کیا 8 فروری کی تاریخ پتھر پر لکیر ہے؟

دعوے اور یقین دہانیاں کرنا کوئی آسان نہیں، سب اپنی حدود میں رہیں گے، یا سب اپنی حدود میں رہتے کام کریں گے شاید ایسا کرنا مشکل کام ہے۔ کسی فرد، مجموعے یا ادارے کو با اختیار کرنا محض بات ہو سکتی ہے، مداخلت کی جبلت بہت بری ہے، اس سے گریز یا خود کو قابو میں رکھنا کسی ریاضت سے کم نہیں۔
معاملات اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کی سوچ بہت خطرناک ہے، کچھ ایسا ہی ان دنوں ہو رہا ہے، ملک میں جمہوریت جیسے کسی جانور کو ہانکنے کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ایوان بالا میں بڑی رازداری سے ایک قرار داد کا پیش ہونا اور پھر چند ارکان کی موجودگی میں کثرت رائے سے ایک بڑی تبدیلی کی پیش قدمی کا مطالبہ کر دینا جس سے پورا ملک حیرت میں گرفتار ہو گیا۔
یہ سب نظر آ رہا تھا اور نیت بھی محسوس ہو رہی تھی، آخر سینیٹ کے ایوان کو مقصد کے لئے استعمال کر لیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے واضح کر دیا تھا کہ 8 فروری کی تاریخ پتھر پر لکیر ہے۔ اس کے باوجود مولانا فضل اول اول اور کئی ایسی ہی حلقے دبی اور اونچی آواز میں انتخابات کو ملتوی کرنے کی صدائیں بلند کر رہے تھے، وجہ دہشت گردی، امن وامان اور شدید سردی کا موسم بنائی جا رہی ہے۔
مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانیاں دھری کی دھری رہ گئیں، بس یہی رہ گیا تھا کہ ایک نئی بحث کو شروع کر دیا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پتھر پر لے کر کا دعویٰ کرنے والے کتنے دبنگ ثابت ہوتے ہیں۔ جمہوریت پہلے ہی پکی سڑک پر نہیں بلکہ کچے سے پکے پر چڑھنے کی کوشش میں ہے، اس گاڑی کا نہ جانے کیا مستقبل ہے، کیونکہ ناہموار راہوں پر چل چل کر گاڑی کے پارٹس بہت زیادہ کھوچل ہوچکے ہیں۔
ملک کی سالمیت، ترقی اور استحکام کے دعوے کرنے والے نہ جانے کیا سوچ کر ایسے قدم اٹھاتے ہیں، ان کی سوچ عوام کے امنگوں سے ہم آہنگ کیوں نہیں ہو پاتی۔ یہ ایک پیج والی بات بھی نہ جانے کس نے شروع کی تھی۔ محض مفادات کی خاطر کسی کا ساتھ دینا اور نہ ملنے پر اختلاف کی روش بھی نہ جانے کب ختم ہوگی۔ میدان میں لانے کے لئے اپنے کھلاڑی اور اپنے گھوڑے کو میدان میں اتارنے اور مخالف کو زچ کرنے کی سوچ نہ جانے کب تک رہے گی۔
دوسروں کو خاموش کرا کے کسی بھی نظریے کو متعارف کرا دینا۔ اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنا کوئی صائب طرز عمل نہیں کہلاتا۔ دوسروں کی رائے بلڈوز کرنے سے انارکی اور انتشار بڑھتا ہے۔ سب کچھ کنٹرول کرنے کی خواہش سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔

