آدھے ادھورے خواب


اس سے پہلے کہ میں یہ عرض کروں کہ یہ ناول فلاں صاحب کا ہے یہ ناول خود ببانگ دھل کہہ رہا ہے کہ میں ڈاکٹر شاہد صدیقی کا لکھا ہوا فن پارہ ہوں۔

اور یہ ناول خود اپنے دعوے کے سپورٹ میں اپنے ہی بطن سے دلائل پیش کرتا ہے اور وہ یہ کہ یہ ناول کسی خاص مقصد اور منصوبے سے لکھا گیا ہے لیکن اس منصوبے میں جملہ مشاہدات، تجربات سے جو تخیل اور تخیل سے جو تخلیقیت سامنے لائی گئی ہے وہ اس سارے منصوبے کو واقعی ناول جیسے صنف کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

اس ناول کا پلاٹ یونیورسٹیوں کے حدود اربعہ پر محیط ہے اور اس ناول کی کہانی ان یونیورسٹیوں کے اندر تعلیمی ماحول، تعلیمی طریقہ کار اور اساتذہ و شاگردوں کے مابین حد فاصل اور نا حد فاصلہ کے مابین ایک واضح لکیر کھینچتی ہے۔

اس ناول میں اتنے کتابوں کے حوالے ہیں کہ کسی مقالے میں بھی شاید اتنے حوالے نہ ہوں لیکن کسی بھی جگہ قاری پر یہ گراں نہیں گزرتا کہ وہ کوئی مقالہ پڑھ رہا ہے بلکہ وہ ناول ہی کے سحر میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور آگے کیا ہو گا کے تجسس میں پڑھتا اور بڑھتا جا رہا ہوتا ہے اور ایک بھی لمحے کے لئے ناول سے بے اعتنائی نہیں برت سکت ہے۔

اس ناول میں قاری اس مشاہدے سے بھی گزرتا ہے کہ اگر کوئی اپنے کام سے مخلص ہو اس میں ڈیڈی کیشن ہو تو وہ اپنی ذاتی زندگی کی پرواہ کیے بغیر ہی یہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ اپنے سینے میں محبت یا رومانس بھرا دل نہیں رکھتا یا وہ سماجی اقدار کا امین نہیں ہوتا وہ رومانس کا بھی دلدادہ ہوتا ہے اور سماجی اقدار کا صرف امین ہی نہیں ہوتا وہ اس عمل میں صادق بھی ہوتا ہے۔

آدھے ادھورے خواب وہ مکمل خواب ہیں جو درست تعلیمی ماحول اور درست تعلیمی سمت کے ہوتے ہوئے سر کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ اس کے لئے سہارن رائے کی شکل میں استاذ میسر ہو جو نہ صرف مطالعے کے نفسیات جانتے ہوں، بلکہ پڑھنے کے نفسیات کے ساتھ ساتھ پڑھانے والوں کے بھی نفسیات سے واقف ہوں۔ طالب علم ان کی مثالیں دیتے ہوں، ان کے نقش پا پر اپنے نقش پا رکھنے کے لئے مواقعے ڈھونڈتے ہوں ان کے ساتھ ہر قسم کے مسائل ڈسکس کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے ہوں ان کے لیکچرز کو ایک ایونٹ کا درجہ دیتے ہوں۔

اس ناول میں جگہ جگہ وہ تخلیقی جملے ہیں جو ناول کو اصل میں ناول کا پیراہن پہناتا ہے لیکن یہ وہ پیرہن نہیں جو تار تار ہو بلکہ ان جملوں کے تار تار سے ایسی تخلیقی بخیہ گری کی گئی ہے کہ بظاہر ہر جملہ اپنی اپنی جگہ الگ الگ ماحول اور حالات کے مطابق بروئے کار لایا گیا ہے لیکن اس کی پیوندکاری اس ہنر اور استاکاری سے کی گئی ہے کہ فن کا سراپا خود تکمیل فن کا نقارہ بجاتا ہے۔ وہ تخلیقی جملے زرہ میرے ساتھ اپنے مطالعے کا حصہ بناتے ہوئے پڑھیں گے تو میری بات سند تصدیق حاصل کر سکتی ہے ورنہ نہیں۔ جیسے کہ

اتنی بلندی سے اس تک آواز کیسے پہنچتی؟
میں نے اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ کبھی کبھار بلندی بھی بے چارگی کا جواز بن جاتی ہے؟
بعض دفعہ ایک حرف اعتراف کیسے اضطراب کو سکون میں بدل دیتا ہے۔

