گزرا ہوا برس اور انسانی حقوق


پاک وطن میں گزرا سال 2023 گزرے بہت سے برسوں کی طرح خاصا بھاری ثابت ہوا ایک طرف ملک میں سیاسی طور پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی جس کی سب سے بڑی وجہ کسی بھی طرح کی عملی طور پر مستحکم حکومت کا نہ ہونا تھا۔ ، طاقت کے مراکز کی طرف سے شاید دانستہ طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ابہام قائم رکھنا مقصود تھا

قائم مقام حکومت میں وزیراعظم کی حیثیت کیا ہے اور وہ کون سے فیصلے لے رہے ہیں، یا کس سے ہدایت لے رہے ہیں، یہ سب دھند آلود رہا۔ الیکشن کمیشن کے کردار کے بارے میں بھی مبہم سی صورتحال برقرار رہی۔ الیکشن کمیشن کا کردار اکثر و بیشتر سوالیہ نشان بنا رہا۔ نا جانے اس ابہام اور غیر یقینی سیاسی صورتحال اور ابتری سے کس کو کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ نا جانے طاقت کے مراکز کس کس کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

لیکن مجموعی طور پر عام پاکستانی اس ساری صورتحال میں خاصا کنفیوز نظر آتا ہے کیونکہ وہ غیر یقینی سیاسی صورتحال میں دوہرے ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار نظر آتا ہے کیونکہ ایک طرف تو غیر مستحکم سیاسی صورتحال اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام پاکستانی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

اس غیر یقینی صورتحال میں ایک طرف پڑھا لکھا نوجوان بڑے پیمانے پر اپنی تمام تر تعلیمی قابلیت کے باوجود پاکستان چھوڑنے میں ہی اپنی عافیت سمجھ رہا ہے۔ ان کو اپنا مستقبل پاک وطن کی بجائے یورپ اور امریکہ وغیرہ میں محفوظ نظر آتا ہے۔ ہم گزشتہ سال کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق نوجوان اور خصوصاً پڑھا لکھا نوجوان جن کی بڑی تعداد ملک چھوڑ پر چلی گئی ہے اور بہت سے دیگر کسی بہتر موقع کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔

علاوہ ازیں غیر قانونی طور پر بھی نوجوان اپنی زندگیاں اور مالی نقصان کے کے باوجود اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالتے نظر آئے جس میں کہ یقینی موت ان کا مقدر بن رہی ہے ڈنکی کے ذریعے ملک سے باہر جانے کا رجحان کسی صورت بھی کم ہوتا نظر نہیں آتا۔

اس ساری صورتحال میں پسے ہوئے طبقات، خصوصاً مذہبی اقلیتوں، کی حالت ناگفتہ بہ رہی۔ احمدیہ کمیونٹی کا ذکر کریں تو ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ ہو یا عید الضحیٰ پر مساجد سے پیغامات اور اعلانات کی بہت سی ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں سرکاری وردی میں ملبوس پولیس اہلکار ان کو قربانی نہ کرنے کی تلقین کر رہے ہیں اور قربانی کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں ریاست کا کردار مسلسل سوالیہ نشان ہی رہا۔

جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادیوں کی بات کریں تو اس سال بھی گزشتہ برسوں کی طرح کم عمری کی شادیاں اور جبری مذہب کی تبدیلی کا رجحان بہت زیادہ رہا جس کا کہ زیادہ شکار مسیحی اور خاص طور پر ہندو بچیاں بنی۔

تکفیری قانون کے وار بھی مذہبی اقلیتوں کے لیے اس سال بھی جاری رہے گزشتہ برسوں کا بغور مشاہدہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے واقعات اس تسلسل سے نہیں ہوتے تھے جو کہ 2023 میں ہوئے خصوصاً صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا سے شروع ہونے والے سلسلہ جس میں پے در پے سرگودھا شہر اور اس کے مختلف چکوک میں سات سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔

اس سلسلے میں پہلا مقدمہ عید قربان پر بائبل مقدس کی ایک آیت تھی جس پر کہ بائے بک (by book) تو تکفیر کا مقدمہ درج ہی نہیں ہو سکتا لیکن پولیس اور اعلی ضلعی سرکاری عہدے داران سے جب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وفد نے جس کا کہ راقم الحروف خود بھی حصہ تھا جب یہ سوال کیا کہ آیت مقدسہ پر کسی صورت تکفیری مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا تو اس کے جواب میں ان کا موقف بہت ہی مضحکہ خیز تھا کہ انہوں نے لوگوں کے وقتی اشتعال کو کم کرنے اور شہر امن و امان قائم رکھنے کے لئے مقدمہ درج کیا تاکہ شہر کے حالات کو قابو میں کیا جائے۔ ایک شدید دائیں بازو کی مذہبی جماعت جو کہ اب عملی طور پر سیاست میں بھی قدم رکھ چکی ہے کے دباؤ میں آ کر یہ مقدمہ قائم کیا گیا تاکہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھا جا سکے

ابھی سرگودھا اور اس کے چکوک میں یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا تھا کہ اس دوران ہمیں جڑانوالا سے ایک بہت ہی ہو لناک خبر سننے کو ملی جب ایک صبح تکفیری قانون کا بہانہ بنا کر لوگوں کو مشتعل کر کے ہجوم کو اکسا کر دن دیہاڑے مسیحی بستی کو خاکستر کر دیا گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 سے زیادہ گرجا گھروں نذر آتش کئے گئے لوگ بمشکل اپنی جانیں بچا سکے۔ بہت سی دلہنوں کا جہیز جلا دیا گیا۔ لوگوں نے تنکا تنکا کر کے جو گھر بنائے تھے پلک جھپکتے میں راکھ کے ڈھیر میں بدل گئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن اف پاکستان کے 2023 اعداد و شمار کے مطابق تکفیر کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے ان اعداد و شمار کی مزید تفصیل میں جائیں تو 49 مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔ان میں 28 مسلمان، 9 مسیحی، ایک ہندو اور 13 احمدیہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ 2 ملزمان کے مذہب کی شناخت نہیں ہو سکی۔

اگر عبادت گاہوں پر حملے کی بات کی جائے تو احمدیہ کمیونٹی کی عبادت گاہوں پر 32 اور مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں پر 19 حملے ہوئے۔ ہندو کمیونٹی کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی بات کی جائے تو اس سال مذہبی منافرت کی بنیاد پر 3 سکھوں کو قتل کیا گیا جبکہ ایک سکھ زخمی ہوا۔ اسی طرح سے احمدی کمیونٹی کا ایک فرد قتل کر دیا گیا جبکہ کرسچن کمیونٹی کے 3 لوگ قتل اور ایک زخمی ہوا۔

ان سب واقعات کے بعد حکومت وقت نے طرح طرح کے بیانات داغے لیکن عملی طور پر کچھ اقدامات نہیں کیے گئے اس کی ایک مثال جڑانوالا میں 30 گرجا گھروں اور پوری مسیحی بستی کو جلائے جانے کے بعد 10 طرح کی جی آئی ٹیز بنی (جوائنٹ انویسٹیگیشن کمیٹی) لیکن ان سب نتیجہ صفر بٹا صفر ہی رہا اور عملی طور پر ان کی نہ تو کوئی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی کوئی اقدامات کیے گئے تاکہ مذہبی اقلیتیں خصوصاً مسیحی اپنے اپ کو محفوظ تصور کر سکیں جڑانوالہ سانحے سے لے کر اب تک وہاں کے مسیحوں کا مطالبہ جوڈیشل انکوائری کا ہے جس کو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔

اب آخر میں چند گزارشات کہ جن کی وجہ سے مذہبی اقلیتیں اپنے اپ کو محفوظ تصور کریں ان میں سب سے پہلے تو سانحہ جڑانوالہ پر بااختیار جوڈیشل انکوائری کمیٹی بنانی چاہیے اور دوسرا 1914 میں اس وقت کے چیف جسٹس تصدق جیلانی کی ججمنٹ جو کہ جیلانی ججمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے پر فوری طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ تاکہ مذہبی اقلیتوں میں پائے جانے والی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS