گلوبل ساؤتھ، تعاون کا ایک متبادل راستہ
گلوبل ساؤتھ کوئی بین الاقوامی تنظیم یا سیاسی گروہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی واضح رکنیت ہے۔ یہ متنوع اقدار، ثقافتی روایات اور ترقی کے مختلف معیار کے حامل ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک مجموعہ ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں، ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مسلسل ترقی کے باعث ”گلوبل ساؤتھ“ عالمی منظر نامے میں ایک اہم طاقت بن کر ابھرا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ صدی کے 80 کے عشرے کے آخر میں، عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 75 فیصد جی سیون گروپ سے آتا تھا جو اب 41 فیصد تک رہ گیا ہے۔ جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کا عالمی جی ڈی پی میں تناسب تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی اقتصادی ترقی میں اسی فیصد حصہ فراہم کر کے عالمی اقتصادی ترقی کی اہم محرک قوت بن گئی ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں اضافے کی بدولت ”گلوبل ساؤتھ“ کی اسٹریٹجک قدر مسلسل عیاں ہوتی گئی ہے
گلوبل ساؤتھ، جسے فنانشل ٹائمز نے سال 2023 کا لفظ قرار دیا ہے، واضح طور پر بدلتے ہوئے عالمی نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے راستے پر چل رہا ہے اور عالمی معیشت کا ایک نیا قطب بن رہا ہے۔ برطانیہ میں قائم ایکورن میکرو کنسلٹنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، قوت خرید کی برابری پر مبنی، توسیع سے پہلے برکس ممالک کی مجموعی ملکی پیداوار جی 7 مما لک سے زیادہ تھی۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق برازیل کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی نویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ لہذا توقع ہے کہ توسیع کے بعد برکس ممالک عالمی جنوبی طاقت کو مزید مستحکم کریں گے اور مزید مضبوط معاشی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قوت خرید میں برابری کی بنیاد پر 2030 میں دنیا کی پانچ سرفہرست معیشتیں چین، امریکہ، بھارت، جاپان اور انڈونیشیا ہوں گی۔
عالمی امن و امان ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے اس لئے اس حوالے سے گلوبل ساؤتھ کے رہنما جغرافیائی سیاسی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ 11 سال کی معطلی کے بعد 2023 میں مئی میں شام کی عرب لیگ میں دوبارہ شمولیت عرب ممالک کے درمیان ایک نئے اتفاق رائے کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی حل ہی طویل بحران کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی خیال میں جون 2023 میں لاطینی امریکہ اور کیریبین رہنماؤں نے مشترکہ طور پر امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ کیوبا پر اپنی غیر قانونی سیاسی، تجارتی اور مالی پابندیاں ختم کرے۔
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی یافتہ معیشتیں اب بھی عالمی تجارت میں اہم شراکت دار ہیں لیکن اب ان کا غلبہ پہلے جیسا نہیں ہے۔ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا نے اگست 2023 میں برکس کے جوہانسبرگ سربراہ اجلاس سے قبل کہا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ انسانیت کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے جس میں پہلی بار جنوب کے ممالک اپنی طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ‘
مغربی ممالک کے اس کم ہوتے اثر کی ایک وجہ تو دیگر ممالک اور خطوں کا آپسی اتحاد ہے لیکن ساتھ ہی گزشتہ برسوں میں بریگزٹ پر اختلاف، مغربی پاپولزم کا پھیلاؤ، دائیں بازو کی انتہا پسندی میں اضافہ، اور بڑھتے ہوئے نسلی تنازعات اور نفرت انگیز جرائم، سماجی افراتفری اور بدنظمی بھی اس کی وجوہات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی بحران جیسے روس یوکرین اور اسرائیل فلسطین تنازعے نے بھی ان ممالک کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ مغرب کی قیادت میں پرانا نظام اب وقت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہ سکتا اور ترقی پذیر ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو رہے ہیں۔
2023 میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، جو ایک معروف بین الاقوامی انفراسٹرکچر سرمایہ کار ہے، نے اپنے پہلے پانچ سالہ کلائمیٹ ایڈاپٹیشن بانڈ کی قیمت مقرر کی اور 335 ملین ڈالر جمع کیے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو انٹرنیشنل گرین ڈیولپمنٹ کولیشن اور ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن سینٹر فار ٹیکنالوجی ٹرانسفر جیسے پلیٹ فارمز بھی ترقی پذیر ممالک کو صاف توانائی کی حکمرانی، منصوبہ بندی اور صلاحیت سازی میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ گرین کو آپریشن اب تعاون کا ایک اہم حصہ ہے جہاں 4 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ چین نے گلوبل ڈیولپمنٹ اینڈ ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن فنڈ قائم کیا ہے اور ایتھوپیا اور پاکستان سمیت تقریباً 60 ممالک میں 130 سے زائد منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے جن میں غربت میں کمی، غذائی تحفظ اور وبائی امراض کی روک تھام شامل ہیں۔
یہی راستہ ہے جس کی جانب چلنے کے لیے چین کی جانب سے گلوبل ساؤتھ ”ممالک کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے چار نکاتی تجاویز بھی پیش کی گئیں تھیں۔ ان تجاویز میں پہلی تجویز تنازعات کو ختم کرنا اور مشترکہ طور پر امن قائم کرنا ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ ایک محرک قوت کو بحال کرتے ہوئے مشترکہ طور پر ترقی کو فروغ دیا جائے۔ تیسرا نکتہ کھلے اور جامع رویے کے ساتھ مشترکہ ترقی کی تلاش ہے اور چوتھی تجویز متحد ہو کر تعاون کے لئے باہمی مشاورت ہے۔ سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ چار نکاتی تجاویز“ گلوبل ساؤتھ ”ممالک کی پالیسی کی بنیادی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ یعنی معاشی بحالی، اقتصادی سلامتی امن اور پائیدار ترقی اور یہی سب خوبیاں اس تعاون کو کامیاب کر رہی ہیں اور ایک نیا اور متبادل راستہ دنیا کو دکھا رہی ہیں۔


