میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا معمہ


usama rehman rana

زندگی عبارت ہے آزمائشوں اور مصائب سے۔ مشکل مقامات ضرور آتے ہیں۔ انسان کی زندگی نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ سکھ کے ساتھ دکھ لازم ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا بھی ایکا ہے۔

میں ایم بی بی ایس سال اول کے اواخر میں ہوں۔ میں نے پری میڈیکل میں نے ایف ایس سی کی اور مروجہ نظام کے تحت پروفیشنل میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کے ٹیسٹ (Medical and Dental Colleges Admission Test ) MDCAT تحت کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے بہترین میڈیکل یونیورسٹیز میں سے ایک راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لیا۔

حالات کی ستم ظریفی کہیے یا خوش بختی۔ مگر اکثر و بیشتر پری میڈیکل کے سٹوڈنٹس کا سر درد جو مسلسل دو سال تک چلتا رہتا ہے، وہ یہی ٹیسٹ ہوتا ہے۔ سر درد اس لئے کہ بندہ اتنا جت جاتا ہے کہ سوشل لائف کو متروک کر کے، محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس کے لاشعور میں بس اسی کا خیال رہتا ہے تو شعوری کیفیات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

خوش قسمتی اس لیے کہ شعبہ مسیحائی ہے۔ مقدس پیشہ ہے۔ خدمت سے منسوب ہے۔ پھر معاش کا بہترین ذریعہ بھی۔

پچھلے دو سالوں میں ہر سال تقریباً سالانہ دو لاکھ طلباء اس ٹیسٹ کے لئے رجسٹریشن کرواتے ہیں۔ لگ بھگ پونے دو لاکھ اس ٹیسٹ میں شامل ہوتے ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے پنجاب سب سے زیادہ اور گلگت بلتستان سے سب سے کم سٹوڈنٹس اس ٹیسٹ کا حصہ بنتے ہیں۔

ہم میں سے ہر سنجیدہ طالب علم اس ٹیسٹ کو اپنے مستقبل کا ٹرننگ پوائنٹ سمجھتا ہے اور ایف ایس سی کے ایگزام کے بعد ڈھائی ماہ کے مختصر عرصے میں اس پراسس سے گزر جاتا ہے۔

لیکن یہ ڈھائی ماہ نفسیاتی اور اعصابی لحاظ سے اس کی اب تک زندگی کے سب سے نازک اور پیچیدہ دن ہوتے ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ ان میں سے کچھ وجوہات اور ان کے اثرات بہت دور رس نتائج رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کام اگر سٹوڈنٹس کمیونٹی کرتی ہے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن جب سماج اور فیملی اس کو بڑھا چڑھا کر، بچے کے سر پر سوار کر دیتی ہے تو، اس کا حوصلہ شروع میں ہی پست ہوجاتا ہے۔ کیونکہ کام کا عمدہ آغاز، آدھا تکمیل ہوتا ہے۔ مگر یہ سب کون بتائے؟

ایک اچھا اور لائق سٹوڈنٹ ہونا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اچھے اور مضبوط و مرطوب اعصاب کا ہونا ناگزیر ہے ورنہ آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

لوگ اس کو ناممکن بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کے جو مختلف سینارئیوز میں نے اپنے ایک کان سے سنے اور اس سب کو دوسرے کان سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی۔ وہ تقریباً سبھی کے ساتھ کچھ رد و بدل کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

مجھے ایک قریبی بندے نے کہا آپ کے قرب و جوار میں بیس تک بچے بچیاں آپ کے مقابلے میں ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کون کامیاب ہوتا ہے۔ اب تک تو تم لوگ اچھا کرتے آئے ہو۔ یہ جو بیس کا لفظ ہے، سیدھا ہٹ کر جاتا ہے دماغ میں، میں کیا کروں اب ان تمام کا اگر داخلہ ہو گیا، میرا نہ ہوا تو میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔

دوسرے نے کہا تم ہوسٹل میں نہیں گئے، فلاں کی بچی گھر چھوڑ کر ہوسٹل میں صرف اس لئے گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پڑھ سکے اور داخلہ مل جائے۔

ایک اور نے کہا تم سبھی کے نام گاؤں کے ہر مرد وزن کو ازبر ہیں، اب اپنے والدین کی عزت کی لاج کون رکھتا ہے۔

ان تمام باتوں میں بظاہر کچھ برا نہیں۔ لیکن ایموشنلی کمزور کر دیتے ہیں۔ بچے کو حوصلہ نہیں دیتے، بک اپ نہیں کرتے بلکہ مقابلے کی لکیر کھینچ کر حسد کے دائرے میں مقید کر دیتے ہیں۔ اور کمزور اعصاب والا پھر جکڑا رہ جاتا ہے ۔

اس کے برعکس اس بچے یا بچی سے محبت ہے، تو بھائی سیدھا جاکر اس کو تھپکی دیں، حوصلہ بڑھائیں۔ اگر نہیں پتا کیسے حوصلہ بڑھانا تو خاموش رہیں۔ کیونکہ خاموشی عبادت ہے۔

جب اس کے اردگرد ماحول ایسا بنا دیا جائے گا۔ تو نہ وہ تیاری ٹھیک سے کر سکے گا۔ پرچہ اچھی طرح حل نہیں کرے گا، نمبر نہیں آئیں گے۔ پھر والدین اس کی حوصلہ شکنی پر اتر آئیں گے، جو بد قسمتی سے ہو رہا ہے۔

حالات سے تنگ آ کر بچہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ زندگی، یہ سانسیں اتنی سستی تو نہیں کہ رسی سے لٹک کر ضائع کردی جائیں یا نس کو کاٹ کر بہا دی جائیں۔ یہ تو امانت ہے، قادر مطلق کی عنایت ہے۔ سانسوں کی مالا، یہ دل کی دھڑکن اتنی حسین ہے کہ ای سی جی کی لائنوں کا جوار بھاٹا میں کمال نظر آتی ہیں۔ ان کو صرف ایک چھوٹے سے امتحان پاس نہ ہونے کی صورت سیدھا کر دینا بیوقوفی ہے۔

والدین کی ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ ان کو ترغیب بیشک دیں۔ جوش دلائیں مگر زندگی سے بھاگ جانے پر مجبور نہ کریں۔ بلکہ زندگی کو ڈٹ کر گزارنا سکھائیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ رویہ والدین کی طرف سے ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔

اس میں پھر اہم کام بچوں کا ہی بنتا ہے۔ اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا سیکھیں۔ دنیا صرف ایم بی بی ایس پر ختم نہیں ہوتی۔ اور بھی فیلڈز ہیں۔ یا ایک سال ریپیٹ کر لیں۔ ہمت باندھے رکھیں۔ مشکل ضرور ہے، پورا ایک سال انتظار میں رہنا پڑے گا۔ اگر پر اعتماد ہیں، تو آگے بڑھیں، سب کچھ چھوڑ کر جنون کی حد جاکر محنت کریں لیکن حکمت عملی کے ساتھ۔

پھر نتیجہ رب پر چھوڑ دیں۔

Facebook Comments HS