آخری پچیس سال اور پاکستان
آج سے پچیس سال قبل گوگل، فیس بک، یوٹیوب، ایمازون، ٹویٹر (نیا نام ایکس) ، اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ اپنے وجود کے ابتدائی مراحل میں تھیں۔ آج پچیس سال بعد یہ ایپلیکیشنز پورے نظامِ عالم پر حاوی ہیں۔ اس وقت گوگل کے 1.8 ٹریلین ڈالر کے اثاثے ہیں جبکہ فیس بک کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 911 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح یوٹیوب 30 ارب ڈالر کی برانڈ ویلیو رکھتا ہے۔ ایمازون کے اثاثوں کی کل مالیت 1570 ارب ڈالر ہے۔
ٹویٹر، اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے استعمال کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس طرح کی مزید سینکڑوں ایپس ہیں جو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے لئے ہر طرح کی سروسز کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ عصرِ حاضر کے تمام شعبہ ہائے زندگی کسی نہ کسی طرح ان ایپلیکیشنز کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ سیاست ہو یا گورننس، معیشت ہو یا معاشرت، تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیل کا میدان، سیاحت سے لے کر فنونِ لطیفہ تک اور انسانیت کی ابتدائی تاریخ سے لے کر سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت تک ہر شعبہ ان ایپس پر انحصار کرتا ہے۔
یوں سمجھ لیجیے اس وقت دنیا ان ایپس کی مٹھی میں ہے اور ایک مقابلے کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ متذکرہ بالا حقیقت دنیا میں جاری اس سخت مقابلے کا صرف ایک زاویہ ہے جس کو ہم بطور مثال الفاظ کی نظر کر رہے ہیں۔ گزشتہ پچیس سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ کرہ ارض پر بسنے والے سات ارب لوگ اس مقابلے کا حصہ بن چکے ہیں جس میں ہر کھلاڑی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی جستجو میں ہے۔ اس دوڑ میں دنیا بھر کے انسان انفرادی حیثیت میں تو شامل ہیں ہی لیکن اپنی قوم اور ملک کو بھی جیت کے راستے پر ڈال رہے ہیں۔
پچیس سال قبل اس مقابلے میں شامل ہونے کے لئے ہم مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے جس کی وجہ سے ہم اس دوڑ سے باہر ہو گئے اور دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی۔ ہم نے انفرادی اور قومی حیثیت میں خود کو اس مقابلے کے لئے تیار نہیں کیا جو ابتدائی مرحلے میں ہماری شکست کا باعث بنا۔ پچیس سال قبل ملک جس سیاسی چپقلش اور معاشرتی بے راہ روی کا شکار تھا آج بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔ آج بھی ہم اپنی روش بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
پاکستان وسائل اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال سرزمین ہے۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں پاکستانی قوم نے قابل ذکر ترقی کی۔ اس کی معیشت میں اضافہ ہوا جس نے عالمی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور قوم بین الاقوامی میدان میں ایک اہم کھلاڑی بن گئی۔ تاہم، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، اس قوم پر ایک اطمینان طاری ہو گیا۔ قائدین، جو کبھی عزائم اور وژن سے متاثر تھے، آرام دہ ہو گئے۔ شہریوں نے اپنی محنت کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنی خوشحالی کو معمولی سمجھنا شروع کر دیا۔
آہستہ آہستہ لیکن مستقل طور پر، قوم نے اپنی مسابقتی برتری کھونا شروع کردی۔ پاکستان کے آس پاس کی دنیا تیزی سے بدل رہی تھی۔ دیگر ممالک تعلیم، جدت طرازی اور پائیدار طریقوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ دریں اثنا، پاکستان اپنی ماضی کی کامیابیوں کے اعزازات پر انحصار کرتے ہوئے جمود کا شکار رہا۔ حکومت بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے منفی سیاست اور اندرونی تنازعات میں الجھ گئی۔ پاکستانی قوم نے نے اپنی صلاحیت کو ضائع کر دیا، کبھی پھلتی پھولتی معیشت تباہ ہونا شروع ہو گئی اور عالمی سطح پر قوم کا اثر و رسوخ کم ہو گیا۔
جدت طرازی رک گئی اور تعلیمی معیار گر گیا۔ لوگ، جو کبھی پاکستان کے قابل فخر شہری تھے، اس وقت بے روزگاری اور گرتے ہوئے معیار زندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں وینزویلا کی مثال دینا بھی ضروری ہے۔ حالیہ دہائیوں میں وینزویلا کو بدعنوانی، سیاسی بدنظمی، سماجی بدامنی اور معاشی بدانتظامی سمیت کئی عوامل کی وجہ سے عالمی مسابقت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ وینزویلا، جسے کبھی لاطینی امریکہ کے امیر ترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، اپنے تیل کے وافر ذخائر کے باوجود اسے مندی کا سامنا کرنا پڑا۔
تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بدانتظامی، حکومت کے اندر بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام نے معاشی تباہی میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف نوعیت کی انتظامیہ کے تحت حکومت نے ان مسائل کو موثر طریقے سے حل کرنے کے لئے جدوجہد نہیں کی۔ سرکاری اداروں میں بدعنوانی پھیل گئی، جس سے معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور وسائل کو ضروری عوامی خدمات سے دور کیا گیا۔ سیاسی بدنظمی اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا کیونکہ شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک ٹوٹا ہوا سیاسی منظر نامہ پیدا ہوا۔
طویل مدتی منصوبہ بندی، معاشی تنوع اور ذمہ دارانہ حکمرانی کے فقدان کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی جہاں وینزویلا تیل کی وسیع دولت کے باوجود عالمی سطح پر غیر مسابقتی بن گیا۔ آج بھی وینزویلا افراط زر، گرتی ہوئی کرنسی اور گرتے ہوئے انفراسٹرکچر جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے ہی ملتے جلتے عوامل کی وجہ سے پاکستان بھی بطور معاشرہ یا ملک ایسے ہی بے ہنگم چیلنجوں سے گزر رہا ہے لیکن اپنی ترجیحات کا تعین کرنے میں قطعی ناکام ہے۔
تاہم، اس طویل زوال کے دوران، معاشرے کے کچھ طبقات اپنی قوم کی حالت سے مایوس ہو کر تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ دنیا میں تیزی سے ہوتی ہوئی ترقی سے متاثر لوگ تعلیم، گورننس اور معیشت میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شفافیت، احتساب، تعلیم میں سرمایہ کاری، جدت طرازی کو فروغ دینے اور پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کے لئے جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جدید دنیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تعلیم یافتہ افرادی قوت پیدا کی جائے تاکہ قوم ایک بار پھر عالمی معاملات میں ایک اہم سٹیک ہولڈر بن سکے۔
تکنیکی ترقی میں اضافے اور برآمدات پر نئی توجہ کی بدولت ہی معیشت اپنی طاقت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ 25 سال ضائع کرنے والی قوم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بن کر ابھر سکتی ہے اور دنیا کو باور کروا سکتی ہے کہ لگن، اتحاد اور ترقی کے عزم کے ساتھ کوئی بھی قومی عالمی مسابقت میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ پچیس سال ضائع کرنے کے بعد بھی شاید ہمارے پاس پچیس سال سے زیادہ کا وقت نہیں ہو گا۔


