ء میں دیکھا تھا، یوں شرمندہ تعبیر ہوا کہ نارووال میں ایک یونی ورسٹی کی بجائے آج تین یونی ورسٹیاں (یونی ورسٹی آف نارووال، یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نارووال کیمپس، یونی ورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنس نارووال کیمپس) ہیں، میڈیکل کالج اور زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد کا کیمپس منظور ہو چکا ہے۔ آج صرف یونی ورسٹی آف نارووال میں ہی 7000 کے لگ بھگ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے لیے دوسرے شہروں میں جا کر تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں۔ سینکڑوں سکول اپ گریڈ ہوئے۔ کامرس اور ٹیکنیکل تعلیم کے کالج بنے۔
ہیلن کیلر نے کہا تھا کہ تعلیم کا سب سے بڑا نتیجہ برداشت ہے۔ گزشتہ دس بارہ برس میں ہمارے ملک میں جو عدم برداشت کا کلچر سامنے آیا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں اگر آپ ایک مخصوص سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کے حامی نہیں تو آپ کو گالیاں بھی پڑیں گی، گھٹیا القابات بھی ملیں گے۔ عوام دست و گریبان ہوئے، گھروں میں لڑائیاں ہوئیں، دوست الگ ہوئے اور اس سارے معاملے کو حق و باطل کی جنگ بنایا گیا جو بنیادی طور پر مفادات کی دوڑ تھی۔
پڑھے لکھے لوگوں تک کی برداشت کا جنازہ نکلا۔ اسی دور میں نام نہاد مذہبی جنونی پیدا کیے گئے اور جب کچھ نہ ملا تو اپنے مخالفین پر جھوٹے فتووں کی بھرمار کی گئی۔ ایک ایسے ہی جنونی نے 6 مئی 2018 ء کو اس وقت کے وزیرداخلہ احسن اقبال پر گولی چلائی اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود انھوں نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ وہ اپنے مخالفین کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرتے اور نہ ان پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ احسن اقبال کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے مقامی اور قومی سطح پر گالی گلوچ کے بجائے برداشت کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے۔
ایک اچھے سیاست دان میں بہت سی خوبیاں ہونی چاہئیں، ان میں سے ایک ملنساری ہے۔ احسن اقبال اس پر جس احسن طریقے سے پورا اترتے ہیں، بہت کم سیاست دان اس پر پورا اترتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، کوئی ہی ایسا ہفتہ ہو گا، جب وہ اپنے حلقے (این اے 76 ) میں نہ آئیں اور شہریوں کی خوشی غمی میں شریک نہ ہوں اور کھلی کچہری میں ان کے مسائل نہ سنیں۔ یہ ایک ایسا وصف ہے جو ان کی حلقے میں مقبولیت کا گراف بلند رکھتا ہے۔
سیاستدانوں کا وفاداریاں تبدیل کرنا کوئی نئی بات نہیں، ڈکٹیٹر شپ کا زمانہ ہو یا بعد کے وقتوں میں زور زبردستی یا لالچ سے وفاداریاں تبدیل کروانے کی بات ہو، احسن اقبال آپ کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ملیں گے۔ ماضی اور حال کے چڑھتے سورج کے پجاری ان سے یہ ہنر سیکھ سکتے ہیں۔
دسمبر 2019 ء میں اس وقت کی حکومت نے ان پر نیب کا ریفرنس اس بنیاد پر بنوا دیا کہ احسن اقبال نے نارووال سپورٹس کمپلیکس کے لیے وفاقی حکومت کے فنڈز کا استعمال کیا اور ایک چھوٹے ضلع میں یہ پراجیکٹ لانچ کیا۔ اس ریفرنس کی بنیاد پر احسن اقبال دو ماہ سے زائد عرصہ قید میں رہے اور بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے باعزت بری ہوئے۔
جیمز فریمین کلارک نے کہا تھا کہ ”ایک سیاستدان اگلے الیکشن کے متعلق سوچتا ہے، جب کہ ایک رہنما اگلی نسل کے بارے میں سوچتا ہے“ ۔ نارووال میں تعلیم کے انقلابی منصوبے ہوں یا کھیلوں کے میدان، سوئی گیس کی فراہمی ہو یا موٹر وے اور ایکسپریس وے کی بات ہو، احسن اقبال موجودہ اور آئندہ نسلوں کے متعلق سوچتے اور منصوبہ بندی کرتے ملیں گے، شاید اسی لیے وہ منصوبہ بندی کے بہترین وزیر ثابت ہوئے ہیں۔ 8 فروری 2024 ء کو ہونے والے عام انتخابات میں احسن اقبال قومی (این اے۔76 ) کے ساتھ صوبائی اسمبلی (پی پی۔ 54 ) کا الیکشن بھی لڑنے جا رہے ہیں۔ میں احسن اقبال کو اس امید کے ساتھ یہ ووٹ دینے جا رہا ہوں کہ معاشرے میں برداشت بڑھے گی، ہم اختلاف رائے کا احترام کرنا مزید بہتر طریقے سے سیکھ پائیں گے کیوں کہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ خوش حالی، امن اور ترقی کا یہ سفر مزید بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ یونہی جاری رہے گا اور وہ منصوبے جو جاری ہیں وہ پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل، جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
(*اس تحریر میں اکیسویں صدی کی نارووال کی مقامی سیاست کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وفاقی سطح پر احسن اقبال کی بطور وفاقی وزیر خدمات خاص کر سی پیک کے متعلق اور نوے کی دہائی کی سیاست ایک الگ مضمون کی متقاضی ہیں ) ۔


