بوسنیا کی چشم دید کہانی-55


میں نے پیرس پہنچ کر ایک بار پھر سہ بطخی ہاسٹل کی راہ لی۔ جب استقبالیہ میں داخل ہوا تو کاؤنٹر پر موجود مائیکل نے مجھے ”ہیلو واحید“ کی پکار سے خوش آمدید کہا۔ ہاسٹل کے کیفے بار اور صحن کی رونق کا آج بھی وہی عالم تھا۔ میری فرمائش پر مائیکل نے مجھے پہلی منزل پہ ایک ایسے کمرے میں جگہ دی جہاں صرف تین بستر تھے۔ دو بستر یہاں ایک کینیڈین جوڑے نے سنبھال رکھے تھے۔ یہ طالب علم ساتھی تھے جن کی پیرس میں آج آخری رات تھی اور اگلی صبح لکسمبرگ روانگی کی تیاری میں مشغول تھے۔

اگلے دن ان کی جگہ ایک برطانوی ”دوست جوڑے“ نے لے لی۔ لڑکے کا نام ولیم اور لڑکی کا روزی تھا۔ دونوں ہم جماعت تھے۔ روزی بھرے بھرے جسم کی ایک سروقد، گلرو اور بے تکلف لڑکی تھی۔ وہ روزانہ شام مجھ سے یہ تفصیل ضرور جاننا چاہتی تھی کہ آج میں نے پیرس میں کیا کیا دیکھا۔ میں پوری کوشش کے باوجود اس پیمانہ صہبا کے سامنے گل افشانی گفتار کا حق ادا نہ کر پاتا تھا۔

پیرس میں اب دو دن کے قیام کے دوران میری پہلی منزل نوٹرے ڈیم کا گرجا گھر تھی۔ پیرس کے بیچ سے گزرتا ہوا دریائے سین یہاں پہنچ کر دو شاخیں بنا لیتا ہے اور اس گرجا گھر کو اپنے گھیرے میں لیتا ہوا آگے چل کر پھر یک جان ہو جاتا ہے۔ روایت ہے کہ رومن دور سے اس مقام پر کوئی نہ کوئی عبادت گاہ ضرور موجود رہی ہے۔ اس گرجا گھر کی تعمیر کا آغاز 1163 ء میں ہوا اور تکمیل 1345 ء میں ہوئی۔ مجھے اس کے تاریخی پس منظر سے کچھ ایسی آگاہی حاصل نہ تھی۔

میرے نزدیک اس کا حوالہ وکٹرہیوگو کا مشہور ناول Hunchback of Notredem تھا، اس لیے میں اس کے ستون نما میناروں کے درمیان وہ گھنٹیاں تلاش کر رہا تھا جن کی آواز بلند کرنے پر وہ کبڑا مامور تھا۔ مجھے ان گھنٹیوں کا تو یہاں کوئی نشان نہ ملا، لیکن جب میں نے بہت سے سیاحوں کے درمیان اس کے صدر دروازے کے بالکل سامنے باغ میں لگے ہوئے پیرس کے نقشے پر نظر دوڑائی تو مجھے اس جگہ کا سراغ مل گیا جسے وکٹرہیوگو کی رہائش گاہ ہونے کا اعزاز حاصل رہا تھا۔

یہ مقام نوٹرے ڈیم کے گرجا گھر سے چند کوس کے فاصلے پر دریائے سین کے بائیں کنارے پر واقع تھا۔ میں نقشے کا سہارا لیتے ہوئے اس سمت پیدل چل پڑا۔ میں جب اپنی منزل پر پہنچا تو میرے سامنے پرانی طرز کی وسیع و عریض مربع شکل کی ایک تین منزلہ عمارت تھی جس کے درمیان میں ایک باغ تھا۔ اس عمارت کے ایک کونے میں پہلی منزل پر تین کمروں پر مشتمل وکٹر ہیوگو کا وہ فلیٹ تھا جو اب اس کی تخلیقات، تصاویر اور ان خاص خاص اشیاء سے سجا ہوا تھا، جو کبھی اس کے زیر استعمال رہی تھیں۔

وکٹر ہیوگو کی رہائش گاہ کے بعد میری اگلی منزل لو ور کا عجائب خانہ تھا۔ میں اسی راستے سے واپس نوٹرے ڈیم تک آیا اور پھر دریائے سین کے کنارے کنارے چلتا ہوا لوور کے عظیم الشان عجائب گھر میں داخل ہوا۔ لو ور بنیادی طور پر ایک قلعہ کے طور پر بارہویں صدی کے آخری حصہ میں فلپ آگسٹ نے پیرس کو ایک موثر دفاع فراہم کرنے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ چودہویں صدی میں چارلس پنجم نے پہلی مرتبہ اسے محل کے طور پر استعمال کیا۔

