محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی یاد میں
27 دسمبر کے سیاہ دن کو دختر مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کی حیثیت سے یاد رکھا جاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا اندھیرا اور سکوت نہیں دیکھا جتنا 27 دسمبر 2007 کی رات مری روڈ پر تھا۔ فضاء دکھ اور درد کو سمیٹنے میں مصروف تھی مگر درد کی شدت بہت زیادہ تھی۔ کیونکہ ایک معصوم اور پرامن خاتون کا لاشہ مری روڈ کے ہسپتال میں پڑا تھا۔ وار کرنے والے اپنا مشن مکمل کر کے جا چکے تھے۔ ریاست اپنی ناکامی کا نوحہ پڑھ رہی تھی اور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر محترمہ کی شہادت کو گاڑی کے لیور پر ڈالنے میں مصروف تھا۔
27 دسمبر کا دن بڑا تکلیف دہ تھا کیونکہ محترمہ کی شہادت سے کچھ گھنٹے پہلے کورال کے مقام پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے پر چند ناعاقبت اندیش افراد نے حملہ کیا جس میں میاں صاحب معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ستم ظریفی سے پاکستان کے دو اہم ترین سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہی دن کا انتخاب کیا گیا تھا۔ میاں نواز شریف گو کہ خود بھی خطرے سے دو چار تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ جنرل ہسپتال راولپنڈی پہنچے اور غم سے نڈھال جیالوں کو دل سے لگا کر حوصلہ دینے کی کوشش کی۔
محترمہ کی شہادت کو ایک سیاہ باپ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ اس سانحہ عظیم کے بعد سیاست میں خوفناک خلا پیدا ہوا جو سولہ سال گزرنے کے بعد بھی پر نہ کیا جا سکا۔ نہ ہی ہم نے اس قومی نقصان سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ اس دن کی مناسبت سے لکھاری حضرات کالم اور مضامین لکھ کر شہید بی بی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ کارساز پر خودکش حملے کے بعد اگر کوئی اور سیاستدان ہوتا تو اس نے ملک چھوڑ دینا تھا۔ لیکن وہ بینظیر بھٹو تھیں، بہادری کا درخشندہ ستارہ تھیں، جرات کا نشان تھیں۔ انہوں نے دہشت گردوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی رابطہ عوام مہم جاری رکھی۔ اور شہید ہو کر امر ہو گئیں وہ جانتی تھیں کہ موت کا ایک وقت اور مقام متعین ہے۔ محض اسی وجہ سے محترمہ نے جنرل ندیم تاج سے ملاقات کے بعد بھی پنڈی جلسے میں عدم شرکت سے معذرت کرلی تھی۔
بی بی شہید پر سابق صدر پرویز مشرف سے ڈیل کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ بعض محققین بینظیر مشرف ڈیل کو محترمہ کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہیں اور بعض کے مطابق سیاست دانوں کو سیاست میں بات چیت اور مفاہمت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ میرے خیال میں جب کسی آمر کا اقتدار خطرات سے دوچار ہو تو اس سے کسی قسم کی ڈیل سے اجتناب برتنا چاہیے۔ ایک منجھا ہوا سیاسی لیڈر ہمیشہ اپنے اور دوسرے کے لیے گنجائش رکھتا ہے، تاکہ جمہوریت کا پودا ترو توانا رہے۔ جمہوری سوچ اور اصولی سیاست ہی کسی لیڈر کو ممتاز رکھتی ہے۔ اور اسی نظریے نے ضیاء الحق اور مشرف جیسے ڈکٹیٹرز کو جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ محترمہ کے چاہنے والے ان کی برسی کی مناسبت سے ان کی زندگی کے بعض پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔
اصل دکھ اس بات کا ہے کہ ان کی شہادت کے 16 سال بعد بھی ان کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے۔ حالانکہ ان کی شہادت کو لے کر وسیع پیمانے پر تحقیقات کی گئیں۔ قومی اداروں کے علاوہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی تحقیقات کیں مگر بی بی کے قاتل نامعلوم ہی رہے اور نہ ہی ان کے کیس میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔ اللہ کریم محترمہ بے نظیر کو غریق رحمت کرے۔ ان کی شہادت سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے باعث غیر جمہوری رویہ رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ اور چند سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
ضیاء الحق کی طیارے حادثہ میں ہلاکت کے بعد محترمہ کی سیاست کے میدان میں آزادی کے ساتھ نقل و حرکت ممکن ہوئی تھی۔ بعض ناعاقبت اندیش سیاسی عناصر محترمہ کے ساتھ خواہ مخواہ بغض اور پرخاش رکھتے تھے۔ نام نہاد مرد مومن مرد حق کی برسی پر چند عناصر کی تقاریر کے ٹکڑے اگر سن لیں تو سب کو اندازہ ہو جائے گا کہ ایک نہتی لڑکی سے ان کو کتنی عداوت تھی۔
شہید وزیراعظم کی سب سے بڑی خوبی ان کا عام پارٹی ورکرز کے ساتھ رابطہ رکھنا تھا۔ وہ ہر قومیت، رنگ و نسل کے کارکن کو ایک نظر سے دیکھتی تھیں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتیں۔ انہوں نے اپنے اور غریب پارٹی کارکن کے درمیان کسی کو بھی حائل نہیں ہونے دیا۔ اسی وجہ سے آج ملک کے کونے کونے سے لوگ جوق در جوق گڑھی خدا بخش پر واقع ان کے مزار کا رخ کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بات بھی یاد کراتا چلوں کہ سانحہ کارساز میں قاتلانہ حملے میں بے شمار بے گناہ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، محترمہ نے ایسے تمام لاوارث شہداء جن کی باڈی شناخت کے قابل نہ تھی، انہیں بھٹو قرار دے کر گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں مدفون کرانے کے احکامات جاری کیے۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید جیسی درد دل رکھنے والی خاتون کو پاکستان نے ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں احساس ہی نہیں ہے کہ ہم کتنا خسارہ اٹھا چکے ہیں۔


