فالتو کردار

ڈرامہ پروڈیوسر کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ اس کی دھاڑتی ہوئی آواز ہال کی چھت سے ٹکرا کر سارے ماحول میں سر پھوڑتی پھر رہی تھی۔
”تم اتنے وڈے ہدایتکار؟“
وہ شہر کے بڑے سٹیج ڈرامہ پروڈیوسروں میں سے ایک تھا۔ اس کی عادت تھی کہ جب بھی زیادہ خوش ہوتا یا غصے میں بپھرتا تو اپنی بات میں پنجابی زبان کے کچھ الفاظ ضرور استعمال کرتا۔
”تمہیں صرف ایک دن پہلے پتہ چلا کہ اتنا بڑا ’کھپا‘ رہ گیا ہے؟“
سارا عملہ اس کے سامنے بھیگی بلی بنا کھڑا تھا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا جواب دے۔ اتنے میں ایک سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آگے آیا ”غصہ اس مسئلے کا علاج نہیں ہے سر! آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں، ہم اس کا حل تلاش کر لیں گے“
یہ اسسٹنٹ اس پوری ڈرامہ انڈسٹری میں نہایت ٹیلنٹڈ اور محنتی شخص کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ڈرامہ پروڈیوسر کو بھی اس امر کا ادراک تھا۔ اس لئے اس کا لہجہ بھی تھوڑا سا نرم پڑ گیا۔
”کیا کر لو گے تم اس تھوڑے سے وقت میں؟ ایک دن ہے صرف درمیان میں“ اس نے اسسٹنٹ سے پوچھا
”کچھ نہ کچھ کر لیں گے سر! آپ فکر مند نہ ہوں۔ مدتوں سے یہی کام کر رہے ہیں۔ تھیٹر میں مسائل آتے ہی رہتے ہیں اور ہم حل نکالتے ہی رہتے ہیں۔ آپ پلیز پرسکون ہو کر اپنے دفتر میں جائیے۔ ہم شام تک آپ کو اچھی خبر دیں گے“
”دیکھ لینا! شام تک یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو بہت بڑا پھڈا ہو جائے گا“ اور وہ غصے سے بڑے بڑے قدم اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا۔ دو چمچے ٹائپ کے لوگ جو اس کے ساتھ آئے تھے وہ بھی اس کے ساتھ ہی چلے گئے۔
مسئلہ یہ تھا کہ ”دل کا راستہ“ نامی اس سٹیج ڈرامے کی تیاری ہر طرح سے مکمل تھی۔ یہ ایک مشہور مصنف کی تحریر تھی اور ایک نامور ہدایتکار اس کی ہدایات دے رہا تھا۔ ریہرسلز پر بہت محنت کی گئی تھی۔ سیٹ اور کاسٹیومز بھی سب تیار تھے۔ لائٹنگ کا بہت اعلیٰ انتظام تھا۔ ڈرامہ ایک ریوالونگ سٹیج والے بڑے ہال میں کھیلا جانے والا تھا۔ اس لئے کسی مشکل کے پیش آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کی پروموشن پر بھی بہت سا روپیہ خرچ کیا جا چکا تھا۔ ملک کے نامور اداکار اس میں حصہ لے رہے تھے، اور شائقین بھی بڑی بے صبری سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ پیش آ سکتا ہے۔
مگر مسئلہ تو اچانک سے دندناتا ہوا آن وارد ہوا۔ ڈرامہ شروع ہونے سے ایک دن، جی صرف ایک دن پہلے، اس مسئلہ کی سنجیدگی کا انکشاف ہوا۔ اگرچہ سکرپٹ کی پہلی ریڈنگ کے دوران اور پھر ریہرسل کے مختلف مراحل میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مگر تب تک ہدایتکار اور اس کے معاونین کا خیال تھا کہ یہ ایک چھوٹی سی دقت ہے، اسے آسانی سے حل کر لیں گے۔ لیکن اب یہ چھوٹی سی سمجھی جانے والی الجھن ایک پہاڑ بن کر ان کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔
ڈرامے کی مسلسل چلتی ہوئی کہانی کے دو مرکزی کرداروں کو جاری ڈرامے کے دوران نہایت قلیل وقت میں کپڑے تبدیل کر کے نئے منظر میں سامنے آنا تھا۔ کاسٹیومز کی یہ تبدیلی اور دونوں مناظر کا ایک نرالا تعلق، تماشائیوں پر ایک خوشگوار حیرت کا تاثر چھوڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کھیل میں اسے ایک اثر انگیز اور کلیدی حیثیت دی جا رہی تھی۔ ایک ریوالونگ سٹیج والے ہال میں پردہ گرانا اور سٹیج کو تبدیل کر کے پردہ اٹھانا زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں ہو سکتا ہے۔ مطلب، یہ حقیقت میں بھی ایک معمولی سا کام تھا۔
مشکل یہ آن پڑی تھی کہ اداکاروں کے کاسٹیومز کی اس تبدیلی کو کم از کم دس بارہ منٹ درکار تھے۔ عام طور پر جب کاسٹیوم کی تبدیلی میں اتنا قلیل وقفہ ہو تا تو اداکار دوہرے لباس پہن لیتے۔ اوپر والی پوشاک بھاری ہوتی، اس لئے ان کے نیچے پہنا ہوا ہلکا لباس، بھاری پوشاک کے نیچے نظر بھی نہیں آتا تھا۔ ضرورت کے وقت بیک سٹیج پر جا کر بھاری پوشاک اوپر سے اتار دینا معمولی کام ہوتا۔ مگر یہاں معاملہ الٹ تھا۔ بعد میں پہنے جانے والے لباس نہ صرف یہ کہ کافی بھاری تھے بلکہ انہیں پہننے اور مکمل سیٹ کرنے کے لئے بھی کم از کم دس بارہ منٹ درکار تھے۔
اگر تماشائیوں کو بتا دیا جاتا کہ یہ باقاعدہ وقفہ نہیں ہے بس پردہ دس یا گیارہ منٹ کے لئے گرایا جا رہا ہے تو ان میں سے اکثر سگریٹ پینے کے بہانے سے باہر نکل جاتے۔ جو کچھ کھسر پھسر کا باعث بھی بنتے اور ان کی واپسی تک کچھ مزید وقت بھی ضائع ہو جاتا۔ اور اگر نہ بتایا جاتا تو لوگ پریشان ہو کر شور و غل مچاتے اور شاید ذہنی طور پر کہانی کے تسلسل سے بھی باہر نکل جاتے جو یقیناً ڈرامے کے مجموعی تاثر پر بہت برے طریقے سے اثر انداز ہوتا۔ بتا کر وقفہ کرنے کا بھی یہی منفی نتیجہ نکلتا۔
اب ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ان دس بارہ منٹ کا کوئی ایسا چھوٹا سا سین اس میں شامل کر لیا جائے جو مرکزی کرداروں کو کاسٹیوم تبدیل کرنے کا وقت فراہم کر دے۔ لیکن اس مختصر وقت میں یہ ممکن نظر نہیں آ رہا تھا۔ دوسرے اس سے بھی یہی خطرہ تھا کہ وہ مسلسل چلتی ہوئی مرکزی کہانی کی روانی پر اثرانداز ہو جائے گا۔
آخر بہت سوچ بچار کے بعد یہ طے پایا کہ اس موقع پر کسی ایسے منجھے ہوئے اداکار کو سٹیج پر انٹر کر دیا جائے جو نہ تو حاضرین کو بور ہونے دے اور نا ہی کہانی کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ آنے دے۔ مشہور اداکاروں میں سے کوئی بھی یہ فالتو کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اب صرف ایک آدمی بچ گیا تھا جس سے اس کام کی امید رکھی جا سکتی تھی اور اس کا نام تھا تنویر عالم۔
تنویر عالم نے سکول کالج سے لے کر یونیورسٹی تک کے ڈراموں میں اچھے اچھے رول کیے تھے اور وہ سراہے بھی گئے تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ یوں اسے شام کے وقت اپنا ڈرامے کا شوق پورا کرنے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ اور وہ اس طرز زندگی میں بہت خوش تھا۔ سٹیج ڈرامے کی اداکاری میں اس کا دل بھی خوب لگتا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے پسند بھی
بہت کیا جانے لگا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے کام کو سمجھنے والے اسے سٹیج اداکاری کا پروفیسر کہنے لگے تھے۔
پھر وقت نے کروٹ لی تو اور بہت سی چیزوں کے ساتھ ڈرامہ دیکھنے والے بھی بدل گئے۔ لامحالہ ڈرامہ بھی بدلا اور سٹیج پر اداکاری کرنے والوں میں اب بالکل نئی طرز کے اداکاروں کو پسند کیا جانے لگا۔ تنویر عالم جیسے لوگوں کو پروڈیوسروں نے کاسٹ کرنا ہی بند کر دیا۔ یوں تنویر عالم کے ساتھ بھی وہی ہوا جو شہرت کی بلندیوں سے گرنے والے فنکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مایوسی، بددلی، خود تراحمی اور ڈرامہ شائقین کی بدمزاجی کے شکوے۔
بینک کی نوکری کی وجہ سے اس کی اقتصادی حالت تو بری نہیں تھی کہ ایک تو وہ ابھی تک کنوارا تھا اور دوسرے وہ باپ کے چھوڑے ہوئے گھر میں بڑے بھائی اور اس کے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بڑے بھائی کی تنخواہ بھی بس گزارے لائق ہی تھی اس لئے وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بھائی اور بھابی کو دے دیا کرتا تھا۔
اس طرح اور تو سب کسی نہ کسی طور چل ہی رہا تھا مگر ان دنوں جو ڈرامہ پسند کیا جا رہا تھا اسے دیکھ کر اس کا دل بہت کڑھتا تھا۔ یوں وہ اکثر شاموں کو کسی نہ کسی ڈرامہ تھیٹر کی کینٹین میں جا بیٹھتا۔ جہاں اسی طرح کے کچھ اور لوگ بھی گاہے بگاہے آ جاتے اور مل جل کر پرانے زمانوں کو یاد کرتے۔
مذکورہ ڈرامے میں اس نے یہ فالتو کردار ادا کرنا صرف اس لئے قبول کر لیا کہ کسی طرح وہ پھر سے سٹیج پر تو آئے۔ اس کردار کے لئے اس کے پاس کوئی سکرپٹ نہیں تھا۔ بس بارہ تیرہ منٹ تھے، جن میں اس نے شائقین کو مصروف رکھنے کے بعد انہیں واپس ڈرامہ کی اصل کہانی کی طرف بھی لانا تھا۔ جو کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ڈرامہ کی کہانی کے اہم نکات اس نے جان لئے تھے۔
دوسرے دن اصل ڈرامہ شروع ہوا، شائقین کی طرف سے داد بھی ملنے لگی۔ ڈرامہ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کو کچھ حوصلہ ہوا، اگرچہ درمیان میں پیش آنے والے ممکنہ حادثہ سے وہ ابھی بھی ڈرے ہوئے تھے۔ آخر تنویر کی انٹری بھی آ گئی۔ وہ دوسرے اداکاروں کی نسبت بہت عام سے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اسے ہیئر سٹائل یا میک اپ کے ضمن میں بھی کوئی سہولت نہیں دی گئی تھی۔
وہ سٹیج پر نمودار ہوا تو کسی نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ آہستہ آہستہ چلتا وہ فرنٹ سٹیج پر آ گیا۔ آڈیئنس پر نظر ڈالی اور یوں گویا ہوا
”معزز شائقین! مجھے یوں یہاں دیکھ کر پریشان نہ ہوں۔ میں ایک فالتو کردار ہوں جس کا اس ڈرامہ سے نہیں بلکہ براہ راست آپ سے تعلق ہے۔ جو خوبصورت اور دلچسپ کھیل آپ ابھی تک دیکھ رہے تھے وہ چند لمحوں بعد پھر شروع ہو جائے گا۔ میرا کام چند منٹ میں آپ کو اس کے بارے میں کچھ نئی باتیں بتانی ہیں تاکہ آپ اسے بہتر طریقے سے انجوائے کر سکیں اور مجھے اس کام کے لئے جو پیسے دیے گئے ہیں وہ بھی وصول ہو جائیں۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں“ اور اس نے ایک بالکل بے سر پیر کی بات کا آغاز کر دیا۔