ہوا سے ان کے بال شانوں پر جھول رہے تھے لیکن وہ چہرے پر آتے ہوئے بالوں کو ہٹا نہیں پا رہے تھے کیونکہ ان کے دونوں ہاتھوں میں کھولتی ہوئی چائے کے دو کپ تھے۔

سر! ماں کو بغیر بتائے ہر دفعہ کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں آ رہی ہوں؟ پھر میں یہ سوچتی ہوں وہ ماں ہے بہت دور سے اپنے وجود کی خوشبو پہچان لیتی ہے۔

پانی کے بہنے کی بھی اپنی موسیقی ہے سر اسے سن کر آپ اے آر رحمان کی موسیقی کو بھول جائیں گے۔ بالکل سچ کہہ رہی ہوں سر۔

اگر منصف ہی زور آوروں کے دست و بازو بن جائیں تو عام لوگ انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ اور اس کے ساتھ مجھے خوشحال خان خٹک کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے۔

سوک بہ چا لرہ پہ داد او پہ فریاد زی
چے پہ ظلم راضی مند خول بادشاہان
کون کس کے پاس اپنی داد اور فریاد لے کر جائے
جب بادشاہان وقت خود ظلم کرنے پر تل گئے ہوں۔

مزاحمت تو گھپ اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے اور گھٹن آلود ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا۔ روشنی اور تازہ ہوا کے یہ استعارے ہی نہ رہے تو زندگی بے رنگ ہو جائے گی۔ ،

افادہ میں ضروری نہیں فائدہ ہو لیکن اس سے تسکین وابستہ ہوتی ہے۔

محبت اپنے آپ کو مٹانے کی خواہش کا نام ہے۔ ہم محبت کے معبد میں داخل ہوتے ہیں تو اپنا تجربہ، اپنا مرتبہ اور اپنی آنا اس کی دہلیز پر رکھ جاتے ہیں۔ ،

جب محبت ہو جاتی ہے تو اپنی راہ خود بنا لیتی ہے پہاڑی جھرنے کی طرح۔ ،
میں ڈوبنے سے نہیں لاپتہ ہونے سے ڈرتا ہوں۔
تبدیلی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ کوئی بھی تخلیق تکلیف کے بغیر ظہور میں نہیں آتی۔ ،
محبت میں صلے کی طلب نہیں ہوتی۔ صلے کا خیال آ جائے تو یہ کاروبار بن جائے۔
پروفیسر رائے جیسے لوگ گہرے سمندر کی طرح ہوتے ہیں۔ سطح آب پر ساکت، خاموش اور گم۔
اور تہ میں کتنے ہی ہنگامے۔
نادیدہ طوفان۔
اور لہروں کے الٹ پھیر۔

اس ناول میں وہ فطری منظر کشی ہے جو ہر کردار اور ہر کردار کے سوچ اپروچ اور اس وقت کے محل وقوع کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ وہ صرف کردار، کہانی اور ماحول تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ قاری کے حواس خمسہ اس کو اس طرح اپناتا یا اون کرتا ہے کی وہ کچھ لمحات تک خود کو بھی اس ماحول میں محسوس کرتا ہے۔

اس ناول میں مکالموں کا وہ وزڈم ہے وہ دانشمندی ہے، وہ عقلی اور شعوری ابلاغ ہے جو تادیر قاری کو بار بار دہرانے اور اپنے ساتھ خودکلامی کرنے کے لئے روکتا ہے اور جب وہ اس کو اپنے حافظے میں ٹھیک طور سے محفوظ کرتا ہے تو تب آگے بڑھنے اور پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے۔

اس ناول میں میں جگہ جگہ طنزو مزاح اور ظرافت سے بھی کام لیا گیا ہے لیکن یہ طنز اور مزاح قہقہوں کا طنزو مزاح نہیں بلکہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ سماجی اور اخلاقی سلیقے اور قرینے کو بھی لے کے چلتا ہے۔

اس ناول میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ نہ تو اتنا عامیانہ ہے کہ وہ عمومی ادبی سطح سے انجماد کی طرف حرکت میں دکھتا یا محسوس ہوتا ہو اور نہ اتنی مشکل اور خالصتاً علمی ہے کہ اس کی سطح میں قاری معنوی اور تشریحی تپش رسائی سے دوچار ہو۔

اس ناول کے پڑھنے سے قاری ایک نئے سوچ اور اپروچ کی طرف چل پڑنے لگتا ہے اور ایک آئیڈیا لے کر اس طرز کے کئی موضوعات پر ناول لکھنے کا ارادہ کر کے مذکورہ ناول کو اپنی لائبریری کی زینت بنا دیتا ہے۔

Facebook Comments HS