دوزخ سے نکلتی پگڈنڈی (افسانہ)


ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔ شہر کی ویران گلیوں نے رات کے اندھیرے کی چادر اوڑھ لی تھی اور جیسے سناٹا گلیوں میں رقص کر رہا تھا اور اس رقص کے ردھم پر ارمغان نشہ آور سگریٹ سے کش لگاتے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے خود کلامی میں لڑکھڑاتے قدم اٹھاتے کہتا جا رہا تھا ”کیا سرور ہے؟ اس سناٹے میں بھی جنت کا سماں ہے۔ ہر طرف سکون ہی سکون۔ کوئی دکھ نہیں۔ کوئی فکر نہیں۔ واہ کیا لطف ہے اس زندگی کا۔“ ارمغان نے پلٹ کر دیکھا تو اس کے ارد گرد اور بھی بہت سے اس کے میڈیکل یونیورسٹی کے کلاس فیلوز تھے جو اسی طرح نشے میں دھت دنیا سے بے خبر اپنی ہی ماورائی جنت میں کھو کر اپنی جوانی دھوئیں میں اڑا رہے تھے اور آگے بڑھ رہے تھے۔

صبح کو ارمغان یونیورسٹی پہنچا تھا تو کلاس فیلو فروا نے کہا تھا کہ ”ارمغان، آج تمھیں کیا ہوا ہے؟ رات بھر سوئے نہیں کیا؟ تمھاری آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی ہے۔ کہیں نشہ ۔ ۔ ۔“ اس سے پہلے کہ فروا جملہ مکمل کرتی ارمغان نے کہا تھا کہ ”ہاں۔ فروا اب میں تیرے قابل نہیں رہا۔ نہ ملنا کبھی۔ مجھ سے۔ تیرے قابل۔ رہا۔ تو ملوں گا۔ ورنہ بھول جانا مجھے۔“ ارمغان کہہ کر چلا گیا مگر فروا پر جیسے گرج چمک کے ساتھ آسمانی بجلی گری تھی۔

ارمغان اس کی محبت کا محور تھا۔ وہ بادل تھی اور ارمغان قوس قزح تھا۔ وہ ارمغان کو ٹوٹ کر چاہتی تھی۔ اس کا ساتھ چھوٹتے سوچ کر شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو گئی تھی۔ وہ تو ارمغان کی حالت زار پر چونک گئی تھی۔ موم کی طرح پگھل گئی تھی۔ اسے کیا پتہ تھا کہ ارمغان ناراض ہو جائے گا۔ پچھتاوے کی آگ میں جھلسنے لگی تھی۔ سوچنے لگی تھی کہ اسے یوں کیوں کہا؟ وہ ارمغان کے بغیر جی نہیں سکتی تھی۔ فروا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔

فروا کا ڈاکٹر بننا والدین کا خواب تھا۔ اس کا والد بہت بڑا زمیندار تھا مگر فروا کے لیے ارمغان سب کچھ تھا۔ وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہو گئی تھی۔ وہ پڑھائی میں بھی لائق تھی۔ ارمغان کی چاہت کے سوا ابھی تک فروا پر یونیورسٹی کی ماڈرن فضا کا رنگ نہیں چڑھا تھا۔ اگر رنگ چڑھا تھا تو صرف ارمغان کی محبت کے پھولوں کا رنگ چڑھا تھا۔ اس کی سانسوں میں ارمغان کی محبت کے پھولوں کے کھیت کی خوشبو بس گئی تھی۔

ارمغان بھی اچھے خاندان کا لڑکا تھا۔ دلچسپی سے پڑھتا تھا۔ وہ کلاس فیلوز کی صحبت میں نشے کا عادی بن گیا تھا۔ اس کے کچھ آوارہ دوستوں نے اسے اس دلدل میں دھکیل دیا تھا۔ دوستوں کے اثر میں نشے کی دوزخ میں پھنس چکا تھا۔ ذہین اور اچھے خاندان کی وجہ سے فروا اس کے قریب آ گئی تھی اور اس کی محبت میں مبتلا ہو کر اتنا دور جا چکی تھی کہ لوٹنا محال تھا۔ فروا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ارمغان کو ایسا کیوں کہا؟ اس کی تلاش میں پھرتی رہی مگر اسے کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ ہر وقت سوچوں کے طوفان میں تنکے کی طرح بھٹکتی رہتی تھی۔

ارمغان نے دوستوں کے کہنے پر یہ لت لگا لی تھی۔ فروا کے جملوں نے اسے اتنا جھنجھلایا کہ اب وہ اس لعنت سے چھٹکارا چاہتا تھا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود نشے سے جان نہیں چھڑا سکتا تھا۔ مگر سوچنے لگا تھا کہ کس کام کی یہ زندگی اگر فروا میری نہ رہی یا پھر میرے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو کس منہ سے جواب دوں گا؟

