میں نے عورت کو دیکھا

پچھلے دنوں کی بات ہے میں نے عورت کو انتہائی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔ لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب پشاور سے کوئی ایک عورت محض ڈھائی لاکھ میں خرید لایا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب باپ نے بیٹی کا وراثت کا حق چھینا اور اس وقت بھی جب اس عورت کو لانے والی اس کی اپنی بیوی تھی۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت نے صبر کی جگہ شکر کیا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت اپنے گھر بیٹی پیدا ہونے پر مایوس ہوئی۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت گھر بیٹھے رشتوں کے انتظار میں کنواری ہی مر گئی۔
اس وقت بھی خیال آیا جب عروسی لباس میں ملبوس عورت نے شادی شدہ مرد کے لیے کلمے پڑھے۔ عورت پر لکھنے کا خیال اس وقت بھی آیا جب ماں نے کہا اولاد کی خاطر میری زندگی تباہ ہو گئی۔ اس وقت بھی خیال آیا جب چار بیٹیوں کی ماں نے کہا رب نے ساری رحمت میرے گھر ہی کر دی ہے۔ اس وقت بھی خیال آیا جب بچوں کی ماں موت کو گلے لگا رہی تھی اور وہ تڑپ کر اپنے بچوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت نے اپنے شوہر کی دوسری بیوی کو گلے لگایا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت کے کردار پر کیچڑ اچھالا گیا۔ اس وقت بھی خیال آیا عورت جب مرد کے ہاتھوں مجبور ہو کر خلع لینے لگی۔ اس وقت بھی لکھنے کا خیال آیا جب عورت ماں بنی۔
اس وقت بھی خیال آیا جب عورت بطور ماں اپنی اولاد کی زندگی بچانے کے لیے در بدر پھری۔
اس وقت بھی خیال آیا جب عورت نے ہر شے سے تنگ آ کر خود کشی کی۔ اس وقت بھی خیال آیا نند نے بھابھی کا جینا حرام کیا۔ اس وقت بھی آیا جب مرد نے دوسری شادی کر کے اسے آرام سے ٹھکرا دیا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت نے بیٹی کا طعنہ سنا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب عورت کو اولاد نہ ہونے پر عورت کو طلاق ملی۔ اس وقت بھی خیال آیا جب بیٹی کے بھاگنے پر شوہر نے عورت پر ہاتھ اٹھایا۔ اس وقت بھی خیال آیا جب ہسپتال کی ایمرجنسی میں عورت اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگتی رہی۔
عورت نے ہر دور میں تکلیف سہی ہے۔
ہم نے ہمیشہ عورت کو اس پر کیے جانے والے احسان پر تو غور کیا ہے مگر یہ کبھی محسوس نہیں کیا اس پر ظلم کتنے بڑے کیے ہیں۔
یہ بات انتہائی آسان ہے ایک پنجابی کے لئے کہ وہ کسی سے عورت خرید لے۔ لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں اس خرید میں نجانے کتنے کتنے جذبات اور ارمان کا سودا ہوجاتا ہے زندگی کی ابتدا میں ہی عورت اپنے گھر کے بزرگوں کے فیصلوں میں قید ہوئی۔
اس عورت کا دکھ بھی سب سے الگ ہے جس کو اولاد نہ ہونے پر کمزور رشتے کے طعنے نصیب ہوئے اور اولاد جیسی نعمت حاصل کرنے کے بعد اپنا شوہر کھو بیٹھی۔ عورت نے زندگی کے ہر پہلو میں تکلیف سہی جس کی وجہ بھی مرد بنا اور جس کا ازالہ ادا کرنے والا بھی مرد ہے۔

