کیا بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی نوکریوں کے لیے خطرہ ہے؟


مجھ کو لگتا ہے کہ کتنے ہی بدلتے ہوئے زمانوں میں یہ سوال مستقل پوچھا جاتا رہا ہو گا کہ کیا نیا زمانہ ہم سے ہمارا کام چھین لے گا، نہیں معلوم کے اہل علم اس کا کیا جواب دیتے ہوں گے ۔ ہر زمانے کی طرح آج بھی ہمیں اس سوال کا سامنا ہے۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں اسے مصنوعی ذہانت اور سیکھتی مشینوں کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف نئی سہولتوں کی خوشی ہے وہاں دوسری طرف کسی سے ہار جانے کا خوف بھی ہے۔ کیا بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی ہمیں ہرا دے گی یا ہماری نوکریاں چھین لے گی۔

ٹیکنالوجی ہے کیا؟ کسی کام کو انجام دینے کے طریقہ کار کو ٹیکنالوجی کہتے ہیں، اور تہذیب کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ مستقل بدل رہا ہے، یعنی ٹیکنالوجی تو تب سے بدل رہی ہے جب سے تہذیب شروع ہوئی ہے۔ ہر کام ہاتھ سے کرنے سے لے کر اب ہر کام مشین سے کروانے تک کے سفر کو اب تک کی تہذیب کا سفر کہا جا سکتا ہے، ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ منزلیں اس سفر کی بیشمار ہیں۔ ایک خیال آتا ہے کہ یہ جنت سے نکلے ہوئے لوگ جب تک ویسی دنیا نہ بنا لیں کہ ہر کام خود با خود ہو جائے چین نہ لیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جو بھی اس کرہ ارض پر جیا ہے اپنے وقت کی جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جیا ہے۔

سوچتا ہوں کہ تاریخ اس سوال کا کیا جواب دیتی ہے، ول ڈیوراں نے سچ کہا تھا کہ ہم نے آج تک زندگی کیسے گزاری ہے اس کا بہترین جواب تاریخ کا ریکارڈ دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تہذیب کی عمر دس ہزار سال ہے، کچھ کا خیال ہے کہ اس میں اگر تہذیب بننے کا عرصہ بھی شامل کریں تو یہ بیس ہزار سال بنتی ہے۔ تہذیب کی یہ عمر چار بڑے ادوار میں تقسیم ہوتی ہے، شکار اور اکٹھے کرنے کا دور، زراعت کا دور، صنعتوں کا دور اور معلومات اور مصنوعی ذہانت کا دور۔

بلا شبہ ہر بڑا دور بہت سے چھوٹے ادوار پر مشتمل ہے، صرف پہلے دور میں کتنے چھوٹے ادوار ہیں جیسے ہاتھ سے شکار اور اکٹھے کرنے سے لے کر مختلف ہتھیاروں اور اوزاروں کا استعمال۔ اسی طرح زراعت کا دور بھی بہت سے ادوار سے گزرتے ہوئے اب وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس میں اور صنعتی دور میں بہت کم فرق رہ گیا ہے۔ آپ خود ہی فیصلہ کریں کیا صنعتیں وہی ہیں جو اٹھارہویں صدی میں تھیں۔

معلومات کا دور بھی کیا سے کیا ہو گیا ہے، مصنوعی ذہانت ہے کے ہم پر حاکم ہونے کو ہے۔ سوچتا ہوں ہر دور کے بدلنے پر کیا کچھ بدلتا ہو گا، وہ جس کا ہنر ابھی کچھ برس پہلے سونے کے بھاؤ بکتا ہو گا اسے اب کوئی پیتل کے بدلے نہ لیتا ہو گا۔ شکار اور اکٹھے کرنے کے دور میں جس کے ہنر کا چہار سو چرچا ہو گا زراعت کا دور آتے ہی اس کا ہنر کیا ہوا ہو گا۔ وہ جس کی خوش خطی ضرب المثل ہوگی ٹائپ رائٹر کا دور اس پے کیا ستم ڈھا گیا ہو گا۔ مجھ کو جس بات پر میرے اساتذہ ملامت کرتے تھے وہ میری تحریر کا برا خط تھا، مجھ کو ہر بار یہ لگتا تھا کہ یہ خوش خطی دھری کی دھری رہ جائے گی۔

جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی بدلتی ہو گی تو ایک طرف جہاں کچھ نوکریاں ختم ہوتی ہوں گی وہاں دوسری طرف نئی نوکریاں پیدا بھی ہوتی ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے سب سے زیادہ کون متاثر ہوتا ہو گا۔ انسانی سماج میں ہر وقت چار طرح کے لوگ موجود رہتے ہیں ؛ بچے، جوان، بڑے اور بوڑھے۔ بچوں اور بوڑھوں کو ٹیکنالوجی بدلنے سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ زندگی کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ نوجوانوں کا یہ عہد ہوتا ہے اس لیے ان کے لیے ٹیکنالوجی میں کچھ بھی نہیں بدلا ہوتا۔

فرق صرف بڑوں کو پڑتا ہے، وہ ایک ہنر میں طاق ہوئے ہوتے ہیں مگر اس کا وقت پورا ہو رہا ہوتا ہے، انھیں ابھی آدھی زندگی گزارنا ہوتی ہے اس لیے نیا ہنر سیکھنا پڑتا ہے۔ اور یہ سب پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا، انسانی تہذیب میں کئی ایسے موڑ آچکے ہیں۔ ہر بار لوگوں نے اپنے آپ کو ماحول کے ساتھ بدلہ ہے اس لیے تو تہذیب زندہ ہے۔

اس کا کیا امکان ہے کے یہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہم پر حاوی ہو جائے گی، اگر تاریخ سے پوچھوں تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے ٹیکنالوجی استعمال کر کے انسان پر حکم چلایا ہے البتہ ٹیکنالوجی ہمیشہ اس کی خادم ہی رہی ہے۔ اگر آپ ٹیکنالوجی کے سفر پر نگاہ ڈالیں تو آپ جان لیتے ہیں کہ اس نے ہر جدت کے ساتھ انسان کو برتر کاموں کے لیے فرصت فراہم کی ہے۔ مجھے لگتا ہے بہت جلد ہمیں وہ کرنے کا موقع ملنے والا ہے جس کی طرف علامہ اقبال نے توجہ دلائی تھی:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
! زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

Facebook Comments HS