پاکستان کا سیاسی اور معاشی ماڈل
سیاسی ماڈل ہو یا معاشی ماڈل اس کی بنیاد محض جذباتیت اور روایتی نظام کے تحت نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ نظام کی کامیابی کی کنجی ایک گہری یا تدبر پر مبنی سوچ اور فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ آج کی دنیا کے جدید ترقی کے سیاسی اور معاشی ماڈل کو بنیاد بنا کر ہی ہم مستقبل کی تعمیر نو کا نقشہ کھینچ سکتے ہیں اور خود کو دنیا کے ساتھ جوڑ کر نئے سیاسی اور معاشی امکانات کو پیدا بھی کر سکتے ہیں۔ سیاسی تنہائی اور روایتی سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر جو بھی ترقی کے ماڈل کو اختیار کرے گا اسے دونوں سیاسی و معاشی محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اصل نقطہ مسائل کی درست نشاندہی اور آگے بڑھنے کے لیے درست تجزیہ، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کا شفافیت سے جڑا نظام ہوتا ہے۔ اداروں کے مقابلے میں فرد واحد کو بنیاد بنا کر ترقی کے نقشے بنانا یا اس میں رنگ بھرنے کی مشق کوئی پائیدار نتیجہ نہیں دے سکے گی۔ یہ جو جذباتیت کے ساتھ ساتھ نعرے بازیوں سمیت خوش نما نعروں اور دعووں کی بنیاد پر ریاستیں نہیں بدلتیں بلکہ آگے بڑھنے کی جستجو، لگن، شوق کے ساتھ ساتھ اپ کی دانش، دانائی، حکمت، تدبر یا فہم و فراست سمیت دنیا سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھنے کا عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسائن کا ایک تجزیاتی مضمون یو این ڈی پی کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے معاشی ماڈل اور نئے امکانات و خدشات کے تناظر میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کا بنیادی نقطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی سطح کا جو ماڈل ہے وہ ناکارہ بھی ہے اور وہ ساتھی ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔ اس معاشی ماڈل کے نتیجے میں پاکستان میں غربت اور معاشی سطح کی ناہمواریاں بہت بڑھ رہی ہیں۔
اس رپورٹ میں جن چند نکات کو اجاگر کیا گیا ہے ان میں معاشی ترقی کے فوائد اشرافیہ تک محدود، نظام قرضوں کی لاگت اور آمدنی کے ذرائع پائیدار نہیں، افراد اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ کا محدود ہونا، اصلاحات کے نظام میں رکاوٹیں، زرعی اور توانائی کے شعبوں کی خرابیوں، عدم کاروباری ماحول کا نہ ہونا اور بالخصوص چھوٹے کاروبار کے لیے مواقعوں کی کمی، حکومتی اخراجات میں کمی یا اصلاحات کا نہ ہونا، ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل شامل ہیں۔
بنیادی طور پر ہمارے داخلی سطح سے یا عالمی سطح سے جب بھی سیاسی اور معاشی بحران کو بنیاد بنا کر کئی رپورٹس یا تجزیاتی بنیادوں پر اسی طرح کے خدشات و امکانات کے پہلووں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ کیونکہ آج کی گلوبل یا عالمی دنیا میں ہمیں تنہائی کی بنیاد پر نہیں دیکھا جاتا اور جو کچھ بھی یہاں ہو رہا ہے اس پر عالمی دنیا کی نہ صرف آنکھیں کھلی ہوتی ہیں بلکہ اس کا اظہار بھی کئی شکلوں میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس پر ہم کو بلاوجہ کا غصہ دکھانے کی بجائے سوچ و بچار کرنا چاہیے کہ ہم سے داخلی محاذ پر کیا ایسی غلطیاں ہو رہی ہیں جو ہمارے سیاسی اور معاشی سطح پر اشاریوں کو چیلنج کر رہے ہیں اور دنیا بھی اور داخلی علمی و فکری پہلو بھی سوالات کو اٹھا رہے ہیں۔
اس وقت بھی جب ہم عام انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ہمارا سیاسی بیانیہ معاشی مسائل سے جڑے معاملات کی کوئی عکاسی نہیں کر رہا۔ نہ تو سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی معاشی سطح کا مربوط بیانیہ ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتیں معاشی مسائل کو بنیاد بنا کر کوئی انتخابی منشور پیش کر سکی ہیں۔ جو بیانیہ ہے یا جن کو بنیاد بنا کر انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اس میں غیر حقیقی سیاسی و معاشی مسائل، جذباتیت کی سیاست، الزام تراشیوں سے جڑی نظر آتی ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ ہمیں بطور ریاست کسی بھی قسم کے معاشی بحران کا سامنا نہیں ہے۔
مسئلہ محض معیشت کی بدحالی یا برے اشاریوں یا مستقبل کے امکانات میں کمزور پہلووں کا ہی نہیں بلکہ ہم بطور ریاست سیاست، جمہوریت یا معیشت سمیت سیکورٹی یا ادارہ جاتی بحران میں کہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارے بحران کی نوعیت سیاسی یا معاشی کہ ساتھ ساتھ ریاستی بحران کا بھی ہے جہاں مختلف اداروں کے درمیان بداعتمادی اور ٹکراؤ کا ماحول ہے۔ ریاست لانگ ٹرم منصوبوں یا بہت گہرائی کو بنیاد بنا کر مسائل کے حل کی تلاش میں غیر سنجیدہ ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر ایک ردعمل کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں اور ہم نے فوری طور پر معاملات میں خود کو اتنا الجھا دیا ہے کہ دور تک دیکھنے یا دور تک دیکھ کر منصوبہ بندی ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں۔ ہم یا تو سب ہی کچھ جانتے ہیں کہ ہماری ناکامیوں کیا وجوہات ہیں اور ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے یا واقعی ہم میں سوچنے اور سمجھنے سمیت صلاحیتوں کا عملی فقدان ہے جو ہمیں پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔
