میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
یورپ کی فلاحی ریاستوں میں اکثر سننے اور دیکھنے میں آتا ہے، کہ بطخ کے بچوں کو سڑک پر آ جانے سے تمام ٹریفک کو روک دیا گیا۔
جنگلی جانور بھولے بھٹکے سڑک پر آ گئے تو علاقے کا تمام ٹریفک پلان تبدیل کر دیا گیا کہ کہیں ان بے زبانوں کو انسانوں سے تکلیف نہ پہنچے۔ نکاسی آب کے پائپ یا پرنالے میں پھنسے بلی یا کتے کے بچے کو ریسکیو کر کیا گیا اور تو اور بجلی کی ہائی ٹینشن تاروں پر کسی ڈور میں پھنسے معصوم پرندے کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا لیا گیا۔ سمندر کے کنارے پھنسی مچھلیوں کو سینکڑوں رضا کاروں کی مدد سے سمندر میں واپس دھکیل دیا گیا۔
کتنا اچھا اور بھلا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کی فلاحی ریاستیں اور ان کی عوام کس قدر انسانی اور حیوانی حقوق پر حساس رویہ رکھتے ہیں۔
یہ باتیں سننے اور دیکھنے کو کتنی اچھی لگتی ہیں۔ اس سے مغربی دنیا میں انصاف رواداری اور حقوق کی بجا آوری کی پابندی کا یقین پختہ ہوتا ہے۔
لیکن جب مسلم دنیا کے ممالک کے عوام اور حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو افسوس صد افسوس مغربی اقوام کے انسانی حقوق و آزادی رائے کے تصور کا بت اپنے منہ کے بل گر پڑتا ہے۔
پرانی تباہیوں کو چھوڑیں آج جو فلسطین کے عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور ان کی بیخ کنی کی دن رات کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بوڑھے جوان عورتیں اور بچے سب صہیونی ظلم کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ شہداء کی تعداد چالیس ہزار کے اعداد کو چھونے کو ہے اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ شہید ہونے والوں میں دس ہزار کے قریب معصوم بچے ہیں۔ دن دھاڑے اسرائیلی بربریت کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکول، کالج، مساجد، کلیسا، بازار ہر جگہ یہودیوں کی بربریت کے نشانے کا شکار ہیں۔ تباہی، تباہی اور تباہی غزا کے معصوم عوام کا مقدر بن گئی ہے۔ ضروریات زندگی نہ ہونے کے برابر ہیں خوراک کی شدید کمی ہے۔ ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔
لیکن یہاں مغرب کی فلاحی ریاستیں صرف خاموش ہوں تو کوئی بات نہیں وہ دھڑلے سے اسرائیل کی بربریت کا ساتھ ہی نہیں دے رہی بلکہ اس کا بھرپور دفاع بھی کر رہی ہیں۔
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اب پھر سے غور کرتے ہیں۔ بطخ کے بچے سڑک پر آ گئے ٹریفک روک دو۔ پرندہ بجلی کے تاروں میں الجھ گیا فورا امدادی کارروائیاں شروع، بلی کے بچے کا ریسکیو آپریشن جاری۔
فلسطین، غزہ میں انسانوں کے بچوں کو بلی اور بطخ کے بچوں کے برابر بھی حقوق حاصل نہیں۔ یہ ہے فلاحی ریاستوں کا اصل چہرہ۔
ہمیں غیروں سے کیا توقع کرنی اپنے بھی بت بنے آنکھیں چراتے نظر آتے ہیں۔
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کس کا گلہ کرے کوئی


