سرخ پوش ماموں، گنڈا سنگھ کا ڈنڈا اور آصف زرداری
ماضی کے جھروکے سے ایک سچا واقعہ
ہم نے مدّت سے اُلٹ رکھّا ہے کاسہ اپنا
دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک
بہت پرانی بات ہے۔ پاکستان بن رہا تھا۔ ہمارے والد صاحب اور ماموں کی سیاسی چپقلش عروج پر پہنچی ہوئی تھی۔ دونوں ہر وقت ایسے تپے رہتے تھے جیسے کسی نے گرم توے پر ان کو بٹھایا ہوا ہو۔ میں نے اپنے گزشتہ ایک دو آرٹیکلز میں ذکر کیا ہے کہ ہمارے سرخ پوش ماموں ایک نمبر کے فراڈیے اور ڈرامہ باز تھے جبکہ والد صاحب سکہ بند قسم کے مسلم لیگی تھے۔
ماموں غفار خان کے قصیدے پڑھتے ہوئے بڑے فخریہ انداز میں جیب سے ایک روپے کا بڑا سا سکہ (اس زمانے میں اسے کل دار روپیہ کہتے تھے ) نکال کر لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے کہتے کہ وہ روپیہ انہیں غفار خاں نے اس وقت دیا تھا جب وہ ہری پور جیل میں بند تھے۔ اس کا پس منظر کچھ یوں تھا کہ جب غفار خان جیل میں تھے تو ہمارے ماموں جیل کے باہر ان کے کمرے کی کھڑکی کے آس پاس اس ٹوہ میں رہتے کہ سلاخوں والی کھڑکی میں سے کبھی نہ کبھی تو انہیں خان بابا کا دیدار نصیب ہو جائے گا۔ ان کے کہنے کے مطابق جیل حکام کی انہوں نے بڑی منت سماجت کی تھی کہ ان کو غفار خان کے ساتھ ہی جیل میں بند کر دیا جائے لیکن ان کی کم عمری دیکھ کر وہ ان کو بھگا دیتے۔
غفار خان تک یہ بات پہنچ گئی تھی کہ ان کا ایک متوالا اس قسم کی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ ایک دن ماموں کھڑکی کے پاس ان کو نظر آ ہی گئے۔ سلاخوں کے پیچھے سے انہوں نے ایک روپے کا سکہ اچھال کر ان کو تاکید کی کہ سیدھا گھر جائے۔ یہ سکہ جس کی اس زمانے میں اچھی خاصی قیمت تھی برسوں ان کے پاس بطور تبرک موجود رہا۔
دوسری طرف ہمارے والد صاحب ہمیں دوسری جنگ عظیم میں برما، رنگون اور انڈیا کی اپنی جھوٹی سچی آپ بیتیاں سناتے رہتے تھے۔ بقول ان کے انہوں نے سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں شامل ہو کر برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی، اور تھانہ (مالاکنڈ) کے کیپٹن رشید کی ہدایت پر وہ اور حاجی عبدالمستان، سبھاش چندر بوس کو براستہ باجوڑ قندھار لے گئے تھے۔ اس کی تصدیق کیپٹن رشید نے اس وقت کی جب میں گورنمنٹ کالج تھانہ میں سیکنڈ ائر کا سٹوڈنٹ تھا۔ یاد رہے کہ کیپٹن رشید ان گنے چنے فوجی افسروں میں سے ایک تھے جنہوں نے سبھاش چندر بوس کے ساتھ مل کر انگریز فوج کے خلاف بغاوت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
میرے والد صاحب اور ماموں کے درمیاں معمولی سی نوک جھونک تو روز چلتی رہتی تھی لیکن کبھی کبھی حالات گمبھیر بھی ہو جاتے۔ ایسے موقعوں پر ماموں بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے۔ بعد میں میرے سامنے ڈینگیں مارتے کہ ہم تو باچا خاں (غفار خان) کے پرامن پیروکار ہیں ورنہ اس دیسی انگریز جناح کو تو ہم ایک دن میں سیدھا کر سکتے ہیں۔ میں اس زمانے میں بہت چھوٹا تھا اس لئے مجھے بے وقوف بنانے کے لئے وہ اس قسم کی الٹی سیدھی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔
ایک دن وہ ہمارے گھر کی منڈیر پر بیٹھے ہمیں اپنے تازہ کارنامے کے بارے میں اپنی مٹھی میں بند کسی ٹوٹی ہوئی عینک کا شیشہ دکھاتے ہوئے بتا رہے تھے کہ جو جادو وہ کرنے والے ہیں ایسا بقول ان کے پہلے کسی مداری یا جادو گر نے نہ کیا ہو گا۔ اور نہ مستقبل میں کر سکے گا۔ وہ ہاتھ میں عینک کا وہ گول شیشہ گھما پھرا کر دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ اسے منہ میں ڈال کر دانتوں سے کھرچ کھرچ کر کھا جائیں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے شیشہ منہ میں ڈالا اور منہ بند کر کے جگالی کی ایکٹنگ کرنے لگے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ منہ بند کیے وہ دانتوں سے اس شیشے کو چبا رہے ہیں۔ لیکن ایک دو منٹ کے بعد انہوں نے سالم شیشہ منہ سے نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بتایا کہ ابھی جادو ختم نہیں بلکہ شروع ہونے والا ہے۔
میں ان کی چالاکی کو سمجھنے کے باوجود انجان بن کر بٹر بٹر ان کی طرف دیکھتا رہا۔ انہوں نے زور سے ”دا باچا خانی دہ“ ۔ کا نعرہ لگا کر پھر سے وہ شیشہ منہ میں ڈال لیا۔ (یہ نعرہ آج کل کے پی میں پھر سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے اب باچا خانی چلے گی، یہ ہو بہو ”نیو ورلڈ آرڈر“ جیسا نعرہ تھا) اس بار ان کا جادو کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بولا۔ اداکاری بلکہ جلد بازی میں شیشہ سیدھا ان کے حلق میں جا کر پھنس گیا۔ ان کے منہ سے کسی ذبح ہوتے ہوئے بکرے جیسی آوازیں نکلنے لگیں۔ میں سراسیمگی کی حالت میں اپنی ماں کو یہ سنسنی خیز خبر سنانے کے لئے گھر کے اندر کی طرف بھاگا ہی تھا کہ والد صاحب باہر کے دروازے میں نمودار ہوئے۔ ماموں کو بکرے کی طرح ڈکراتے دیکھ کر انہوں نے صحن میں پڑا ہوا زیتون کا موٹا ڈنڈا اٹھا لیا۔ اس دوران میں جلدی جلدی میں والد صاحب کو نمک مرچ لگا کر ماموں کے چمت کار کے بارے میں بتاتا رہا۔
کچی مٹی کی منڈیر(جو بمشکل چار فٹ اونچی تھی) پر بیٹھے ہوئے ماموں کی آہ و بکا سن کر اندر سے بھی لوگ باہر آ گئے تھے۔ گلی میں بھی اچھا خاصا مجمع اکٹھا ہو گیا تھا۔ والد صاحب نے اچھل کر ڈنڈا گھماتے ہوئے ماموں کی گردن کو نشانہ بنایا۔ وار اس قدر شدید تھا کہ اگلے ہی لمحے ماموں منڈیر سے گر کر زمیں پر لوٹ پوٹ رہے تھے۔ عینک کا شیشہ ان کے منہ سے نکل کر صحن کی گھاس پر پڑا تھا۔ میں نے لپک کر اس جادوئی شیشے کو بطور تبرک جیب میں ڈال دیا۔ والد صاحب دوبارہ ڈنڈا گھما رہے تھے کہ ماموں اچھل کر رفو چکر ہو گئے۔
میں سوچتا ہوں کہ کہیں زرداری صاحب کی حالت بھی ہمارے ماموں جیسی نہ ہو جائے۔ چمتکار دکھاتے دکھاتے اگر وہ کبھی گنڈا سنگھ کے ڈنڈے کے نیچے آ گئے تو بقول بلاول کے
”ان کو لگ پتہ جائے گا“
ماموں کے پراسرار روحانی کارناموں کی کچھ مزید جھلکیاں


