سومناتھ میں واقع ایک مسجد اور وہاں کا احوال
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
سومناتھ کا مندر گجرات کے مغربی ساحل پر سوراشٹر میں ویراول کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ کبھی ریاست جوناگڑھ کا حصہ تھا۔ اس مندر کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شیو کے بارہ مندروں میں سے پہلا مندر ہے۔ یہ گجرات کا ایک اہم سیاحتی و مذہبی مقام ہے۔ متعدد حملہ آوروں اور حکمرانوں کے اسے بار بار تباہ کرنے کے باوجود ماضی میں متعدد بار اس کی تعمیر نو کی گئی۔ موجودہ مندر کی تعمیر 1951 ء میں کی گئی۔ اس وقت کے بھارت کے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل کے حکم کے تحت تعمیر نو کا آغاز کیا گیا اور ان کی موت کے بعد اسے مکمل کیا گیا تھا۔
سومناتھ کا علاقہ تین دریاؤں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ مقام صدیوں سے ہندوستان کے علاوہ دیگر علاقوں کے لوگوں کے لیے بھی ایک اہم مذہبی مقام رہا ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس سے متعلق بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ اس شہر کے کئی نام مشہور ہیں، جن میں ایک پربھاس بھی ہے، جس کا مطلب چمک ہے، اسی طرح ایک اور نام سومیشور بھی ہے لیکن اب سب اسے سومناتھ ہی کہتے ہیں جس کا مطلب ”چاند کا مالک“ یا ”چاند دیوتا“ ہے۔
سومناتھ کی تاریخ جاننے کے لیے رومیلہ تھاپر کی کتاب Somanatha: The Many Voices of a History میں بہت کچھ لکھا ہوا ہے۔ ایک دلچسپ بات انھوں نے یہ لکھی ہے (صفحہ 50 ) کہ محمود نے جب ملتان پر حملہ کیا تو اس وقت وہاں اسماعیلی فرقہ کی مسجد تھی جسے محمود نے تباہ تو نہ کیا لیکن اسے بند کر دیا اور ایک سنی مسجد کی تعمیر کی۔ رومیلہ تھاپر نے یہ بھی لکھا ہے کہ سومناتھ میں پہلے شیو مندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہاں پر مندر تعمیر کیا گیا تھا جس کی تاریخ کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ دوسری مرتبہ اسی جگہ پر ولبھی کے ”یادو بادشاہ“ نے 649 ء کے قریب مندر تعمیر کیا۔ 725 ء میں، عرب کے گورنر الجنید نے گجرات اور راجستھان پر حملہ کیا اور اس مندر کو بھی تباہ کر دیا تھا۔ سومناتھ مندر کی اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہوا ہے کہ یہ مندر کئی لاکھ سال پرانا ہے۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کئی بادشاہوں نے بھی اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ یہ ایک طویل اور غیر مطبوعہ تاریخ ہے جس کی صداقت ہمیشہ سے ہی مشکوک رہی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ مندر کئی مرتبہ تباہ ہوا اور کئی مرتبہ اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ اسے کم از کم پانچ مرتبہ مختلف مسلمان بادشاہوں، جن میں محمود غزنوی، اورنگزیب اور خلجی بھی شامل ہیں، نے تباہ کیا۔ یہ بات کہاں تک سچ ہے؟ کچھ کہنا مشکل ہے۔
آزادی سے قبل ویروال جس میں سومناتھ واقع ہے جوناگڑھ ریاست کا ایک حصہ تھا جس کے حکمران مسلمان تھے جبکہ لوگوں کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ مسلمان حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کی کوشش کی جو پوری نہ ہو سکی۔ بھارت کی جانب سے ان کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کے بعد ریاست کو ہندوستان کا حصہ بنا دیا گیا اور نائب وزیر اعظم پٹیل 12 نومبر 1947 ء کو اس کام کے لیے بنفس نفیس جوناگڑھ آئے تھے۔ انھوں نے یہ سارا کام ہندوستانی فوج کے ذریعے کیا۔ انھوں نے اسی وقت سومناتھ کے مندر کی تعمیر نو کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔
جب مندر کی تعمیر نو کی تجویز مہاتما گاندھی کے سامنے پیش کی گئی تو انھوں نے اس کام کی تائید کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کام کے لیے قومی خزانے سے رقم خرچ کرنے کی بجائے عوام سے فنڈز لیے جائیں۔ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ گاندھی نے یہ اس لیے کیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ بھارت ایک مکمل غیر جانبدار سیکولر ریاست بنے اور سرکاری طور پر کسی بھی مذہب کی ترویج کے لیے کوئی رقم استعمال نہ کی جائے۔
میں نے ابھی حال ہی میں ایک ٹی وی رپورٹ دیکھی جس میں یہ بتایا گیا کہ مندر کی دوبارہ تعمیر کی گئی ہے اور اس میں ایک سو پچاس کلو گرام سونا استعمال کیا گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی انیس جنوری 2021 ء کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نریندر مودی کو سومناتھ مندر ٹرسٹ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔
سومناتھ اور مسجد
1950 ء میں سومناتھ کے مقام پر موجود کھنڈرات کے نیچے سے ایک مسجد کے آثار ملے۔ مسجد کو گرانے کی بجائے اس کی پوری عمارت کو کھینچ کر کچھ کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا۔ جمہوریہ ہند کے پہلے صدر راجندر پرساد نے مندر کی تعمیر نو کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ سومناتھ مندر کی تعمیر نو اس دن مکمل ہو گی جب ہندوستان میں اس طرح کی خوشحالی ہو گی جیسی خوشحالی کی علامت سومناتھ کا قدیم مندر تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ”سومناتھ مندر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعمیر نو کی طاقت ہمیشہ تباہی کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔“ ان کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا۔
میں نے سومناتھ مندر کی یاترا کے بعد آنے والے لوگوں سے بات چیت شروع کی تو مجھے ایک خوف محسوس ہوا۔ میں یہ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ یہ لوگ ابھی ابھی مندر سے آئے ہیں اور اگر میں غلطی سے بھی کوئی ایسی بات پوچھ بیٹھا جس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا امکان ہوا تو مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے میں نے نہایت ہی احتیاط سے بات شروع کی۔ ہم کل چار لوگ تھے، تین ہندو یاتری اور ایک میں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق راجستھان کے ایک چھوٹے قصبے سے ہے اور وہ پہلی مرتبہ سومناتھ کے مندر میں پوجا کے لیے آئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان کا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ ان میں سے ایک نے بتایا کہ یہ مندر ان بارہ مندروں میں سے ایک ہے جو بھگوان شیو کے لیے وقف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک نہایت ہی قدیم مندر بھی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جو بھی اس مندر میں آ کر پوجا کرتا ہے اسے شانتی ملتی ہے اور اس کے دکھ درد دور ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مندر میں کسی بھی طرح کے بجلی سے چلنے والے آلات، چمڑے کی بنی ہوئی اشیاء جیسے بٹوے، پٹی وغیرہ ممنوع ہیں۔ لوگوں کی سہولت کے لیے مندر کے پاس ہی مفت لاکر دستیاب ہیں۔
میں نے پوچھا کہ کیا ہر کوئی مندر میں داخل ہو سکتا ہے؟ انھوں نے جواب میں کہا کہ صرف ہندو لوگ ہی اس مندر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ کچھ ایسے مقامات بھی ہیں جہاں صرف پروہت ہی جا سکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا بڑے بت کے درشن کے کوئی مخصوص اوقات بھی ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ دن میں تین مرتبہ؛ صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں درشن کروایا جاتا ہے جسے وہ آرتھی بولتے ہیں۔ میں نے ان سے کئی سوالات کیے جن کے انھوں نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں جوابات دیے جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جسمانی طور پر معذور اور بوڑھوں کے لیے خصوصی سہولیات موجود ہیں۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے تا کہ کوئی پوجا سے محروم نہ رہے۔ مزید یہ کہ ارد گرد کے دوسرے مندر دیکھنے کے لیے معقول فیس پر ایک بس کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ مندر میں داخل ہونے کی کوئی فیس نہیں ہے۔ مندر میں داخل ہونے سے پہلے آپ کو اپنے جوتے اتارنے ہوں گے۔ جوتا گھر دروازے کے پاس ہے اور یہ سروس بھی مفت ہے۔ تمام بجلی کے آلات یعنی موبائل ڈیوائسز، کیمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور کیلکولیٹر وغیرہ پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ میں نے لباس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ انڈین ساڑھیوں، دھوتی، پینٹ، ٹی شرٹ اور اسکرٹس کی اجازت ہے۔ منی اسکرٹس اور شارٹ وغیرہ کی اجازت نہیں ہے۔ مندر کے اندر سگریٹ پینا منع ہے۔ سومناتھ مندر کے اندر فوٹو گرافی کی بھی ممانعت ہے۔
عطیات کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ کسی بھی طرح کے عطیات؛ چیک، کیش یا آن لائن ٹرانسفر کے ذریعے قبول کیے جاتے ہیں۔ متبادل کے طور پر ، آپ مندر میں رکھے ڈونیشن باکس میں رقم ڈال سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کئی ہزار گاؤں کی آمدنی بھی اس مندر کے لیے وقف ہے۔ رہائش اور کھانے پینے کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہاں ہر طرح کا انتظام موجود ہے۔ کسی کو کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔
میرا آخری سوال اس مندر پر محمود غزنوی کے حملے کے بارے میں تھا۔ اس پر وہ پہلے تو خاموش رہے پھر بولے کہ وہ ایسا زخم ہے جسے کسی بھی ہندو کے لیے بھلانا نا ممکن ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مشتاق جی، اس علاقے میں سومناتھ کے علاوہ بھی بے شمار مندر موجود تھے جنہیں مسلمان بادشاہوں نے تباہ نہیں کیا۔ جب بھی کیا سومناتھ ہی کو تباہ کیا۔ جس کی وجہ سوائے اس مندر میں بے بہا مال و دولت کے کچھ نہ تھی۔
ان یاتریوں میں ایک بڑی عمر کے صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے تھے، نے کہا کہ میں آپ کو ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں، میں نے کہا جی بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ راجہ، بادشاہ، سلطان سب مال و دولت اور جاہ کے پجاری ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک دھرم ایک ضرورت کی چیز ہوتا ہے۔ ان کا اصل مقصد دنیا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق مسلمان بادشاہوں نے صرف ہندوؤں کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ انھوں نے بے شمار مسلمان ریاستوں اور مسلمانوں کو بھی نیست و نابود کیا۔
اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ سومناتھ مندر پر حملہ کسی مسلمان کا نہیں بلکہ ایک بادشاہ کا تھا، جو مسلمان بھی تھا۔ اسی ہندوستان میں بے شمار ایسے مسلمان بادشاہ بھی گزرے ہیں جنہوں نے مندروں کی تعمیر میں بھی حصہ لیا اور بے شمار ایسے بھی گزرے جو مندروں کو تباہ کرنے والے تھے۔ ہمارا مسئلہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ ہم ان مسلمان بادشاہوں کو نا پسند کرتے ہیں جنہوں نے ہندوستان میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا اور اس کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ البتہ ہمیں اس بات کا دکھ ہوتا ہے جب آج کا مسلمان ان ظالم بادشاہوں کو اپنا ہیرو بناتا ہے۔ وہ جنہوں نے اسلام کا نام لیا اور باہر سے آ کر یہاں صدیوں سے آباد ہندوؤں کا قتل عام کیا، ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کیا، مندروں سے سامان اٹھا کر مساجد بنائیں، ہماری عورتوں کو تاوان کے طور پر لے کر گئے۔ ہم انھیں یہ کہتے ہیں کہ آپ کو ان ظالمانہ کاموں کی مذمت ضرور کرنی چاہیے اور جب وہ ایسا نہیں کرتے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی معاشرے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے کم نہیں ہو رہے۔
اس ساری گفتگو میں کافی وقت گزر گیا۔ رات بھی خاصی بیت چکی تھی اور نیند کا غلبہ بھی محسوس ہو رہا تھا۔ ان یاتریوں کی گفتگو نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں یہ سب کچھ جان کر اس نتیجے پر پہنچا کہ ہم سب ماضی کو اپنی ایک خاص نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنی اس سوچ کو پکڑ کر رکھتے ہیں پھر ہمارے تمام اعمال کا دار و مدار اسی سوچ پر ہوتا ہے۔ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ صدیوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور شاید ایسا ہی ہوتا رہے گا۔