اسے فروا یاد آتی تھی تو برف کی طرح پگھلنے لگتا تھا اور سوچتا تھا کہ فروا کو کیا کہوں گا کہ میں نشہ کرتا ہوں؟ وہ تو دیکھتے سمجھ گئی تھی۔ ارمغان کئی بار چاہتے بھی یونیورسٹی نہیں جا سکا تھا۔ ایک دن اس نے پختہ عزم کیا کہ فروا کی محبت کے لیے میں یہ نشہ چھوڑ دوں گا۔ ارمغان نے خود سے تہیہ کیا تھا۔ آج اس نے نشہ نہیں کیا تھا۔ اس وقت اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو چکی تھی۔ چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی۔ وہ ایسے دہرا ہو رہا تھا جیسے قولنج کا درد اٹھ رہا ہو۔ اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹنے لگا تھا۔ وہ خود کو بہت کنٹرول کر رہا تھا لیکن بے سود۔ وہ خود سے کیا پختہ ارادہ پورا نہ کر سکا تھا۔ کمرے سے لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا تھا۔

ارمغان وہاں آیا جہاں آتا تھا۔ اس وقت ارمغان چاہتے بھی اسپتال نہ جا سکا تھا۔ ایک کھلے خالی پلاٹ میں، جس کے گرد چھوٹی چھوٹی دیوار تھی اور لوگ کوڑا کرکٹ وہیں پھینکتے تھے۔ ہر طرف گندگی اور تعفن کا راج تھا۔ اس جگہ یہ نوجوان اپنی قیمتی جوانی اس زہر کی نذر کر رہے تھے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نشے میں دھت تھے۔ کچھ اپنی ناک کے ذریعے سگریٹ سے ہیروئن کے کش لگا رہے تھے۔ کچھ انجیکشن لگا رہے تھے۔ اکثریت پڑھے لکھے تھے۔ کچھ تو اس کے فیلوز بھی تھے۔ ارمغان چاہتے بھی فروا کا خیال آتے ہی لوٹا تھا اور سوچتے ہسپتال کا رخ کیا تھا۔

فروا ارمغان کے بارے میں سوچتے اور اسے ڈھونڈتے نیم پاگل بن گئی تھی۔ پڑھنا بھی بھول چکی تھی جیسے اس سے زندگی روٹھ گئی تھی۔ ایک دن اس نے سوچا کہ ارمغان ضرور وہاں ہو گا جہاں اس کے سب نشئی دوست ہوتے ہیں۔ پھر یہ سوچ کر ارمغان کی تلاش میں نکلی کہ اسے کہوں کہ تم مجھے ہر حال میں قبول ہو۔ مجھے تم اور تیری محبت چاہیے مگر ارمغان اسے نہیں ملا۔ یہ سوچ کر روزانہ جاتی رہی کہ ضرور یہاں آئے گا۔ فروا شہر کے ایسے ٹھکانوں پر جاتی رہی پر اسے ارمغان نہ مل سکا تھا۔

ایک دن وہ غم اور غصے میں سوچنے لگی کہ جس دوزخ میں میرے کلاس فیلوز جاتے ہیں جن میں لڑکیاں بھی ہیں ان کے ساتھ بیٹھتی ہوں اور سکون تلاش کرتی ہوں۔ وہاں جا کر کلاس فیلوز لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی تو ایک نے اسے زبردستی نشہ آور سگریٹ کا کش لگوایا تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ زمین اور آسمان اسے لرزتے اور گھومتے نظر آئے۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ اسے قے آنے لگی تھی۔ لڑکھڑاتے اٹھی تو چکر آنے لگے۔ پریشان حال اٹھی اور بولی کہ ارمغان تم نے مجھے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ محبت کا صلہ یہ نہیں ہوتا۔ لڑکھڑاتے پاؤں گھسیٹتے چلنے لگی تو عین اس وقت ارمغان آیا تھا اور فروا کو دیکھ کر اس کا بازو پکڑا اور کہا کہ یہ کیا کیا فروا، میں نے ارادے کی پختگی سے علاج کروایا ہے۔ میں بڑی مشکل سے اس دوزخ سے نکلا ہوں۔ تمھیں یہاں نہیں رہنے دوں گا۔ چلو میرے ساتھ۔ اس دوزخ سے جنت کی پگڈنڈی کی طرف چلتے ہیں۔ جہاں محبتوں کے پھول کھلتے ہیں اور پاکیزہ زندگی کی نہریں بہتی ہیں۔ پھر اس دوزخ میں سے جنت کی طرف جاتی پگڈنڈی پر چل پڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS