جمہوریت یا مخمصہ: ایک کہانی کی روشنی میں

کراچی کے کسی تعلیمی ادارے سے منسوب ایک روداد منقول ہے کہ وہاں ایک شاگرد اپنے استاد سے الجھ پڑا جسے مخمصے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ استاد نے اپنے تئیں بھر پور کوشش کی لیکن بے سود۔ اب جبکہ تمام تشریحات و توضیحات بار آور ثابت نہ ہوئیں تو استاد نے ایک فرضی واقعے کو مثال کی صورت دی۔ استاد نے کہا کہ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں ممکن ہے کہ اسے سن کر آپ کو مخمصے کی سمجھ آ جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ نارتھ ناظم آباد میں اے۔ او کلینک کے سامنے والی سڑک پر ایک باپ اور بیٹا موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ ان کے آگے ایک ٹرک تھا جس پر فولادی چادریں لدی ہوئی تھیں۔ اچانک ٹرک سے ایک چادر اڑی اور سیدھی باپ بیٹے کی گردنوں پر جا لگی۔ دونوں کے سر دھڑ سے جدا ہو گئے۔
لوگ بھاگم بھاگ دونوں کٹے ہوئے سر اور دھڑ لے کر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے پاس پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے 7 گھنٹے پر محیط ایک طویل آپریشن کے نتیجے میں دونوں کے سر دھڑ سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کر لی جس سے دونوں باپ بیٹا زندہ بچ گئے۔
دو ماہ تک دونوں کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیے رکھا جہاں اہل خانہ سے ملاقات پر بھی پابندی تھی۔ دو ماہ بعد جب دونوں گھر گئے تو اک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ باپ کا سر بیٹے کے دھڑ پر اور بیٹے کا سر باپ کے دھڑ پر جوڑ دیا گیا تھا۔
شاگرد حیرت سے منہ کھولے یہ واقعہ سن رہا تھا۔ استاد نے کہا کہ اب یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ بیٹے کی بیوی شوہر کے دھڑ کے ساتھ کمرے میں رہے یا سسر کے سر کے ساتھ! اگر وہ شوہر کے سر کے ساتھ رہتی ہے تو دھڑ تو سسر کا ہے، اب کیا ہو گا! ادھر ماں اگر شوہر کے سر کے ساتھ رہے تو دھڑ تو بیٹے کا ہے اور اگر شوہر کے دھڑ کے ساتھ رہے تو سر بیٹے کا ہے!
گھر کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ بیٹا اگر بیوی کا ہاتھ تھامے تو بیوی کہتی ہے کہ مجھے ابا جان کے ہاتھوں سے شرم آتی ہے۔ سسر اپنی بیوی کے قریب پھٹکنے سے ہچکچا رہا ہوتا ہے کہ ان کے بیچ یعنی بیٹے اور ماں میں ابدی حرمت ہے۔
موٹر سائیکل پہ جانا ہو تو ایک پریشانی یہ ہے کہ بہو شوہر کے سر کے ساتھ بیٹھے یا سسر کے دھڑ کے ساتھ! اسی طرح ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور تمام معمولات و معاملات ٹھپ ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں کوئی مشورہ دیتا ہے کہ دونوں اپنی اپنی منکوحہ کو طلاق دے دیں اور ازسرنو نکاح کر لیں تا کہ دھڑ حلال ہو جائیں۔
شاگرد پوری توجہ سے سن رہا ہوتا ہے اور پریشان ہے کہ اب کیا ہو گا۔ استاد نے پوچھا اب تم بتاؤ کہ لڑکے کی ماں طلاق لے تو کس سے لے، بیٹے کے دھڑ سے یا شوہر کے سر سے؟ ادھر بہو کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، شوہر کے دھڑ سے طلاق لے یا سسر کے سر سے؟ اب بتاؤ کہ کیا کیا جائے؟ شاگرد بولا کہ استاد جی میرا تو دماغ گھوم گیا ہے۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے۔ استاد بولتے ہیں کہ بیٹا بس یہ جو آپ کی اس وقت کیفیت ہے نا، اسی کو مخمصہ کہتے ہیں۔
ہماری حکومتوں کے بھی یہی حالات ہوتے ہیں۔ سر اگر جمہور کا ہے تو دھڑ غیر جمہور کا اور دھڑ جمہور کا ہے تو سر غیر جمہور کا! سر الگ کریں تو مصیبت اور دھڑ الگ کریں تو بھی مصیبت! گویا اپنے یہاں جمہوریت بھی اک مخمصہ بن کر رہ گئی ہے!
انتخابات سر پر ہیں۔ سر دھڑ کی بازی لگانے کا وقت آن پہنچا ہے!
شاعر سے معذرت کے ساتھ،
گر بازی سر کی بازی ہے جو چاہو لگا دو دھڑ کے
ساتھ
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