چارلس پنجم کے بعد کسی بھی بادشاہ نے اسے محل کے طور پر استعمال نہ کیا۔ حتیٰ کہ 1536 ء میں فرانس اول نے قلعہ کی پرانی عمارت کو گرا کر محل کی بنیاد رکھی۔ اس عمارت کی وسعت میں بعد کے فرماں رواؤں نے کئی اضافے کیے۔ 1682 ء میں شاہی محل اور دربار، و رسائی منتقل ہونے کے بعد اس کی حیثیت ایک اجڑے دیار سے زیادہ نہ رہی۔ بعد میں نپولین اول اور نپولین سوئم کے ادوار میں اس کی تعمیر نو اور کشادگی عمل میں آئی۔ اسے 10 اگست 1793 ء کو عجائب گھر کے طور پر ہر خاص و عام کے لیے کھولا گیا۔

ہر مفتوح قوم کے لیے نپولین اول نے یہ لازم قرار دیا کہ خراج کے طور پر اس کے نوادرات میں اضافہ کرے۔ بعد کے ادوار میں اس عمارت کے مختلف حصے سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال ہوتے رہے لیکن 1981 ء میں صدر متراں نے اسے مکمل طور پر ایک عجائب گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے عمارت کے مختلف حصوں میں ضروری تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔ یوں اس محل تک عوام الناس کی پہلی رسائی کے دو سو سال بعد ، 20 نومبر 1993 ء کو لوور کا یہ محل بالآخر عجائب گھر بنا دیا گیا۔

یہ عجائب گھر آٹھ حصوں پر مشتمل ہے جن میں مشرقی اور اسلامی نوادرات، مصری نوادرات، یونانی و رومی نوادرات مجسموں اور تصاویر سے مزین حصے شامل ہیں۔ یہ عجائب گھر اس قدر وسیع ہے کہ اس کو دلجمعی کے ساتھ دیکھنا سیاح کے بس کی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کے لیے پہلے فرانس کی شہریت اور پیرس میں مستقل قیام کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ لوور فرانس کی شہریت رکھنے والے کسی ایسے صاحب ذوق کا ابھی تک منتظر ہے۔

شام شانزا لیزے اور اس پری جمال کی نذر کر کے کہ جس کے کاؤنٹر کے سامنے میکڈونلڈ میں آج بھی سب سے لمبی قطار تھی، میں ہاسٹل لوٹ آیا۔ اگلی صبح میری منزل پیرس سے چودہ کلو میٹر باہر ورسائی محل تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی کے باوجود سیاحوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس کی وسعت میں گم تھی۔ 250 ایکڑ رقبے پر محیط اس کے باغات دیدہ زیب تھے، جو چشموں، مجسموں اور فواروں میں گھرے ہوئے تا حد نگاہ پھیلے ہوئے تھے۔ اس کی سہ منزلہ مستطیل عمارت کے صحن میں دائرہ بناتا ہوا ایک تالاب تھا، جس میں بارش کے قطرے ٹپا ٹپ گرتے تھے اور بلبلے بناتے تھے۔

محل کے مختلف حصوں، خاص طور پر شاہی خواب گاہوں کی آرائش قابل دید تھی۔ لیکن اس کا کوئی حصہ اگر بے مثال تھا تووہ آئینہ خانہ تھا جسے Hardouin Mansort نے ڈیزائن کیا تھا اور اسے 1678 ء سے 1684 ء کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی لمبائی 246 فٹ اور چوڑائی 33 فٹ ہے اور اس کی چھت Let Burn کی فرانسیسی فتوحات کی تصاویر سے مزین ہے۔ اس کی دیواروں میں دونوں اطراف سترہ سترہ فٹ اونچی محرابی کھڑکیاں ہیں۔ شاہ لوئی کے زمانے میں اس ہال کو روشن کرنے کی خاطر تین ہزار شمعیں جلائی جاتی تھیں۔ اس آئینہ خانہ کی شوکت نے ان یادوں کو تازہ کر دیا جو ابھی تک صرف شان برن سے منسوب تھیں۔

جنوری میں ہم سے جدا ہونے والے فرانسیسی جنڈرمیری ساتھیوں میں سے ایک لوئی جسے ہم کنگ لوئی کہا کرتے تھے، پیرس ہی میں مقیم تھا۔ میں پہلے تو اس بارے میں ڈانواں ڈول تھا کہ اس سے رابطہ کیا جائے یا نہیں۔ مجھے یہ اندیشہ لاحق تھا کہ نہ معلوم پذیرائی کیسی ہو۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ جنڈر میری ساتھیوں کے ساتھ آغاز میں ہماری کھٹ پٹ رہی تھی، تاہم بعد ازاں تعلقات گہرے مراسم میں بدل گئے تھے۔ بہرحال میں نے اس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

یہ فیصلہ ورسائی سے واپسی پر ریل کے سفر کے دوران کیا گیا۔ اوپرا کے اسٹیشن پر اترتے ہی میں نے لوئی کا فون نمبر ملایا۔ دوسری طرف لوئی موجود تھا اس نے میری آواز سنتے ہی مجھے پہچان لیا۔ میں نے جب اسے بتایا کہ میں پیرس میں ہوں اور اس سے ملنا چاہتا ہوں تو اس نے مجھے کہا کہ اوپرا سٹیشن ہی پر اس کا انتظار کروں، وہ مجھے لینے آ رہا ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ بعد لوئی اپنی گاڑی پر میرے پاس پہنچ گیا۔ وہ بڑی گرم جوشی سے ملا اور مجھے پیرس کے نواح میں واقع جنڈر میری ہیڈ کوارٹر کے احاطے میں سرکاری فلیٹوں میں واقع اپنی رہائش گاہ پر لے آیا۔

اس کی بیگم نرس تھی اور اس کی دو بچیوں سے پہلے ہی غائبانہ تعارف تھا۔ لوئی کی طرح گہرے سانولے رنگ والا یہ خاندان نین نقش کے اعتبار سے بڑا پر کشش تھا۔ اس کی بیوی اور بچے انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے ہاں میری موجودگی کے دوران میرے ہی پاس بیٹھے رہے اور لوئی کی وساطت سے گفت گو ہوتی رہی۔ اس موقع پر میں نے لوئی سے کہا

اللہ کی شان ہے کہ کبھی تم ہماری انگریزی سمجھنے کے لیے جیبی لغت ہر وقت ساتھ لیے پھرتے تھے اور آج مترجم کے فرائض سر انجام دے رہے ہو۔

میری انگریزی آج بھی کچھ ویسی ہی ہے لیکن مترجم کی صورت میں دونوں فریقوں کی زبان ناشناسی کا جو فائدہ آپ کو حاصل ہوتا ہے وہ براہ راست گفت گو میں نہیں۔ اس صورت میں آپ اپنی زبان دانی کا مظاہرہ زیادہ اعتماد کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اس نے روایتی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

اس موقع پر مجھے یاد آیا کہ ہمارے ایک وزیر جن کی انگریزی
ع۔ نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں

سے زیادہ نہیں تھی، مترجم کے ہم راہ غیر ملکی دورے پر تھے۔ ایک ہم منصب غیر ملکی کے ساتھ دوران گفت گو ان کے میزبان نے محسوس کیا کہ وزیر موصوف بات میں اتنا اختصار نہیں برتتے جتنا ترجمے میں پایا جاتا ہے۔ بار بار ایسا ہونے پر آخر انھوں نے غیر شائستگی کی معافی چاہتے ہوئے مترجم سے اس شک کا اظہار کر ہی دیا۔ مترجم نے عرض کی

حضرت، وزیر موصوف کی گفت گو کا دورانیہ دراصل ان کا ایک سطر پر مشتمل تکیہ کلام بڑھا دیتا ہے جسے وہ بار بار دہراتے ہیں۔

باتوں کے دوران بیگم لوئی نے پہلے میز پر جوس اور خشک میوہ سجایا اور کچھ ہی دیر بعد چائے بھی بنا لائی۔ لوئی اس بات پر ناراض تھا کہ میں پیرس میں اس کا مستقل مہمان کیوں نہ بنا۔ میں نے اسے ٹالنے کے لیے بہانہ بنایا کہ مجھ سے اس کا فون نمبر کہیں ادھر ادھر ہو گیا تھا جو اتفاق سے آج ہی ملا۔ لوئی نے اقبال، پریم، شیوا، سیکا، میرا کا حال احوال پوچھا۔ ساشکا کا ذکر کرتے ہوئے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ خوب روؤں کے معاملے میں لوئی بھی دل کی بے اختیاریوں پہ قابو پانے میں بہ مشکل ہی کام یاب ہوتا ہے۔

ژاں ژیک جسے لوئی جی جی کہا کرتا تھا اور فلپ کا بھی ذکر ہوا۔ اس طرح بیتے دنوں کو خوب یاد کیا گیا۔ میں کوئی ایک گھنٹہ وہاں رہا۔ رخصت ہوتے وقت اس کی بیگم نے مجھے چھوٹے چھوٹے مختلف کھلونوں کا ایک پیکٹ تحفتاً دیا۔ ایک یورپی کنبے کے ہاں مہمان نوازی کی روایات کا یہ انداز میرے لیے حیران کن تھا۔ میں اب اپنی اس ذہنی کش مکش پر شرمندہ تھا جو پذیرائی کے بارے میں تشکیک پر مبنی رہی تھی۔

Facebook Comments HS