ایگرو فارسٹری یا زرعی شجرکاری
جب سے انسان نے صنعتی ترقی کے راستے پر قدم رکھا ہے اس دن سے اس نے زمین کے قدرتی ماحول پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ 1981 کے بعد سے زمین کا درجہ حرارت ہر دس سال میں 0.18 کی شرح سے بڑھ رہا ہے اور زمین کا ٹمپریچر صنعتی انقلاب کے بعد سے مزید 1 درجہ بڑھ گیا ہے۔ نتیجے میں یہ انتہائی خوشگوار موسموں کا حامل سیارہ زمین روزبروز گرم ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انتہائی خشک سالی، بے قاعدہ بارشیں، سمندری طوفان، گلیشئرز کا پگھلنا اور سمندر کی سطح میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بات دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہے کہ ایگرو فارسٹری زمین کی حفاظت، ترقی اور دیہی آبادی کی قسمت کو بدلنے کے لئے ایک بہترین طریقہ کار ہے۔ پاکستان کی سرزمین جہاں پر درختوں اور دیگر نباتات کا فقدان ہے وہاں پر لکڑی کی کمی کو پورا کرنے اور ماحول کی بہتری کے لیے اس سے بہتر لائحہ عمل موجود نہیں۔ اگرچہ ہمارے ملک میں بھی بہت عرصے سے درخت لگائے جانے کا سلسلہ چلا آ رہا ہے لیکن اس میں تسلسل نظر نہیں آ رہا ہے۔
زرعی زمینوں پر شجرکاری کی بڑی وجہ زمین کی حفاظت کرنے اور زرعی پیداوار کو بے شمار نقصانات سے بچانا بھی ہے۔
درخت قدرتی طور پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے اسے محفوظ رکھتے ہیں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرتے ہیں۔ پرانے درختوں میں نوجوان درختوں کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ ایک بالغ درخت، ہر سال تقریباً 50 پاؤنڈ ( 22 کلوگرام) کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتا ہے جو کاربن میں تبدیل ہو کر پودے کی شاخوں، پتوں، تنوں، جڑوں اور مٹی میں محفوظ ہو جاتا ہے۔
تقریباً 2.6 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ، جو فوسلز ایندھن کو جلانے سے خارج ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک تہائی ہوتا ہے ہر سال جنگلات جذب کر لیتے ہیں۔ آکسیجن جو تمام جانوروں کی زندگی ہے درختوں سے ایک خاص منفرد عمل کے ذریعے خارج ہوتا ہے جسے فوٹو سنتھیسز کہتے ہیں۔ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی، سورج اور ہوا شامل ہوتی ہے۔ درخت ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہمیں بہت زیادہ فائدے پہنچاتے ہیں۔ یہ ہمیں سایہ دیتے ہیں، سردی کے موسم میں سرد ہواؤں کو روکتے ہیں، پرندوں اور جنگلی حیات کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، ہماری ہوا کو صاف کرتے ہیں، ہمارے لیے پانی کو صاف کرتے ہیں، اور ہمارے گھروں اور گاؤں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہی درخت پانی کے بہاؤ کو منظم کرتے ہیں زمین کو کٹاؤ سے روکتے ہیں اور ساحلی علاقوں کو سطح سمندر میں اضافے سے بچاتے ہیں۔
زرعی زمینوں پر شجرکاری پاکستان میں بھی ہو رہی ہے لیکن چونکہ اب کاٹنے کی رفتار لگانے سے بڑھ گئی ہے اس لیے زرعی زمینوں پر درخت اب کم نظر آنے لگے ہیں۔
ایک ایسے ملک میں جو لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کی پیدائش کا جشن مناتا ہے، ایک چھوٹا سا ہندوستانی گاؤں پیپلانتری (Piplantri) ایک تازگی کا منظر پیش کرتا ہے جو روایتی نقطہ نظر کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نوزائیدہ لڑکیوں کے لیے گڑیا خریدنے کے مغربی رواج کے بجائے، راجستھان کی یہ بستی گاؤں میں ہر بار بچی کی پیدائش پر 111 درخت لگاتی ہے۔ گاؤں والے پیسے دینے اور پھلوں کے درخت لگانے میں مدد کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، جو بچے اور اس کے خاندان کے لیے خوراک مہیا کرتے ہیں۔
راجستھان کا گاؤں ایکو فیمینزم کو فروغ دینے کے لیے ہر پیدا ہونے والی لڑکی کے لیے 111 درخت لگاتا ہے۔ یہ روایت لڑکیوں کا جشن مناتی ہے جبکہ خاندانوں اور مجموعی طور پر گاؤں کے لیے ایک پائیدار مستقبل تخلیق کرتی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ایک چوتھائی ملین درخت لگائے گئے ہیں بلکہ خاندانوں کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ ان کی بیٹیوں کی شادی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ تعلیم حاصل کر کے 18 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائیں۔
یہ ناقابل یقین رواج 2006 میں گاؤں کے سابق سربراہ شیام سندر پالاول نے اپنی بیٹی کرن کی بیماری کے باعث المناک نقصان کے بعد شروع کیا تھا۔ ’گاؤں والے ہر پیدا ہونے والی بچی کے لیے 111 درخت لگاتے ہیں اور کمیونٹی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ درخت زندہ رہیں، ہمیں بھی ایسی ماحول دوست روایت کی اپنے ملک میں رائج کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
ایک حد تک یہ باعث اطمینان ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے درخت لگانا بہت سی ماحولیاتی مہم کا سنگ بنیاد بن گیا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں شجرکاری کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کاربن کے اخراج کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی میں مدد کرنے کے لیے شجرکاری ہی موثر طریقہ ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کو اگر 1.5 ڈگری سیلسئس تک قابو میں رکھنا ہے تو 2050 تک زمین پر ایک ٹریلین درخت لگانے ہوں گے ۔


