پنجاب کی سیاست کے رنگ
ایک وقت تھا پنجاب میں پیپلز پارٹی کا طوطی بولتا تھا پیپلز پارٹی جس پر بھی ہاتھ رکھ دیتی تھی وہ سونا بن جاتا تھا پھر وقت بدلا پنجاب میں میاں شریف کے بیٹے نواز شریف نے سیاست میں انٹری دی۔ نواز شریف کے سیاست میں آنے کے بعد پنجاب کی سیاست نے نیا رخ اختیار کر لیا گو کہ ان سے پہلے چوہدری شجاعت کافی مقبول سیاسی شخصیت تھے لیکن پنجاب میں لیڈنگ رول نواز شریف نے ہی ادا کیا۔ 1985 سے 1999 تک نواز شریف ہی پنجاب کی سیاست پر چھائے رہے لیکن جیسے ہی پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹایا تو گجرات کے چوہدریوں کی قسمت پھر سے جاگ اٹھی۔
نواز شریف کے سیاست سے مائنس ہوتے ہی چوہدری شجاعت اور پرویز الہی کی لاٹری نکل آئی۔ پورے پنجاب میں سائیکل کا نشان جیت کا نشان بن گیا۔ پرویز الہی نے پانچ سال میں پنجاب کے اندر خوب ترقیاتی کام کروائے جن میں فلاحی کام بھی شامل تھے، ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دی لیکن جیسے ہی پرویز مشرف اقتدار سے الگ ہوئے مسلم لیگ قاف جیسے ہنگامی طور پہ بنی تھی ویسے ہی ختم بھی ہو گئی۔ آج ق لیگ تین سے چار سیٹوں کی جماعت رہ گئی ہے۔
پھر وقت بدلا نواز شریف پاکستان واپس آئے ان کی جماعت پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ 10 سال تک مسلم لیگ نون نے پنجاب پر راج کیا لیکن پھر نواز شریف کو مائنس کر دیا گیا اور 2018 میں پنجاب میں ایک نئی جماعت تحریک انصاف کو سب سے بڑی پارٹی کے طور پر پیش کیا گیا گو کہ یہ پنجاب میں اکثریت تو نہیں حاصل کر سکی تھی لیکن اس کے باوجود بھی زبردستی ان کی پنجاب میں حکومت بنا دی گئی تحریک انصاف نے عثمان بزدار کی شکل میں پنجاب میں چار سال حکومت کی جیسے ہی عمران خان کو اقتدار سے نکالا گیا ان کی پارٹی پنجاب میں بھی مقبولیت حاصل کر گئی پہلے تحریک انصاف صرف خیبر پختون خواہ میں ہی مقبول دی اب پنجاب میں تحریک انصاف کا ووٹر موجود ہے لیکن الیکشن لڑنے کے لئے امیدوار نہیں جو ہیں وہ غیر مقبول ہیں جو جیت نہیں سکتے جبکہ جو تگڑے اور مضبوط امیدوار تھے وہ پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔
اب پنجاب میں تحریک لبیک ایک بڑی سیاسی حقیقت بن چکی ہے۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک لبیک یہ ثابت کر چکی ہے۔ تحریک لبیک میں پہلے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے لوگ شامل ہوتے تھے اب تحریک انصاف کے بھی بہت سارے لوگ جو ووٹر اور سپورٹر تھے وہ تحریک لبیک کے نظریے کو سپورٹ کر رہے ہیں بہت سارے لوگوں کا خیال تھا تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کی پارٹی مزید سروائیو نہیں کر پائے گی لیکن ان کی فرزند حافظ سعد رضوی نے اپنے والد کی پارٹی کو بچایا بھی اور پہلے سے زیادہ پاپولر بھی بنا دیا پنجاب میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ آج سعد رضوی کے ساتھ کھڑا ہے اس کی بڑی وجہ سعد رضوی کا اپنی تقریروں میں مذہب کی سر بلندی کا حوالہ دینا ہے لوگ ان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
الیکشن میں جہاں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کا زور ہو گا وہاں تحریک لبیک کا بھی بہت اثر رسوخ ہو گا۔ 2018 کے الیکشن میں بہت سارے حلقوں میں تحریک لبیک دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی لیکن اس الیکشن میں تحریک انصاف کافی حد تک حلقوں میں مائنس ہو چکی ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ تحریک لبیک کو ہو گا۔ تحریک لبیک پنجاب میں تیسرے اور دوسرے نمبر سے اگر کہیں کہیں پہلے نمبر پر آ گئی تو یہ اس کی بہت بڑی اچیومنٹ ہوگی۔
اس جماعت نے جتنی محنت کی ہے ان گراؤنڈ پہ خصوصاً سیلاب کے دوران جتنا کام کیا ہے ان کو کم از کم 8 سے 10 سیٹیں پنجاب میں نکالنی چاہیے سعد رضوی خود بھی قومی اسمبلی کے دو حلقوں اٹک اور منچن آباد سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سعد رضوی کا خود پارلیمنٹ میں پہنچنا ان کی جماعت کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ ان کی جماعت کا موقف بھی قومی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔ جہاں تک بات ہے مسلم لیگ نون کی تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے مایوس لوگوں کی اکثریت مسلم لیگ نون کو ہی اپنے مسائل کا حل سمجھتی ہے کیونکہ مسلم لیگ نون ڈلیور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر مسلم لیگ نون اس بار پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پنجاب میں ایک بار پھر ترقی کا سفر شروع ہو سکتا ہے لیکن اس میں سب سے اہم سوال یہ ہے اس وقت مریم نواز بھی وزیراعلی شپ کی دوڑ میں سب سے آگے نکل رہی ہیں۔
اگر مریم نواز وزیراعلی پنجاب بنی تو مسلم لیگ نون میں بالکل ایسے ہی اختلافات بڑھ سکتے ہیں جیسے تحریک انصاف میں عثمان بزدار کے وزیراعلی بننے کے بعد بڑھے تھے اور پنجاب میں کوئی بڑے ترقیاتی کام نہیں ہو سکے تھے۔ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے مریم نواز کا وزیر اعلی بننا بہت مشکل ہے۔ اگر مریم وزیراعلی بنی تو ہو سکتا ہے شہباز شریف اور حمزہ شہباز اگلے پانچ سال کے لیے قطر شفٹ ہو جائیں یا تبلیغ کرنے چلے جائیں کیونکہ ایسا ہونا ناممکن سی بات ہے کہ نواز شریف وزیراعظم ہو اور ان کی بیٹی وزیراعلی پنجاب بنے جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف جو نواز شریف کو پاکستان واپس لانے عدالتوں سے ریلیف دلوانے میں ان کا اہم رول رہا جبکہ حمزہ شہباز بھی وزیراعلی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلی کی نامزدگی نواز شریف کا بہت بڑا امتحان ہو گا۔ اب یہ وقت بتائے گا کہ نواز شریف یہ فیصلہ کب کریں گے کیسے کریں گے اور ان کے فیصلے کا ان کی پارٹی میں کیا رد عمل آئے گا۔


