زبان و بیان زبان انسان کی مشترکہ میراث ہے

یہ زبان ہی ہے جس سے ایک فرد دوسرے فرد سے گفتگو خواہ کہہ کر ہو یا لکھ کر کر سکتا ہے۔ اگر زبان نہ ہوتی تو شاید انسان اور جانور میں کوئی زیادہ فرق نہ ہوتا۔ دنیا نے اس وقت جو ترقی کی ہے اس کے پیچھے ماضی کا علم اور تجربہ ہے۔ ماضی کا علم اور تجربہ ہمیں کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے۔ جبکہ موجودہ علم جو زیادہ تر لکھا جا چکا ہے تاہم جو لکھنے والے ہیں وہ اسے بیان کی صورت میں بھی بیان کر رہے ہیں۔
اس وقت دنیا میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں زبانیں موجود ہیں۔ اس وقت انسانوں کے درمیان اگر کسی ماضی کے علم میں اختلاف ہے تو وہ زبان پر نہیں بلکہ اس میں بیان کیے گئے علم کے استدلال پر ہے۔ اگر کسی جگہ زبان کے معنی اور مفہوم پر اختلاف ہے تو وہ بھی ظنی ہیں۔ ظنی سے میری مراد یہ ہے کہ اگر کوئی بات کسی کتاب میں عربی یا انگریزی میں درج ہے لیکن پڑھنے والا انگریزی یا عربی نہیں جانتا تو اس میں لکھنے والے کا قصور نہیں بلکہ اس میں کمزوری پڑھنے والے کی ہے کہ وہ زبان سے ناواقف ہے۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ متعلقہ زبان پر عبور حاصل کرے پھر اس کا مطالعہ کرے۔ لیکن یہاں سب سے اہم بات وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر اہل علم کے درمیان میں بھی زبان کا اختلاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اہل علم تو زبان سے پوری طرح آشنا ہوتے ہیں۔ تو پھر ایسا کیوں ہے؟ یہی میرا اس تحریر کا موضوع ہے۔ ہمارے ہاں روایتی طریقہ یہی رائج ہے کہ جب بھی ہم کسی تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں تو گرائمر یا لسانیات کی کتاب یا ڈکشنری کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اگر میں سوال کروں کہ سب سے پہلے اس دنیا میں زبان آئی یا گرائمر تو اس کا جواب کیا ہو سکتا ہے۔ تو اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ اس دنیا میں سب سے پہلے زبان آئی پھر اس زبان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے گرائمر وجود پذیر ہوئی۔ مطلب زبان قطعی ہے اور گرائمر یا ڈکشنری ظنی ہے۔ کیونکہ گرائمر زبان کو سمجھنے کا علم ہے۔ ڈکشنری میں کیونکہ ہر لفظ کے دس دس معنی بھی ہوتے ہیں تو وہ دراصل زبان سے ہی لئے جاتے ہیں۔ ڈکشنری ترتیب دینے والا خود سے الفاظ کے معنی درج نہیں کرتا بلکہ وہ اس لفظ کے زبان یا جملے میں جو استعمالات ہوتے ہیں اسی کے مطابق معنی درج کرتا ہے۔
تو اس میں اصل اہمیت زبان کو ہے۔ زبان نطق ہے منطق نہیں۔ زبان سماء ہے منطق نہیں۔ زبان علم نہیں بلکہ فن بیان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اہل علم کے درمیان زبان کے معنی اور مفہوم میں کیوں اور کیسے اختلاف واقع ہوجاتا ہے؟ کسی بھی زبان پر عبور حاصل ہوجانا بہت بڑی بات ہے۔ تاہم چند ایسی چیزیں ہیں جنہیں اگر نظر انداز کر دیا جائے تو ساری کی ساری عبوریت پر پانی پھر سکتا ہے۔ کسی بھی تحریر کے مدعے کو سمجھنے کے لئے تین بنیادی چیزیں درکار ہیں۔
مثلاً اگر کسی تحریر میں کوئی لفظ آتا ہے جس کے ایک سے زیادہ مطلب ہوں تو کیسے طے کیا جائے گا کہ یہاں اس تحریر میں اس کا مفہوم کیا ہو گا۔ لفظ کے معنی کے لئے تالیف جملہ ضروری ہے مطلب جملے کی تالیف کی جائے گی کہ اس لفظ کا کیا معنی ہوتا ہے۔ مثلاً لفظ اچھا کے اکتالیس معنی ہیں تو کیسے طے ہو گا کہ کس جملے میں اس کا کیا معنی ہونا چاہیے اس کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً اگر میں کہوں (یہ لڑکا بہت اچھا ہے ) یا اگر میں کہوں ( اچھا بتاؤ کھانے میں کیا کھاؤ گے ) تو اردو زبان سے واقف شخص بآسانی میری اس بات کو سمجھ گیا ہے کہ دونوں جملوں میں لفظ (اچھا) کس کس معنی میں لیا گیا ہے۔
تو بات واضح ہوئی کہ کسی بھی معنی کو جاننے کے لئے سب سے پہلے اسے جملے میں رکھ کر دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد باری آتی ہے کہ جملے کا مفہوم کیسے سمجھا جائے؟ جو بھی تحریر لکھی یا پڑھی جاتی ہے تو اسے دیکھا جاتا ہے کہ درمیان کے جملے سے پہلے اور بعد کے جملے میں کیا بیان ہوا ہے۔ عام لفظ میں سیاق و سباق دیکھا جاتا ہے۔ مطلب سیاق و سباق سے ہی جملے کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے۔ تو واضح ہوا کہ لفظ کے معنی کے لئے تالیف جملہ اور جملے کے مفہوم سمجھنے کے لئے سیاق و سباق دیکھا جائے گا۔
دنیا کی ہر تحریر میں یہی رویہ اپنایا جاتا ہے۔ تاہم کچھ اختلاف اصطلاحات سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک لفظ کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں۔ تاہم علم و فن اور جگہ کے لحاظ سے اس کے معنی تبدیل نہیں ہوتے لیکن اصطلاحات میں تبدیلی وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔ عام طور پر جب کوئی اہل علم کسی تحریر کا ایک زبان سے دوسری زبان کا ترجمہ کرتا ہے تو اس وقت غلطی کھاتا ہے۔ اس کو ہم مسئلہ علم لسانیات کا نام دے سکتے ہیں۔ اس کو مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم کسی کو کہتے ہیں کہ (ٹیلی ویژن بند کردو) تو عامی بھی اس بات سے واقف ہے کہ میرا کہنے کا مطلب کیا ہے۔ لیکن اگر کوئی لسانیات کی کتاب کھول کر اس کو سمجھے کہ ٹیلی سے مراد منتقل کرنا اور وژن سے مراد منظر تو گویا اس کا مطلب بنا انتقال منظر۔
لسانیات اپنی ذات میں ایک مفید علم ہے۔ اس سے لطف اندوز بھی ہوا جاسکتا ہے لیکن جب کسی شے کا ترجمہ کیا جائے گا تو اس کو لسانیات کی کتاب میں معنی ڈھونڈنے کی بجائے اس کا وقت کے لحاظ سے استعمال دیکھا جائے گا۔ اسی طرح اگر میں کہوں کہ ( میں شوربے سے روٹی کھانا پسند کروں گا) تو یہاں شوربہ سے مراد ہر شخص واقف ہے کہ شوربہ کس مفہوم میں بولا جا رہا ہے۔ لیکن اگر لسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو شور سے مراد نمک اور بہ سے مراد پانی تو اس سے مراد بنا نمک والا پانی۔
حالانکہ میرا یہ کہنے کا مقصد ہرگز نہیں تھا میں تو اس شوربے کی بات کر رہا ہوں جو گوشت کے سالن یا آلو مٹر کے سالن کا شوربہ ہوتا ہے۔ مطلب کچھ لفظوں کی پیدائش اپنے شروعات میں کچھ اور معنی دیتی ہے۔ لیکن ہمیں اس کو جگہ اور وقت کے لحاظ سے معنی اخذ کرنے چاہیے ورنہ ترجمہ کرتے ہوئے بات کا مدعا ہی غلط ہو جائے گا۔ مطلب جب بھی ہم کوئی پندرہ سو سال پرانی تحریر پڑھیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس تحریر میں جو بھی لفظ آیا ہے اسے آج کے مفہوم میں سمجھنے کی بجائے پندرہ سو سال پہلے دیکھا جائے کہ اس وقت اس لفظ کا کیا استعمال تھا۔
ورنہ اگر لسانیات کی کتاب کھول کر معنی اخذ کیے گئے تو ساری کی ساری تحریر کا مطلب ہی الٹ ہو جائے گا۔ ہر تحریر قطعی ہوتی ہے۔ تحریر لکھنے والا اس اساس کے ساتھ لکھتا ہے کہ پڑھنے والا اسے ایسے ہی سمجھے جیسے اس کا کہنے کا مطلب ہے۔ اگر پڑھنے والا زبان کے مفہوم سے نا واقف ہے تو اس میں لکھنے والے کا قصور نہیں بلکہ پڑھنے والے کا قصور ہے۔ پڑھنے والے میں دو اقسام کی کمی ہو سکتی ہے۔ جس کو مولانا امین احسن اصلاحی قلت علم اور قلت تدبر سے تعبیر کرتے ہیں۔

