انتخابات، برادری سسٹم اور آزاد امیدوار


اس وقت پاکستان میں انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں امیدوار مارے مارے پھر رہے ہیں۔ چوکوں، چوراہوں، گلیوں اور بازاروں میں بحث و مباحثہ جاری ہے، جو کہیں کہیں پر ہاتھا پائی کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اپنی من پسند جماعت اور امیدوار کی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے ہیں، جبکہ مخالف پارٹی اور امیدوار لعن طعن کی زد میں ہیں۔

زیادہ تر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ایک خاص پارٹی، جو کہ اس وقت چوہدریوں کے نشانہ پر ہے اور جس کی مقبولیت اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہ اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر الیکشن جیت سکتی، درحقیقت یہ دعویٰ محض ایک خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ارض خداداد پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور ماضی میں ہوئے انتخابات کے اوراق الٹ پلٹ کر دیکھے جائیں، تو دیکھا جاسکتا کہ ہمیشہ شکست اس ہی جماعت کا مقدر ٹھہری جو اس وقت عوامی مقبولیت کے عروج پر تھی اور جس سے چوہدریوں کو بیر تھا۔

اور اس کی وجہ الیکشن میں صرف دھاندلی نہیں ہے، بلکہ شہر اور دیہات کی جہاں فضا میں فرق ہے وہاں طبیعت میں بھی کہیں پر یکسانیت دیکھنے کو نہیں ملتی۔ شہروں میں جماعت، منشور اور رہنما دیکھے جاتے ہیں جبکہ دیہات میں برادری سسٹم، وڈیرہ ازم، دھڑا بندی اور تھانہ کچہری کی سیاست کا بول بالا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے اور ایک دیہات میں مختلف چھوٹی بڑی برادریاں رہائش پذیر ہوتی ہیں۔ ہر برادری کے مختلف مسائل ہوتے ہیں، عموماً چھوٹی برادری والے صحت، تعلیم اور دوسری بنیادی ضروریات سے ماورا ہیں۔ جب کھانے کے لالے پڑے ہوں، تو صحت و تعلیم کے بارے میں سوچنا فضولیات میں شمار ہوتا ہے اور اگر بدقسمتی سے آپ کا کھانا کسی دوسرے مالدار انسان سے وابستہ ہو تو آپ اپنی مرضی سے ووٹ کیسے ڈال سکتے ہیں۔

تقریباً ہر دیہات میں دو تین بڑی برادریاں پائی جاتی ہیں اور ان کے منشور میں بھی بنیادی سہولیات کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں، بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا اور جھوٹے پرچے کرانا ان کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ اکثر پھر بڑی برادریوں میں موجود چند کرتا دھرتاوٴں کی آپس میں نہیں بنتی وہ بھی اس اصول فطرت پر کاربند ہیں۔

پھر ہر پسماندہ ضلع میں فقط دو سے تین خاندان ہی ہیں جو شروع سے ہی مسند اقتدار پہ قابض چلے آرہے ہیں اور بہت زیادہ طاقت ور ہیں اور برادری سسٹم میں اگر ایک دھڑا ایک امیدوار کے حق میں کھڑا ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کے پہلو بہ پہلو اسی امیدوار کے ساتھ کھڑا ہو جائے، اور اس طرح نئے چہرے کا سیاست میں قدم جمانا اور پھر کامیاب ہو جانا تقریباً ناممکنات میں شامل ہے۔ اس لیے یہ خاندان کسی جماعت یا منشور کے محتاج نہیں ہوتے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور ان میں سے جو بھی جیت جائے چوہدریوں کی ایما پر، ان کی مرضی کی جماعت میں شامل ہو کر حکومت کا حصہ بنتے ہیں اور اگلے پانچ سال کے دوران جنتا ان سے ملاقات کے لئے برادری کے کسی وڈیرے کی قل خوانی کا انتظار کرتے کرتے گزار دیتی ہے۔

تو عرض یہ ہے کہ کسی خاص جماعت کے چاہنے والے یہ امید ہرگز مت رکھیں کہ انتخابات کے بعد ان کی پسندیدہ جماعت دو تہائی سے اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، کیونکہ ہار جیت کا فیصلہ تو برادری والوں اور چوہدریوں کے ہاتھ میں تھا، ہے اور رہے گا۔

 

Facebook Comments HS