ایک بنیادی نقطہ کہ کیا سیاست کو بہتر بنائے بغیر یا ریاستی نظام میں بنیادی تبدیلیوں یا اصلاحات یا ایک بھاری بھرکم اسٹرکچرل تبدیلیوں کے بغیر ہم معاشی ترقی کے عمل کو ممکن بنا سکیں گے۔ مسلسل عدم سیاسی استحکام، کمزور سیاسی حکومتیں، غیر جمہوری نظام کو جمہوری نظام کی شکل دے کر ہائبرڈ جمہوری نظام یا کنٹرولڈ نظام کو قائم کرنا، سیاسی، نیم سیاسی یا غیر سیاسی آمریتوں کو فروغ دینا، سول ملٹری تعلقات میں مسلسل خرابیوں کا عمل، سیاسی نظام کے تسلسل سے جڑے مسائل، سیاسی قیادتوں کا خود غیر جمہوری ہونا یا جمہوریت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا جنون، قومی سطح پر اداروں کی خودمختاری کو چیلنج کرنا اور آئین و قانون کے مقابلے میں مخصوص افراد یا اداروں کی فیصلوں پر بالادستی، جوابدہی، نگرانی سمیت احتساب یا شفافیت کا غیر موثر نظام، بھاری بھرکم سیاسی و انتظامی ڈھانچوں یا غیر موثر اور غیر شفاف حکمرانی یعنی گورننس کا بحران اور عدالتی سطح یا بیوروکریسی میں عدم اصلاحات کے بغیر آگے بڑھنے کی خواہش ہمیں کچھ نہیں دے سکے گی۔
سیاست اور معیشت کی ترقی کا باہمی تعلق اور ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کا عمل ہی ہماری مجموعی ترقی کی کنجی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم سیاسی نظام کو پس پشت ڈال کر معاشی ترقی کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں، غلط تصور ہے۔ اسی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سخت اور ناگزیر اصلاحات کو نظر انداز کر کے یا اسٹرکچرل یا ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر کچھ کرسکیں گے وہ بھی غلط سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمارا مجموعی مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو داخلی محاذ پر نئی تبدیلیوں کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتے۔
ہماری سیاست ہو یا معیشت ہمارا بڑا انحصار عالمی دنیا سے ملنے والی سیاسی سطح کی یا معاشی سطح کی امداد سے جڑا ہوتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سیاسی اور معاشی امداد سے ہم آگے بڑھ سکیں گے، حالانکہ نہ تو ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ہم پر عالمی دنیا کے فیصلوں کی بالادستی ہو گئی ہے اور ہماری خود مختاری یا سلامتی کو بھی خطرات رہتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سیاسی اور معاشی ترقی کا ایک ہی بڑا اشاریہ ہوتا ہے اور وہ عام آدمی یا افراد کی ترقی ہوتی ہے۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ یہاں صرف غربت بڑھ رہی ہے یا معاشی ناہمواریاں بڑھ رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں داخلی سیاسی و معاشی انتشار ایک بڑی بدامنی، انتہا پسندی یا شدت پسندی کی صورت میں ریاستی نظام کو اور زیادہ کمزور کر رہا ہے۔ لوگوں میں ریاستی و حکومتی نظام پر شدید نوعیت کے تحفظات ہیں اور یہ عمل عملی سطح پر ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو بھی کمزور کر رہا ہے۔
ہمارا حکومتی ماڈل ہو یا انتظامی، سیاسی، معاشی اور قانونی ماڈل ایک بڑے بھاری بھرکم ماڈل کے طور پر موجود ہے جو ریاستی و حکومتی نظام پر ایک بڑے معاشی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔ فرسودہ اور روایتی یا پرانے خیالات کی بنیاد پر نظام کو چلانے کی خواہش ہمیں مسلسل پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یعنی ہم جدیدیت کی طرف اور عالمی ترقی کے منازل طے کرنا چاہتے ہیں جبکہ عمل ہمارا کچھ بڑا نہ کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہماری سیاسی اور غیر سیاسی طاقت ور طبقہ یا ایلیٹ نے پورے ریاستی و حکومتی نظام کو اپنے مفادات کے تابع کیا ہوا ہے۔
اس کا نتیجہ ریاستی و حکومتی سطح پر کمزوری اور عام آدمی کی سنگین نوعیت کی مشکلات کی صورت میں دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس میں خود کو تبدیل کرنے سمیت پورے ریاستی و حکومتی نظام میں مثبت تبدیلیاں ہیں تو ہمیں اپنے موجودہ طرزعمل اور فیصلوں سے کھل کر بغاوت کی ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی اور معاشی محاذ پر ایک متبادل ترقی کا ماڈل درکار ہے جو موجودہ فرسودہ نظام سے بالکل مختلف ہونا چاہیے اسی میں ہمارا قومی مفاد جڑا ہوا ہے۔


