شناخت کے بحران میں طاقت کا کردار
جب یہ طے ہو گیا کہ کسی نے سوائے ’ماسوا‘ کے بات نہیں کرنی تو اس سے پہلے کہ آوازیں خود کشی کر جاتیں ؛ کتابوں نے اپنی اپنی جگہ سے نکل کر آمنے سامنے نشست جما لی۔ ان کی آوازیں اتنی گویا تھیں کہ نفسیاتی معارف ”اونچی آواز میں سوچنا اور چپ کر کے بولنا“ دونوں پہلوؤں سے الگ ہو کر نئے قضیے اور نئے امکان کی بازگشت بن گئے۔
اصل میں بات شروع ہوئی تاریخ اور فلسفہ کی مترادفیت یا متبادلیت سے، جو بڑھتے بڑھتے مجادلے اور مباحثے سے آگے پہنچ کر مناظرے کی صورت اختیار کر گئی۔
ہوا یوں کہ یائسلنگ بروک کی آواز آئی کہ ”تاریخ مثالوں کے ذریعے فلسفہ پڑھاتی ہے۔“
اس جملے کا سننا تھا کہ فلسفے اور تاریخ دونوں کو اپنی اپنی شناخت کے لالے پڑ گئے (اس پہ بھی ایک سوال موجود رہا کہ شناخت کا بحران اصل میں اپنے ہونے کے ادراک سے زیادہ اپنے نہ ہونے کے شعور سے جڑا ہے ) ۔
”یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ فلسفہ کو ہم تاریخ اور تاریخ کو سیاست کا مطالعہ کہہ لیں تو کوئی حرج نہیں ہو گا؟“
یہ آواز فلسفہ کی تھی یا تاریخ کی، معلوم نہیں ہو پایا، مگر آغاز اسی بات سے ہوا۔ اس کے بعد اپنے ”ہونے“ کی جنگ میں ایسے خطبے اور دلائل لڑے گئے کہ اِن کتابوں کے کمرے میں شور میں صرف ”صوتِ سرمدی“ سنائی دے رہی تھی۔ بالآخر اس شور کے انت میں یہ ہوا کہ یہ بات امن اور جنگ کے ”جمہوری عمل“ میں بدل گئی مگر پھر بھی ان کے درمیان تعریف و تنقیص کے ضمن میں بولے گئے Not Bad اور Good والے الفاظ کا فرق و افتراق صاف دکھائی دے رہا تھا۔
”امن کی بات تو وہ کرتا ہے جو خود کم زور ہو“ ، یہ موقف تاریخ کا تھا، جب کہ فلسفہ کا ماننا تھا کہ ”لڑتا وہی ہے جو زندہ رہنا چاہتا ہے۔“
”تو پھر وہ جو صرف لڑتے رہتے ہیں ان کا کیا؟“
”وہ بھی اصل میں جینا چاہتے ہیں مگر اپنے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کے لیے بھی۔“
”وہ کیسے؟“
”وہ ایسے کہ ان کی نسلیں اگر کم زور ہوں تو ان پر حکومت کرنے کے لیے باہر سے کوئی نہ آئے۔“
”باہر سے مراد؟“
”باہر سے مراد۔ کوئی اور نسل، کوئی اور خطہ۔ کوئی اور زبان۔ کوئی اور نظریہ یا مذہب کے لوگ وغیرہ۔“
اس کے بعد دونوں کی طرف سے مثالیں پیش کرنی تھیں مگر یہ امر منطق کے حوالے کیا گیا۔
پہلے مسلم فلسفہ کو دیکھا گیا کہ امن اور جنگ میں سے امن والے کی جیت اصولاً تو ہوتی ہے مگر ہمیشہ افراد جنگ، جارحیت یا مزاحمت والے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مثالیں تو بہت تھیں مگر جو بہت واضح تھی؛ اسے سامنے رکھا گیا۔
اب رومن فلسفہ کی طرف سے بہترین مثال کی باری تھی، تو منطق نے دیکھا کہ کوموڈس کے عہد میں جب پورے روم کے اندر ایک ہی رات میں سارے شہر کو سرکاری عمارت سمیت آگ لگا دی گئی، تو بادشاہ کو سمجھ آئی کہ یہ آگ اصل میں ”خدائی طاعون“ کی وجہ سے نہیں لگی بلکہ میرے مشورہ دہندگان کی پھیلائی ہوئی مہنگائی اور اناج کی کم یابی کے ”طاعون“ کی وجہ سے ہے۔ کوموڈس نے جب دیکھا کہ مشیر کو ختم کرنے سے بھی بات نہیں بنی تو اس نے سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں نئے سال کی آمد پر نئے کھیل کا اعلان کر دیا کہ میں خود میدان میں اتروں گا اور گلیڈی ایٹر سے لڑوں گا، اور وہ کھیل کسی ایک کی موت پہ ختم ہو گا (تاکہ مشیر کی وجہ سے کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکوں)۔ سینیٹر Dio نے کہا کہ یہ مرنے مارنے وغیرہ کا کھیل غلاموں کے لیے ہوتا ہے ؛ بادشاہ کے لیے یا اس کے امیدوار کے لیے نہیں۔ یہ کہتے ہی سینٹ جیوری کے سربراہ Dio نے اسے اس کی اجازت نہ دینے کا عندیہ دے دیا؛ جس پہ کوموڈس نے برجستہ کہا:
”میں اجازت نہیں لے رہا، بلکہ بتا رہا ہوں“ ، اور یہ کہہ کر سینٹ سے نکل گیا۔ جب کہ پیچھے سے ایک جیوری منبر نے سربراہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ”یہ پاگل روم کو تباہ کر دے گا“ جب کہ Dio کا جواب تھا:
”اگر زندہ رہا تو۔“
وقت کے شاہد سورج نے دیکھا کہ کوموڈس نے گلیڈی ایٹر کو پہلے ہی مقابلے میں ختم کر دیا۔ وہ فوجی سے جیت تو گیا مگر اسے پھر بھی ہیرو نہ مانا گیا۔ کیوں کہ مارے جانے والے گلیڈی ایٹر کے ساتھی نے کوموڈس کو قتل کر کے Dio کے لفظوں کو پورا کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی یائسلنگ بروک کی آواز آئی کہ میں جیت گیا، میں جیت گیا۔


