کیا ہم افغان شہریوں کو واپس بھیجنے میں سنجیدہ ہیں؟


ملک میں نگران حکومت کے آتے ہی جو سب سے اچھی خبر سننے کو ملی وہ یہ تھی کہ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ کے لیے جن افغان شہریوں کو پاکستان میں رکھا گیا تھا، ان کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔ اس سلسلے میں اخبارات میں خبریں آئیں اور بہت پروپیگنڈا ہوا کہ اب سب غیر قانونی افغان شہری اپنے ملک واپس جائیں گے۔

پاکستان کے شہری خوش ہو گئے کہ اب ان کے وسائل پر اضافہ آبادی کا دباؤ کم ہو گا۔ ملک میں بدامنی کو قابو کرنے میں آسانی ہوگی۔ جرائم کی تعداد اور رفتار کم ہوگی۔ ملک میں سمگلنگ کا طوفان رک جائے گا۔ ملک میں منشیات کی دستیابی کے ذرائع ختم ہوجائیں گے۔ پاکستان کے شہروں میں واقع ہسپتالوں میں رش کم ہو گا۔ مارکیٹوں سے دو نمبر اشیاء کا خاتمہ ہو جائے گا۔ شہری زندگی میں سکون آ جائے گا۔ مگر ایسا کچھ خاص نہیں ہوا۔ حکومت کا دعوی ہے کہ پانچ لاکھ کے قریب افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔

یہ یقیناً درست ہو گا۔ مگر عملاً آپ پشاور کے ان علاقوں میں جائیں جہاں افغان شہریوں کا قبضہ ہے تو آپ پریشان ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ وہاں کچھ فرق نہیں آیا۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ افغان شہری اب بھی یہاں موجود ہیں۔ اب بھی بورڈ بازار میں سارے دھندے ان کے ہیں۔ اب بھی حیات آباد میں رہائش پذیر زیادہ تعداد افغان شہریوں کی ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر ان کے کاروباروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں ان افغان شہریوں نے ڈرائی فروٹ، قالینوں اور دیگر اشیاء کی درجنوں نئی دکانیں کھول لی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ افغان شہری گلی کوچوں میں ہتھ ریڑھیوں میں سبزی اور دیگر سامان بیچتے آپ کو نظر آئیں گے۔

آپ کسی دن بی آر ٹی میں سفر کریں آپ کو ہر دوسرا مسافر افغان شہری ملے گا۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال چلے جائیں وہاں آپ کو ہزاروں کی تعداد میں یہ افغان شہری ملیں گے۔ پشاور میں سٹریٹ کرائمز میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ بی آر ٹی میں دن دھاڑے خواتین سے پرس چھینے جا رہے ہیں۔ پشاور کے ہر گلی میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ یہ سب کون ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد افغان شہریوں کی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اس وقت شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔

اس معاشی بحران میں اس کا لاکھوں کی تعداد میں افغان شہریوں کو یہاں رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لیے کہ یہ لاکھوں افغان شہری ملکی وسائل پر بوجھ ہیں۔ یہ کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔ پاکستان میں بیشتر جرائم میں یہ شریک ہیں۔ اسمگلنگ اور منشیات کا مکمل کاروبار ان کی بدولت ہے۔ پشاور کی سڑکوں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکل رکشوں پر سمگلنگ کا سامان لاد کر اس پر ایک خاتون کو بیٹھا کر یہ لوگ سمگلنگ کرتے ہیں۔ مگر مجال ہے آج تک کسی نے اس عمل کو روکا ہو۔

سمگلنگ روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عملہ موجود ہے۔ شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ہزاروں اہلکار موجود ہیں۔ پشاور شہر میں درجنوں ناکے ہیں مگر ان ناکوں پر ٹیکس گزار پاکستانی عوام کو روز ذلیل کیا جاتا ہے مگر ان سمگلروں کو باآسانی جانے دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اگر ڈھکے چھپے ہو رہا ہوتا تو تب بھی کوئی بات تھی۔ مگر نہیں اس ملک میں ان افغان شہریوں کو سب کچھ کرنے کی کھلی اجازت ہے۔

کیا کوئی پاکستانی شہری کابل یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے شہر میں ایسا کر سکتا ہے۔ اس وقت افغانستان میں پاکستانی شہریوں کا عملاً داخلہ بند ہے۔ اور پاکستان ان افغان شہریوں کے لیے جوائے لینڈ بنا ہوا ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کا بھی یہی حال ہے۔ حکومت پاکستان نے جو فیصلہ کیا تھا کہ ان کو ہر حال میں اپنے ملک جانا ہو گا وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تھا۔ مگر اس عمل میں اچانک بہت زیادہ سستی آ گئی ہے بلکہ یہ عمل تقریباً رک سا گیا ہے۔

پاکستان کو اس وقت کئی ایک مسائل درپیش ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ کمزور معیشت کا ہے۔ معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو حالات اس سے بھی خراب ہوجائیں گے۔ دوسرا مسئلہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ کا ہے۔ جس پر کنٹرول کے لیے اس وقت حکومت کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ تیسرا بڑا مسئلہ پاکستان کا خوراک کے معاملے میں خود کفیل نہ ہونے کا ہے۔ اس مسئلہ کا حل دنیا نے کارپوریٹ فارمنگ کی صورت میں دریافت کیا ہے۔

پاکستان میں بھی اگرچہ اس سلسلے میں کوششیں ہو رہی ہیں لیکن یہ کوششیں بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہی ہیں۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کی کمی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور جس تیزی کے ساتھ زرعی زمینوں کو رہائشی کالونیوں میں بدلہ جا رہا ہے اس سے یہ صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ چوتھا مسئلہ بدترین بے روزگاری کا ہے۔ ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اور ملک میں روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ ملک میں سمگلنگ سے آنے والے ضرورت کی ساری چیزیں ہیں۔

جس کی وجہ سے مقامی طور پر کوئی فیکٹری نہیں لگ رہی اور لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا۔ اس ساری سمگلنگ کے پیچھے افغان شہریوں کا ہاتھ ہے۔ اس سے روز گار ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کو ٹیکسوں کی مد میں بھی اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک میں سونے کا سارا کاروبار قانون کے دائرے میں نہیں ہے۔ سونے کے خرید و فروخت پر کوئی عملاً ٹیکس کا نفاذ نہیں ہے۔ حکومت اس کاروبار کو قانون کے دائرے میں آسانی کے ساتھ لا سکتی ہے مگر وہ ایسا کر نہیں رہی۔

سونے کی سمگلنگ کا بیشتر نیٹ ورک بھی افغان شہریوں کے ہاتھوں میں ہے۔ بڑے بڑے افغان شہری سمگلر پاکستان میں کراچی کے کچھ میمنوں اور سیٹھوں کے ساتھ مل کر گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ لیکن حکومت خاموش تماشائی ہے۔ متحدہ عرب امارت میں بیٹھے ہوئے یہ افغان شہری سمگلر کراچی کے چند سیٹھوں کو ساتھ ملا کر اس وقت سونے کے کاروبار کا جو نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اس کی ورتھ اربوں ڈالرز ہے۔ چونکہ پاکستان میں عملی طور پر کام ختم ہوتے جا رہے ہیں اس لیے لوگ اپنا پیسہ محفوظ کرنے کے لیے دھڑا دھڑ سونا خریدتے جا رہے ہیں۔

یوں پیسہ ایک جگہ پارک ہوجاتا ہے اور اس کی سرکولیشن نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ پر دباؤ بڑھتا ہے اور سونے اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر یہ افغان شہری سمگلر پاکستانی پیسوں میں کاروبار کی جگہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعہ کرتے ہیں اور متحدہ عرب امارت سے یہ گاڑیاں پاکستان سمگل ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں کی تعداد اس وقت پاکستان میں بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اور پاکستان کے سترہ مختلف علاقوں میں یہ بلا روک ٹوک چلتی ہیں۔

جس سے حکومت کو اربوں ڈالرز کا مزید نقصان اٹھا نا پڑتا ہے۔ یہ نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ یہ روزانہ باآسانی ہزاروں گاڑیاں بلوچستان کے چمن اور دیگر افغان سرحدی گزر گاہوں سے مالاکنڈ ڈویژن اور سابق قبائلی علاقوں میں باحفاظت پہنچا دیتے ہیں۔ اب اس صورتحال میں پاکستان کیا خاک ترقی کرے گا۔ اس لیے تو ورلڈ بنک کے پاکستان میں سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں جو معاشی پالیسیاں ہیں اس سے پاکستان کے حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔

پاکستان میں معاشی نظام کو درست رکھنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں افراد ملازم ہیں۔ جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو قابو میں رکھیں اور بہتری کی طرف لے کر جائیں۔ مگر یہ سب لاکھوں افراد مل کر اس نظام کو خراب کرنے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ، ایران سے چھ سو کے قریب دوسری اشیاء کی سمگلنگ کون کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ ان افغان شہریوں کا وہ منظم نیٹ ورک ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ملک کو جکڑ رکھا ہے۔

اب تو صورتحال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے تمام سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ ان افغان سمگلروں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ ان علاقوں میں تعلیم ایک فضول شے سمجھی جاتی ہے۔ ان علاقوں کے بچے اٹھتے بیٹھتے یہی خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس سمگلنگ میں شریک ہو کر چند دنوں میں وہ بھی کروڑ پتی بن جائیں گے۔ ان کے پاس بھی لیکسس گاڑیاں ہوں گی۔ ان کے ہاتھوں میں بھی قیمتی آئی فون ہوں گے۔ اور وہ بھی کسی کی شادی میں جاکر لاکھوں روپے ناچنے والے لڑکوں پر نچھاور کریں گے۔ لیکن نہ تو اس ملک میں جو بھی حکومت ہو وہ اس کا راستہ روکتی ہے۔ نہ ہی اس ملک کے کسی عدالت نے اس کا راستہ روکا ہے۔ اور نہ ہی اس ملک کی سول سوسائٹی اس سلسلے میں آواز اٹھاتی ہے۔ اب یہ مرض بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں سے نکل کر جنوبی پنجاب تک پھیل گیا ہے۔ اور کراچی کی تباہی بھی اسی کی وجہ سے ہے۔ اب وہاں بھی کارخانے بند ہو رہے ہیں۔

اب تو شاید یہ سلسلہ پورے پاکستان میں پھیلے گا اس لیے کہ چند دنوں میں اس دھندے سے اربوں روپے کمانے والے اب اپنی دولت و عیاشی کی نمائش کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ جس سے ہر گھر میں بیٹھے ہوئے بے روزگار ان کو اپنا آئیڈیل بنا رہے ہیں۔ اب تو یہ سمگلر سیاسی پارٹیاں بنا کر نوجوانوں میں کچھ پیسے تقسیم کر کے اپنا نیٹ ورک بڑھا رہے ہیں اور حکومت سو رہی ہے۔ اس سب کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس ملک سے ان افغان شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیج کر اپنے وسائل کا حقیقی تعین کر کے ان کے استعمال کے لیے اپنے لوگوں کو تیار کر کے ان سے کام لیا جائے۔

اس ملک میں بیوروکریسی کے اس نوآبادیاتی نظام کو بدل کر دنیا کی طرز پر محدود اور متعلقہ افراد پر مشتمل ماہرین کو یہ معاملات سپرد کی جائیں۔ اور ان کے کھربوں کی جو عیاشیاں ہیں اس کا خاتمہ کیا جائے۔ ملکی بجٹ کا دس سے پندرہ فیصد تعلیم اور تحقیق پر خرچ کیا جائے۔ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ اور منصوبہ بندی کر کے اس پر عمل پیرا ہوا جائے۔ تو پاکستان بھی بنگلہ دیش کی طرح ترقی کر سکتا ہے۔

ورنہ یہی ہو گا کہ چند سمگلر اپنے کاروبار کے تسلسل کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں گے۔ انہیں تقسیم کریں گے، کسی کو قوم پرستی کے نام پر ، کسی کو مذہب کے نام پر اور کسی کو لسانی بنیادوں پر چند پیسے دے کر ملک میں بہتری لانے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جائے گا۔ اور ہمارے اعلی دماغ مفکرین روز ٹی وی پر بیٹھ کر اس جلتی آگ پر تیل ڈالتے جائیں گے۔ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کے پیچھے معدودے چند افراد کا ذاتی فائدہ ہے اور ہم ان کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

حکومت کو اپنی اس پالیسی پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنا چاہیے جس کے تحت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ تمام افغان شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔ ورنہ ہم خطے کے دیگر ممالک سے ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ہماری نوجوان سارے کے سارے سمگلر بنیں گے۔ اور یہ ملک جو لامحدود وسائل رکھتا ہے اس کے باوجود اسی طرح دنیا کے سامنے روز ہاتھ پھیلاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS