پڑھے لکھے شیعہ سماج میں چند رائج اصطلاحات کا تعارف


صاحبان علم کا واسطہ ہمیشہ علمی اصطلاحات سے پڑھتا ہے۔ چنانچہ ارباب دانش کی سہولت کی خاطر پڑھے لکھے شیعہ سماج میں چند رائج اصطلاحات کا تعارف پیش خدمت ہے۔ یاد رہے کہ کہ یہ اصطلاحات ماضی میں دیگر معانی کے لئے بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔ چنانچہ یہ مضمون ماضی کی قیل و قال کے بجائے محض آج کے دور میں ان اصطلاحات کی درست تفہیم اور تطبیق کی خاطر لکھا گیا ہے۔

اہل تشیع کے تعلیمی اداروں میں ایک اصطلاح ”ثقۃ الاسلام“ کی ہے۔ اس کا استعمال ماضی کی نسبت آج کل مختلف معانی میں ہو رہا ہے۔

ثقۃ الاسلام:۔

ماضی میں یہ اصطلاح انتہائی برجستہ اور محقق علما کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ جیسے ثقۃ الاسلام کلینی۔ مقبولیت عام کی وجہ سے اس اصطلاح کو مقدمات سے لمعہ تک یعنی کسی دینی مدرسے میں چھ سال پڑھنے والے افراد کے لئے فنی طور پر منتخب کیا گیا، تاہم ماضی میں اس کے خاص تقدس اور وزن کی وجہ سے آج کل اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

حجت الاسلام:۔

یہ اصطلاح ان شیعہ علما و طلبا کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین:۔

جب شیعہ علما اور طالب علم ”رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب“ کے بعد اگلے مرحلے ”درس خارج“ میں داخل ہو جاتے ہیں تو ان کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ درس خارج کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ درس، کتاب یا متن محور ہونے کے بجائے نظریہ محور ہوتا ہے اور اس میں کتابیں پڑھنے کے بجائے نظریات کی جانچ پرکھ کے لئے جرح و تعدیل اور کانٹ چھانٹ کے بعد نظریہ پردازی کی جاتی ہے۔

آیت اللہ:۔

”آیت اللہ“ کا مصداق وہ شخص ہے جو کامیابی کے ساتھ درس خارج مکمل کر کے اجتہاد کے درجے پر پہنچ جاتا ہے ۔ اہل تشیع کے ہاں اجتہاد کے درجے پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص فقہی اصولوں کو استعمال کر کے ادلہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے شرعی قوانین اخذ کرنے کی مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ اس صلاحیت کے بعد اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چند سال علم فقہ اور علم اصول کا درس خارج بھی دے۔ اس کے بعد اسے آیت اللہ کہا جاتا ہے۔

مجتہد :۔

اہل تشیع کے ہاں مجتہد وہ عالم ہے جو برس ہا برس کی محنت شاقہ کے بعد ادلہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی استعداد اور صلاحیت حاصل کر لے۔

شیعہ مجتہدین کی اقسام:۔

مجتہدین کی دو قسمیں ہیں : 1۔ ایک یا چند فقہی ابواب کا مجتہد 2۔ تمام فقہی ابواب کا مجتہد

وہ عالم جو فقہ کے کسی ایک یا بعض ابواب میں مجتہد ہو، اسے مجتہد متجزی کہا جاتا ہے اور وہ عالم جو فقہ کے تمام ابواب میں مجتہد ہو، اسے مرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی کہا جاتا ہے۔

مرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی :۔

اہل تشیع کے ہاں مرجع تقلید ایسا مجتہد ہوتا ہے جو اپنے اجتہاد سے حاصل ہونے والے احکام کو عوام کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان احکام پر عمل کر کے خدا کا قرب حاصل کریں۔ سارے مجتہد اس مقام پر فائز نہیں ہوتے بلکہ ہر زمانے میں صرف چند انگشت شمار مجتہدین اس مقام تک پہنچتے ہیں۔

مجتہد اور مرجع تقلید میں فرق:۔

اہل تشیع کے ہاں مجتہد، فقیہ یا آیت اللہ ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ادلہ اربعہ سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ جبکہ مرجع تقلید کے لئے یہ کافی نہیں۔ ایک مرجع تقلید کو مجتہد، فقیہ یا آیت اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ مرد، بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، حلال زادہ، زندہ، عادل، دنیا کا حریص نہ ہونا اور اعلم ہونے جیسی شرائط کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر مرجع تقلید مجتہد ہوتا ہے لیکن ہر مجتہد مرجع تقلید نہیں ہوتا۔

ولی فقیہ:۔

مجتہد اور مرجع تقلید سے الگ ایک منصب کا نام ولی فقیہ ہے۔ ولی فقیہ کے لئے حکم خدا کو نافذ کرنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کے ماتحت ایک حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی فقیہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس مجتہد اور مرجع تقلید کی شرائط جدا ہیں اور یہ شرائط تقلید و باب تقلید تک محدود ہیں جبکہ ولی فقیہ کی شرائط اسلامی معاشرے کی سرپرستی، مدیریت اور الہی قوانین کے نفاذ کے باب سے تعلق رکھتی ہیں۔

ولی فقیہ اور مرجع تقلید کا فرق:۔

اسلامی معاشرے کو مجتہد اور مرجع تقلید کے علاوہ ولی فقیہ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انسانی صلاحیتیں مختلف ہونے کی وجہ سے جیسے سب مجتہد، مرجع تقلید نہیں ہوتے اسی طرح سب مراجع تقلید، ولی فقیہ نہیں ہوتے۔ وہ فقط حکم الہی کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اس پر عمل کریں لیکن وہ حکم الہی کے مطابق کسی کو سزا نہیں دے سکتے، کوڑے نہیں مار سکتے یا پابند سلاسل نہیں کر سکتے۔

ایک ولی فقیہ کا دائرہ کار ایک مرجع تقلید سے سو فیصد مختلف ہے۔ مقلد کسی بھی وقت ایک مرجع تقلید کی طرف سے دوسرے مرجع تقلید کی طرف رجوع کر سکتا ہے، اسی طرح ایک شہر یا ایک ملک میں ایک ہی وقت میں کئی مجتہد اور مراجع تقلید ہو سکتے ہیں اور وہ آپس میں اختلاف بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک حکومت، ایک پارلیمنٹ اور ایک عدلیہ کے بیک وقت کئی سربراہ ہوں، اس طرح کوئی بھی ملک اور معاشرہ نہیں چل سکتا۔ پس ایک ملک میں کئی مجتہد اور مراجع کرام پائے جا سکتے ہیں لیکن ولی فقیہ فقط ایک ہی ہو گا۔

ایک کلی فتوے کے ساتھ لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کرنا یہ مرجع تقلید کا کام ہے۔ اس کے بعد لوگ مرجع تقلید کی ہدایت اور فتوے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں یہ لوگوں پر منحصر ہے اس کی ذمہ داری مرجع تقلید پر نہیں۔ مثلاً حالت جنگ میں مرجع تقلید یہ فتوی دے گا کہ جب اسلامی ملک پر حملہ ہو جائے تو دفاع واجب ہے۔ اب لوگ دفاع کے لئے جائیں یا اپنا مرجع تقلید تبدیل کر لیں، اس پر انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ لیکن ولی فقیہ جب یہ تشخیص دے گا کہ دفاع واجب ہے تو وہ مرجع تقلید کی مانند صرف فتوی نہیں دے گا بلکہ جہاد کا حکم صادر کرے گا۔ ولی فقیہ کا یہ حکم ریاست کے ہر فرد اور حکومت کے ہر ادارے پر نافذ ہو گا۔ ریاست کا کوئی ادارہ یا شہری یہ نہیں کہے گا کہ میں کسی اور مرجع تقلید کی طرف رجوع کرتا ہوں اس لئے جہاد کے لئے نہیں جاؤں گا۔ چونکہ یہ تقلید اور مرجع تقلید کا باب ہی نہیں ہے۔

ہم نے اپنے مطالعات کا خلاصہ انتہائی سلیس انداز میں اپنے قارئین کے لئے پیش کر دیا ہے۔ آگے چل کر یہ مباحث صاحبان علم کے لئے اس وقت عملی طور پر ثمر آور ہو سکتی ہیں کہ جب حکم اور فتوے، ملزم اور مجرم، مجرم اور گنہگار، دین اور شریعت، اسلام اور الحاد، ریاست اور معاشرے، قانون سازی اور ادلہ اربعہ سے کشف قانون، عام مقننہ اور مسلمان مقننہ کی شرعی حدود، عام جج اور مسلمان قاضی کے شرعی اختیارات، جہاد ابتدائی اور جہاد دفاعی، اسلامی جمہوریت اور مسلمان بادشاہت، نیز تھیوکریسی اور ولایت فقیہ کے فرق کو عام فہم انداز میں بیان کیا جائے۔ اسی کا نام سیاسی شعور ہے اور اسی کی ہمارے وطن عزیز میں انتہائی کمی ہے۔

Facebook Comments HS