نازک موڑ سے نکالنے کا فیصلہ کس نے کرنا ہے؟
غالباً اس وقت کے نامور صحافی ہوں ہمارے اجداد ہوں یا قیام پاکستان کے بعد جنم لینے والے تمام افراد سب ہی اس بات پر متفق ہوں گے کہ انہوں نے پاکستان سے متعلق یہ جملہ اپنے وقت کے یا بچپن سے لے کر اب تک ہر حاکم وقت سے ضرور سنا ہے کہ پاکستان ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یقیناً قارئین بھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ انہوں نے بھی اپنی زندگی میں جملہ ضرور سنا ہو گا مگر بدقسمتی کہ پاکستان کے لیے یہ نازک موڑ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ یا شاید اس نازک موڑ کو ہم ختم کرنا ہی نہیں چاہ رہے کیونکہ اس نازک موڑ پر ایک ایسی دھند کا راج ہے جہاں سرمایہ دار، جاگیردار اور ہر طاقتور شخص اپنی نسلیں سنوار کر کسی ایسے ملک میں جا کر زندگی بسر کرنے لگتا ہے جہاں نازک موڑ جیسی کسی چیز کا نام نہیں۔
ان ممالک میں نازک موڑ کی جگہ قانون کی بالادستی نے لے رکھی ہے جبکہ پاکستان میں نازک موڑ پر موجود دھند چھٹنے پر غریب کے بچے بھوک و افلاس سے دم توڑ دیتے ہیں، غریب کی بیٹی کی عصمت لٹ چکی ہوتی ہے اس ناپید تعلیمی نظام میں گریجویٹ کرنے والا نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے یا تو پاکستان میں نوکریوں کے لیے دھکے کھا رہا ہے یا پھر کسی بھی دوسرے ملک میں ڈلیوری بوائے یا ہیلپر کی نوکری کی تلاش میں لگا ہوا ہے مگر ملک پھر بھی اسی نازک موڑ پر ہے۔ اور اس نازک موڑ کی وجہ میرے نزدیک اس ملک میں نظام کی عدم موجودگی ہے
جس ملک میں آئین سے زیادہ لاٹھی مضبوط ہو جس ملک میں آئین سے زیادہ لاٹھی کی چلتی ہو جس ملک میں عدالتیں آئین کی جگہ لاٹھی کے زور پر فیصلے دیتی ہوں جس ملک کے حکمران الیکشن کی جگہ سلیکشن سے آتے ہوں اس ملک کا اپنے قیام کے بعد سے 76 سال تک نازک موڑ میں رہنا کسی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس ملک کو اس نازک موڑ سے نکالنے کا فیصلہ کس کو کرنا ہے؟
ملک کو اگر نازک موڑ سے نکال کر عظیم مقاصد کو مسخر کرتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام عظیم اقوام میں شامل کرنا ہے تو فیصلہ کرنا ہو گا اور یقیناً یہ فیصلہ اس ملک کے اس غریب کو کرنا ہو گا جس کے بیٹے نازک موڑ کی دھند میں بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں، فیصلہ اس غریب کو کرنا ہو گا جس کی بیٹی کی عصمت لٹ رہی ہے، فیصلہ اس غریب کو کرنا ہو گا جس کی چادر اور چار دیواری کا تقدس نازک موڑ کی اس دھندلاہٹ میں پامال ہو رہا ہے فیصلہ اس نوجوان کو کرنا ہو گا جو ریاست کے دیے ہوئے بوجھ کو پورا کرنے کے لیے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے فیصلہ اس نوجوان کو کرنا ہو گا جو اس خستہ حال تعلیمی نظام کی ڈگری ہاتھ میں پکڑے روزگار کے لیے دیار غیر میں دھکے کھا رہا ہے جو اس ملک سے اعلی تعلیم حاصل کر کے بھی اپنوں سے دور دیار غیر میں رہ کر اپنوں کا پیٹ پالنے پر مجبور ہے۔
یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک کو 76 سال سے پھنسے اس نازک موڑ سے نکالنے کے لیے ایک مضبوط آئین اور مضبوط نظام کی ضرورت ہے نہ کہ ایک مضبوط لاٹھی کی۔ غریب کے ہاتھ میں ایک آخری طاقت اس کا ووٹ ہے جس کا آج تک وہ صحیح استعمال نہیں کر سکا اور اگر کیا بھی ہے تو شاید اس کے ووٹ کو وہ عزت ہی نہیں مل سکی جو آئین اس کو دیتا ہے اگر یہ 74 سالوں تک پسنے والی عوام نہ صرف اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرے بلکہ آئین اور سویلین بالا دستی کے لیے ڈٹ جائے تو اس ملک کو نازک موڑ سے نکالا جا سکتا ہے
خدا کرے کہ اس ملک پاکستان کی روشن صبح قریب ہو اور اللہ پاک اس ملک کی عوام کو امیدوں کا سورج طلوع دیکھنا نصیب فرمائے


