ہو کا عالم


بازاروں میں سناٹا، گلیوں میں ویرانی، خالی سڑکیں، گھروں میں محصور ڈرے سہمے ہوئے لوگ، ہسپتالوں میں سسکتی زندگیاں، حکومتی پابندیاں، روزمرہ کے معمولات زندگی پریشان کن، مستقبل کے اندیشے حیران کن اور بریکنگ نیوز کے نام پہ سنسنی پھیلاتی خبریں ہی کرونا کے دنوں میں مستقل معمول تھا۔ ان سب معاملات کے باوجود بھی نا گزیر کاموں کی تکمیل کے لئے کچھ راہیں رکھی گئی تھیں۔ مخصوص طرز کی برقی (الیکٹرانک) کاغذی کارروائی کے بعد طے شدہ ضابطے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے کام کی غرض سے جایا جا سکتا تھا۔

شومئی قسمت کہ ایک نہایت ادق قسم کے کام کے لئے قرعہ فال ہمارے نام کا نکلا۔ نوکر کی تے نخرہ کی والی بات تھی۔ سارے ضابطے اور ممکنہ حفاظتی تدابیر کرنے کے بعد رخت سفر باندھا۔ بڑی حسرت تھی کہ کبھی اکیلے ہی سڑک ہی گاڑی دوڑانے کا موقع ملے۔ جانے کون سی وہ کوئی قبولیت کی گھڑی تھی جو اس زمانے میں یہ خواہش یوں پوری ہونی تھی۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے (گلیاں ویران ہو جائیں اور مرزا اکیلا ان میں پھرے ) جیسے مشہور و معروف مصرعے کا نا صرف صحیح مطلب سمجھ آیا بلکہ ایسے سنجے (ویران) پن کے کئی ایک خوفناک پہلو بھی آشکار ہوئے۔

روشنی سے یک دم اگر اندھیرے میں داخل ہوں تو کچھ دیر کے لئے آنکھوں کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یعنی کچھ دیر کے لئے عارضی نابینے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جونہی آنکھوں کی پتلیاں پھیلتی ہیں تو کم روشنی میں آہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہونے لگتا ہے، وہ اندھیرا جہاں پہلے ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا اب وہاں چیزوں کے کچھ کچھ آثار اور خد و خال کا پتا چلنا شروع ہوتا ہے۔ ایسے ہی سفر کے آغاز میں ہوا۔ سنسان اور ویران سڑک پہ تنہا فراٹے بھرتی گاڑی چلانے کا نشہ بارہ قوس تک بھی نہ رہ سکا اور سارا نشہ ایک کپکپی کے ساتھ ہی فوراً ہرن ہو گیا۔

چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ سڑک کی ویرانی اور اکلاپے کا احساس دوچند ہو گیا۔ یوں لگا جیسے قید تنہائی کا کوئی قیدی ہے جسے گاڑی دے کے چھوڑ دیا گیا ہو کہ بھاگو، کہاں تک بھاگو گے۔ باہر کی تنہائی، وحشت اور ویرانگی کے ڈر سے چھپنے کے لئے صرف اپنا آپ ہی ملا تو پھر وہیں پناہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جیسے باہر خاموشی اور سناٹے کا راج تھا ایسے ہی اندر بھی ’ہو‘ کا عالم تھا۔ وہی ’ہو‘ جو ’لاہوت‘ میں ہوتا ہے۔

خوف، ڈر، وحشت، تنہائی اور سراسیمگی جیسے احساسات سے بچنے کے لئے جب اندر جھانکا تو اندر کی تندہی سے یہ سب بادل آہستہ آہستہ چھٹنے لگے کہ اندر کے ’ہو‘ کے عالم سے خود کو حوصلہ، بے خوفی اور اک مخصوص روشنی کی چمک ملی کہ جس کی چکا چوند سے آنکھیں چندھیاتی نہیں بلکہ یہ روشنی بہت سی مخفی چیزوں کو نمایاں کر کے انہیں بہتر طور پہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

باہر کے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، اندر سے تعلق اور تار اپنے خالق سے جڑی رہنی نہایت ضروری ہے۔ کہ یہی تار (ذکر و دعا) جینے کا ارتعاش بنائے رکھتی ہے۔ جب سب رستے مسدود نظر آئیں، سب ظاہری تعلق ٹوٹ چکے ہوں، سب ناخدا اپنا بھرم کھو چکے ہوں تو ایسے میں وہ ایک ہی ذات ہے جو کبھی بھی اپنے دروازے پہ آنے والے کو دھتکاری نہیں۔ اس ذات رحیم و کریم سے جڑے رہنا ہی دنیاوی رستوں، ظاہری تعلق اور سب ناخداؤں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ یہ ’ہو‘ ہی اصل میں پکار ہے، دعا ہے، آہ و بکا ہے، صدا ہے جو سدا جاری رہنی چاہیے کہ یہی مخلوق کا تعلق اپنے خالق سے بنائے رکھتی ہے۔

Facebook Comments HS