زندگی کا چکر
آپ پاکستان کے کسی بھی پہاڑی سلسلے میں اندر کی طرف جائیں تو دور دراز کے علاقوں میں آپ کو آبادیاں ملتی ہیں۔ پیدائش کے لیے دائی، بال کاٹنے کے لیے سالانہ چند من گندم لینے والے نائی، عمومی بیماریوں کے لیے اک آدھ ڈسپنسر اور جنازے پڑھانے کے لیے مولوی۔ یہ ان کی زندگی کی ضروریات ہیں۔ باقی کسی چیز کی کوئی کمی نہیں۔ ان کے بچوں کو 4 سال سے 22 سال تک اپنی زندگی کی اک چوتھائی گدھے پیدا کرنے والی فیکٹریوں جیسے سکول کالج یونیورسٹی نہیں جانا ہوتا، ان کے ماں باپ کو پیٹ کاٹ کاٹ کر کسی کاغذ کے ٹکڑے جسے ہم ڈگری کہتے ہیں کے لیے دوسرے کاغذ کے ٹکڑوں یعنی پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ آنے جانے کے لیے کسی گاڑیوں کے محتاج نہیں انہیں کمرشل پلاٹوں کا لالچ نہیں انہیں درجن بھر کمروں سے آراستہ کوٹھیاں نہیں بنانا ہوتیں۔ انہوں نے کلف لگے نئے سوٹ پہن کر دنیا کو مرعوب نہیں کرنا ہوتا۔ یہ مویشی پالتے ہیں دودھ دہی مکھن لسی گوشت کھاتے ہیں۔ اپنی سبزیاں کاشت کرتے ہیں آرگینک کھاتے ہیں اور لمبی عمر پاتے ہیں۔
یہ ہاتھ بھر لمبی سکرینوں کے غلام نہیں انہوں نے گھنٹہ گھنٹہ بھر ”اچھا اور سنائیں“ کی تکرار نہیں کرنا ہوتی۔ انہیں فیول کی قیمت بڑھنے کا بس اتنا افسوس ہوتا ہے کہ کاریز نالے ٹیوب ویل رواں رکھنے کے لیے ان کا خرچ تھوڑا بڑھ جاتا ہے۔ یہ خواہشات نہیں بلکہ ضروریات کرنے پہ توجہ دیتے ہیں۔
دوسری طرف ہم ہیں جو خواہشات کو ضروریات کا نام دے کر ان کے غلام ہیں۔ اک چوتھائی عمر کاغذ کے اک ٹکڑے کے لیے ماں باپ کی کمر جھکا دیتے ہیں۔ ان پاکستانی یونیورسٹیز جن کے وی سی قوم کے زوال کا سبب بھینس کا دودھ قرار دیتے ہیں میں سے ہر سال گدھوں کی کھیپ پہ کھیپ نکلتی ہے جو اک دو سرکاری نوکریوں کے لیے سفارش اور رشوت کا جگاڑ لگاتے لگاتے بے حال ہو جاتی ہے۔
ماں باپ کی جھکی کمروں کی قیمت بنے چند حرف جو ڈگری کی صورت میں ملتے ہیں اس کو اک صاف کاغذ پہ منتقل کرتے اور اس میں آٹھ دس فرضی سکلز کا اضافہ کر کے کئی کئی منزلہ عمارتوں میں بنے پرائیویٹ سیکٹرز میں سی وی ڈراپ کرنے کے نام پہ جوتیاں چٹخاتے ہیں۔
ہاتھ بھر لمبی سکرین جس کے سٹیٹس کے ہم غلام ہو چکے ہیں کہ واٹس ایپ سٹیٹس پہ مختلف کمپنیوں کے HR کی خوشحال زندگی اور خوب صورت بچوں کی تصاویر دیکھ کر ڈپریس ہوتے رہتے ہیں۔
ہمیں گاڑی بنگلہ سوٹ کڑھائیاں سجی کباب چاہیے ہوتی ہیں۔ جن کی چنداں ضرورت نہیں۔
ہم سرمایہ داروں کے بنائے اک جال میں ایسے پھنس چکے ہیں کہ خشکی کے لیے الگ گرتے بالوں کے لیے الگ شیمپو لیتے ہیں تیل کی بجائے کنڈیشنر اور جینڈر میں تقسیم ہوتی پروڈکٹس کے سراب کے پیچھے گدھوں کی طرح بھاگنے پہ مجبور ہیں۔ تبت سنو کریم اور بلیک کیٹ ٹالکم پاؤڈر کی بجائے رنگت گوری کرنے والی Men کریم، بالوں والوں والا Men جیل، Men ہئیر سپرے men پرفیوم، گرمیوں کے لیے ڈیوڈرنٹ سمیت پروڈکٹس کے جال اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا کے قیدی انزائٹی ڈپریشن بلڈ پریشر شوگر کی وجہ سے سچ مچ مریض بنتے جا رہے ہیں تیس تیس سال کی عمر میں ہارٹ فیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بچ جاتا ہے تو وہ غیر قانونی طور کشتیوں پہ سوار ہو کر سمندر کا لقمہ بن جاتے ہیں یا پھر پستول لے کر ڈکیتیاں کرتے ہوئے اشتہاری بن کر ان پہاڑی آبادیوں میں جا کر پناہ لیتے ہیں جہاں خواہشات نہیں ضروریات پوری کرنے پہ توجہ دی جاتی ہے۔


