سب کا اپنا اپنا چاند
سطح سمندر سے تقریباً 2100 میٹر کی بلندی پر واقع اپنے آبائی گاؤں، ارنیاں سراں میں آج کی رات ایک بار پھر چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، آج دسمبر 2023 کی اٹھائیسویں رات ہے اور تین دن بعد 2024 شروع ہو جائے گا، مگر میں آج اس چودھویں کے چاند میں وہ تمام چیزیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو بچپن میں بڑی آسانی سے دکھائی دے جاتی تھیں اور کبھی کبھار کسی دوست یا ساتھ چاند دیکھنے والے کی بے چینی سے لطف اندوز ہونے کے لیے چاند یا ستاروں کی کسی خود ساختہ ایسی تشکیل کی بات بھی بڑے اعتماد سے کر دیتے تھے، جو دراصل کہیں وجود رکھتی ہی نا تھی مگر ساتھ والے کو بار بار انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرنے اور یہ کہنے میں بہت لطف آتا تھا کہ یار ادھر دیکھو، وہاں ہے۔ ہاں ہاں وہاں۔ اچھا تمہیں دکھائی نہیں دے رہا، جہاں میں ہوں، یہاں سے تو دکھائی دے رہا ہے۔
چاند پہ پہاڑ، کبھی کبھار ریچھ، بھیڑیے یا کسی دوسرے جانور کی شکل اور کبھی کبھار کوئی اسم بڑی آسانی سے دکھائی دے جاتا تھا مگر اب کہ جب میں عمر کے ستائیسویں سال میں ہوں، دو چار حروف سے قدرے واقف بھی ہوں، اردگرد معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات سے باخبر رہنے کو کوشش بھی کرتا ہوں، اب چاند، ستارے اور آسمان مجھے کوئی بھی ایسا منظر نا دکھانے پہ مصر ہیں، جو ماضی میں میرے لیے باعث لطف تھا اور نا ہی اب میرے پاس کوئی ایسا دوست ہے جو مجھے بتائے کہ کیسے اور کہاں سے دیکھنا ہے، تا کہ منظر خوب لگے اور عکس بھی دکھائے دے۔
چاند کی تاب دیدنی ہے، میں اپنی آنکھوں سے اگر اب ٹکٹکی باندھ کر چاند کو دیکھتا ہوں تو یہ منظر مجھے کہیں اور کہ راہیں دکھاتا ہے۔ اب میرے خیالوں میں اور بہت سے چاند ابھر آتے ہیں، جن کی برسوں سے کوئی خبر نہیں، وہ اس زمین سے یوں غائب ہوئے کہ کئی آنکھیں انھیں دیکھنے کو ترس رہیں ہیں۔ اس قدر بیتاب ہیں کہ میلوں کا سفر طے کر کے دارالحکومت کے عین وسط میں، دسمبر کی ان ٹھٹھرتی راتوں میں کسی مسیحا کی منتظر ہیں جو انھیں کہیں سے ان کے بچھڑے چاند لا دے یا پھر ان کی کوئی خیر خبر ہی سنا دے اور بتائے کہ آخر کس گناہ کی پاداش میں انھیں زمینی خداؤں نے آخری رسومات تک کے اعزاز سے بھی محروم کر دیا ہے۔ مگر نا چاند کہیں ہیں اور نا ہی کوئی ایسا مسیحا جو ان آنکھوں کے چاند لوٹائے۔
ہوا کے ایک سرد جھونکے مجھے واپس 2100 میٹر کی اس بلندی پہ لے آیا کہ جہاں میں چاند میں بچپن والے عکس تلاش کر رہا تھا۔ عکس نہیں مل رہے تھے، کچھ بھی نہیں اور میں جانتا ہوں کہ نہیں ملیں گے، اس دور میں کہ جب اسرائیلی جارحیت نے تقریباً نو ہزار ننھی معصوم گلاب سی کلیوں کو اور مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار کے قریب افراد، جو بھی کسی آنکھ کا چاند تھے، شہید کر دیا مگر تمام بڑی طاقتیں کچھ نا کر سکیں، اب کہاں آسمان کا چاند کوئی عکس دکھائے گا۔
وہ ایک آسمانی چاند بھی اس قیامت کے بعد چمکتا تو ہے مگر اس کی چاندنی کسی کو راحت بخشتی ہے اور نا ہی کوئی اس کی مدد سے راستوں کا تعین کرتا ہے اور اب وہ چاند بس ایک روٹھا معمولی سا شخص ہے جو کسی بڑے شاہراہ کے کنارے بیٹھا تو ہے مگر تمام گاڑیاں تیز رفتار سے وہاں سے گزر رہیں ہیں اور وہ کسی کی بھی توجہ سے محروم ہے۔
2023 بھی اب ختم ہونے کو ہے۔ اس سال میرا زیادہ تر وقت لاہور میں جامعہ نعیمیہ یا نیشنل لاء کالج میں گزرا۔ کچھ نئے لوگ بھی ملے اور کچھ پرانے بچھڑ بھی گئے۔ کوئی آنکھوں کا چاند بنا تو کوئی چاند منظر سے اوجھل ہوا تو دل سے ہی اتر گیا۔ امسال کتابوں کا سفر The Spinner ’s Tale سے شروع ہوا تو کچھ تاریخی کتب، کہانیوں سے ہوتا ہوا Ten Minutes Thirty Eight Seconds in Strange World تک آیا۔ کچھ کتابیں اور کہانیاں راستے میں ہی رہ گئیں۔ مگر اگلے سال انھیں پورا کرنے کا عزم سلیم ہے۔
اب رات کافی ہو چکی، چاند اب بھی وہیں اپنی تاب سے چمک رہا ہے۔ سردی بھی بڑھ رہی ہے، اب اندر چلے جانا بہتر ہے اور کل صبح تک 2023 کی ایک رات اور کم ہو جائے گی مگر کئی مسئلے اور معمے جوں کے توں رہیں گے۔ کئی آنکھیں چاند کو ترستی رہیں گی اور کچھ چاند مزید لحد میں اتار دیے جائیں گے۔ شاید کوئی آنکھ ہو جو آسمان کے چاند کو بھی کچھ نظر بھر کے دیکھے، مگر اب تمام شکلوں یا عکس کا بننا بعید ہے جو بچپن میں دکھائی دیتے تھے۔
بقول ابن انشاء
چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے
چاند کی خاطر زد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند
انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی ریت یہی ہے
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند


