ایک خط خالی گھر میں پڑا ہے
میں لائنیں کھینچتی ہوں
اردو کے جدید آزاد اور نثری نظم کا جانا پہچانا اور توانا نام اور آواز عذرا عباس بے شک کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن ان کے تعارف کی یہ نا محتاجی ایک رسمیہ جملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ان کا ایک نصف صدی کا ادبی سفر ہے۔ وہ اس ادبی سفر رواں میں نہ کبھی رکی اور نہ کبھی تھکی ہے اور وہ لمحہ موجود تک اپنے ہدف کی جانب رواں ہے اور پتہ نہیں کب تک رواں رہے گی شاید و باید ان کا کوئی ایسا ہدف ہی نہ ہو جو سر کر سکے یا وہ ادھر تک پہنچ کر اطمینان محسوس کر سکے کیونکہ اطمینان کی روح بے اطمینانی میں ہے اور بے اطمینانی مجسم جانب فردا کی تحریک ہے۔
میرے سامنے اس وقت عذرا عباس کی نظموں کی کتاب میں لائنیں کھینچتی ہوں موجود ہے اور پڑھنے کے بعد بہت ساری اچھی نظموں پر بار بار ٹکنے کے بعد جس نظم پر رک گیا ہوں وہ ایک خط گھر میں پڑا ہے۔ یہ اس نظم کا عنوان ہے۔ عنوان کے لحاظ سے یہ نظم نیا بالکل نہیں لگتا ہے اور نہ اس میں کوئی علامت یا تجریدیت نظر آ رہی ہے لیکن پھر ایسی کون سی بات ہے جو اتنی کشش رکھتی ہے کہ قاری اس کو پڑھنے اور پھر اس پر تبصرے یا کچھ بولنے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
در اصل کوئی چیز اپنی ندرت صرف کسی ظاہری کشش سے نہیں رکھتی جب تک کہ ان کی باطنی اوصاف آپ پر آشکار نہ ہو جائے۔ ہماری کلاسک ہو، جدید یا پھر جدید تر شعری فضا ہو اس میں خط کا استعمال تواتر سے ہوا ہے۔ کسی نے لفافہ دیکھ کر مضمون سمجھنے کا دعویٰ کیا ہے، کسی نے خط کو آدھی ملاقات سے تشبیہ دی ہے کسی نے دل سے لگا کر چھٹی آئی ہے، آئی ہے چھٹی آئی ہے کے رومانس بھرے نعرے مستانہ لگائے ہیں تو کسی نے چھٹی میں سیاں جی کو حال دل تمام لکھ ڈالا۔
یہ تو تھی پہلے کی باتیں لیکن جب ہم عذرا عباس کی اس نظم کو پڑھتے ہیں تو اس میں لکھی ہوئی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بلکہ ایک غائبانہ خط ہے اور ایک خالی اور ویران گھر ہے جس میں یہ خط آ کر گرا ہے، نہ ارسال کنندہ کا کوئی ایڈریس اس پر کندہ ہے اور نہ حصول کنندہ کا کوئی اتا پتا اس پر درج ہے۔ بس ایک خالی خولی گھر ہے جس میں یہ خط پڑا ہوا ہے اور اس خط کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ماسوائے اس خط کے اور اس گھر میں چھوٹے چھوٹے لال بیگوں کے جو اس خط کو ازبر کرنے کے لئے خود میں جذب کر رہے ہیں۔
اس خط کو مزید زندگی دروازوں کے جھرنوں سے آتی ہوئی ہوا اس طرح بخشتی ہے کہ روز اس خط کو تھوڑا سا آگے کھسکا دیتی ہے۔ اس خط کو اٹھانے اور پڑھنے والا لمحہ حاضر میں کوئی نہیں اور نہ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس خط کے سطور کو کسی کے نظروں سے ٹکرا کر یا کسی کے ہونٹوں پر بول بن کر آدھی ملاقات کی شرف بازیابی نصیب ہوگی۔
لیکن کیا عجب سسپنس یا افسانوی رنگ آمیزی ہے اس نظم میں کہ ایک نامعلوم شخص نے ایک معلوم شخص کو خط لکھا ہے ورنہ وہ جواب کا منتظر نہیں ہوتا یا لکھنے والا صرف وہ ہی شخص نہیں ہوتا جس کا افسانوی انجام عروج کے بعد یہی ہو سکتا ہے کہ یہ خط ضرور پڑھا جائے گا۔ لیکن یہ وہ علامتی یا تجریدی خط ہے کہ یہ کسی کو بھی پتہ نہیں کہ اس خط میں لکھا کیا گیا ہے۔ اس خط کے لفافے سے بھی مضمون کا پتہ نہیں چل سکتا لیکن پھر بھی اس خط کو پڑھنا بالکل بھی مشکل نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس خط کو سر کی آنکھوں سے نہیں پڑھا جائے، اس خط کو دل کی آنکھوں سے پڑھا جائے بصر کے بجائے بصیرت سے اس کی ورق گردانی کی جائے۔
یہ ایک اہل دل کا ایک اہل دل کے لئے پیار بھرا سپاسنامہ ہے۔ یہ ایک مسافر یا ہجرت کے مارے ہوئے پردیسی کا وہ محبت نامہ ہے جو کہ ان کے دیکھا دیکھی یا رخصتی کے وقت بھرا ہوا تھا لیکن کسی پیش آمدہ سانحے نے یہ گھر خالی کر دیا ہے یا اجاڑ دیا ہے، اس گھر کو افرادی عددی سر سے سرے سے محروم کر دیا ہے اور اب یہ دیواروں اور ایک دروازے پر مشتمل ایک مکان ہے جس میں مکین انسان نہیں اب لال بیگ ہیں اور لال بیگ کی کسی جگہ موجودگی یا فراوانی آدم عدم پتہ یا آدم عدم زیست کا بین استعارہ ہے۔
اس نظم میں نفس مضمون کے ساتھ ساتھ فنی روانی بڑی دلآویز ہے۔ خط کا اکیلا پن، ہلکی ہلکی ہوا
جو دروازوں کے جھرنوں سے داخل ہو کر
خط کو روز تھوڑا سا
آگے کھسکا دیتی ہے
یا یہ کہ
یہ خط نہیں جانتا
کون اسے پڑھے گا
لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے
خط پڑھا ہی نہ جائے
لیکن خط لکھنے والا
کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا
وہ کہیں اس خط کے جواب کا منتظر ہو گا
قاری کو پڑھنے کے بعد ضرور ایک سوچ یا اپروچ کے ساتھ کسی قصے، کہانی یا کسی جوڑ یا تعلق کے قطع تعلق کے پس منظر کے نتائج کی جانب آمادہ بر انجام کر دیتا ہے۔


