عورت کا استحصال اور عہد جدید
لاکھوں سال انسان ایک ایسے سماج میں رہا ہے جس میں طبقاتی تقسیم وجود نہیں رکھتی تھی۔ جس میں ذاتی ملکیت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس دور میں گزر بسر کے ذرائع شکار اور پھل اکٹھا کرنے کے تھے۔ اس سماج میں عورتوں اور مردوں کی ذمہ داری شکار کرنا جبکہ عورتوں کی ذمہ داری بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی۔ یہ تقسیم اس وجہ سے نہیں تھی کہ عورتیں کمزور ہیں اور شکار جیسے عمل میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتیں بلکہ اس کی وجہ محض حیاتیاتی فرق تھا۔
جس میں عورت کا دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے ابتدائی عرصے میں اس طرح کی سرگرمی میں حصہ لینا ممکن نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو شکار پر لے جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس دور میں عورت کی قدر مرد کی نسبت زیادہ تھی۔ تکنیک میں ترقی کے ساتھ زراعت کا آغاز ہوا اور قدیم اشتراکی سماج کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا تو مستقل رہائش رکھی گئی۔ ایک جگہ پر رہائش ذاتی ملکیت کے تحفظ اور اس کی اگلی نسل تک منتقلی وہ وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر خاندان کا ادارہ وجود میں آیا مادر سری کی جگہ پدر سری سماج نے لے لی۔ اور سماج دو طبقات میں تقسیم ہو گیا۔
اس طبقاتی نظام نے سماج میں عورت کے مقام کو مرد کی نسبت باقاعدہ کم کر دیا جو اب تک چل رہا ہے۔ سرمایہ درانہ نظام میں عورت ایک شے کی حیثیت اختیار کر گئی۔ عورت کا سیاسی، سماجی، معاشی اور جنسی ہر سطح پر استحصال ہوتا آ رہا ہے۔ عورت کو آج بھی اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ مادی اعتبار سے اکیسویں صدی جیسے ترقی یافتہ دور میں عورت باوجود تانیثی تحریک کے ایک قابل رحم شے محسوس ہوتی ہے۔
بحیثیت انسان عورت کو کم تر سمجھنے کا رویہ ہنوز رو بہ عمل نظر آتا ہے۔ آج بھی ہمارے ملک پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں عورت کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔ علم تو روشنی ہے جو انسان کو جینا سکھاتی ہے اس کی سوچ میں وسعت پیدا کرتی ہے۔ پھر عورت کو آگے بڑھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ عورت کو آگے بڑھنے میں جو مشکلات در پیش ہیں چاہیے تو یہ کہ ان کا خاتمہ کرنا چاہیے اور ایک آزاد اور محفوظ ماحول مہیا کرنا چاہیے۔
آج بھی بیٹی پیدا ہونے پر غم و غصہ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ جائیداد میں حصہ داری ہے۔ عورت کو جائیداد تو دور کی بات تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ عورت کو ہر سطح پر کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اور اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تم کمزور ہو۔ جبکہ عورت کو ذہنی طور پر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ ہر مشکل گھڑی کا اکیلے مقابلہ کر پائے۔
کئی والدین پیسوں کے لالچ میں بچیاں بیچ دیتے ہیں۔ اور اسے شادی کا نام دیتے ہیں۔ عورت کے پسماندہ ہونے میں دیگر اسباب کے علاوہ مرد اساس معاشرہ سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ عورتیں ہر انسانی معاشرے کا اتنا ہی قیمتی اثاثہ ہیں جتنا کہ مرد۔ دنیا کی نصف آبادی کی نمائندہ عورت کو سیاسی، سماجی، معاشی ہر سطح پر اہمیت دی جائے۔ عورت کا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونا پورے معاشرے کا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونا ہے۔ آج کے عہد جدید میں بھی عورت کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو کہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔
جنسی تفریق سے نکل کر ہی کوئی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ عورت کی آزادی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مظالم اور سوالات کا حل صرف اور صرف ایک ایسے سماج ہی میں ممکن ہے جہاں تمام انسان شعوری طور پر سماج کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور ایسا سماج صرف اس وقت ہی قائم کیا جا سکتا ہے جب جنسی تفریق کا خاتمہ ہو گا۔
( مجلؔی کے قلم سے )



Very nice, effective, productive and constructive article by the great writer Alishba.
Keep writing and inspiring.
More power to your pencil.
I like historical part
Keep writing
You absolutely right Dear!in our pateriarchal society its common to see gender as a self and other to cover self machenaism.I hope your piece of writing play a vital role to give acknowlegment about women ‘s right .Thank you so much for ur kind words.