پہلے تو ہدایتکار اور پروڈیوسر کو کچھ فکر ہوئی مگر پھر انہوں نے دیکھا کہ شائقین اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ تیسرے منٹ میں لوگ اس کی باتوں پر قہقہے لگا رہے تھے۔ لیکن ٹھیک دس منٹ میں اس نے اپنی باتوں کا دھارا موڑا اور حاضرین کو ایک غیر محسوس اور نہایت خوبصورت طریقے سے ڈرامے کے اسے حصہ میں واپس پہنچا دیا، جہاں سے کہ وہ انٹر ہوا تھا۔
وہ واپس مڑنے لگا تو حاضرین نے اس کے لئے دل کھول کر تالیاں بجائیں۔ یہاں تک کہ ڈرامہ کے مرکزی کردار جو اپنے نئے اور انتہائی خوبصورت کاسٹیوم میں سٹیج پر انٹر ہو نے کے لئے تیار تھے، انہیں حاضرین کی تالیوں کے تھمنے کا انتظار کرنا پڑا۔
ڈرامہ بہت خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچا۔ آخر میں جب ہدایتکار اور اداکار سٹیج پر حاضرین کا شکریہ ادا کرنے آئے تو تماشائیوں نے انہیں بھر پور داد سے نوازا۔ تنویر عالم کو ان اداکاروں کے ساتھ سٹیج پر نہیں بلایا گیا تھا۔ حاضرین نے اسے سٹیج پر نہ پا کر اسے بلانے کی فرمائش کی۔ انتظامیہ نے مجبور ہو کر اسے بھی سٹیج پر بلا لیا۔ تماشائیوں نے کھڑے ہو کر اس کی تحسین کی۔
ڈرامہ کے پروڈیوسر اور ہدایتکار نے جب دیکھا کہ تنویر عالم کو لوگوں نے پسند کیا ہے۔ ان کے ڈرامے کا تسلسل بھی نہیں ٹوٹا اور کاسٹیوم کی تبدیلی سے، وہ جو کچھ دکھانا چاہتے تھے، تماشائی اس سے بھی محظوظ بھی ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی کوئی اور متبادل سوچنا چھوڑ دیا۔ معمولی معاوضہ اور نخروں کے بغیر اتنا میچور آرٹسٹ ملا تو اسے ہی ڈرامے کا مستقل حصہ بنا لیا۔
ڈرامہ چلتا رہا اور تنویر عالم روز کچھ نہ کچھ نئی باتیں، بالکل انوکھے انداز سے سنا کر حاضرین کو خوش کرتا رہا۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ ڈرامے کی کنٹینیوٹی میں جہاں پر انٹر ہوتا تھا، ڈرامہ دیکھنے والوں کو کہانی کے اسی موڑ پر پوری ہنرمندی سے چھوڑ کر جاتا۔
یہ ڈرامہ جب اپنا طے شدہ وقت پورا ہونے پر سٹیج سے ہٹا یا گیا تو اس وقت تک تنویر عالم کے چاہنے والوں میں ایک بار پھر اچھا خاصہ اضافہ ہو چکا تھا۔ اسے کئی ایک آنے والے ڈراموں میں کاسٹ کر لیا گیا تھا۔ مگر سب اسے کسی ایسے ہی فالتو کردار کے لئے کاسٹ کر رہے تھے۔ ایک تو اسے سکرپٹ لکھ کر نہیں دینا پڑتا تھا دوسرے وہ اسے کوئی اہم کردار دینے سے خوفزدہ بھی تھے۔ دراصل نئے مشہور ہو جانے والے اداکار سٹیج پر اس کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے۔ ان نئے اداکاروں کا اس وقت نام بکتا تھا اس لئے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ان کی رائے کا احترام کرنا اپنی کاروباری ضرورت سمجھتے تھے۔
جب مسلسل تین ڈراموں میں اسی طرح کے فالتو کردار ادا کرنے کے باوجود اس کے چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو اس نے ضروری سمجھا کہ وہ اپنے معاوضہ میں اضافہ کرے۔ نام بکنے لگا تو پروڈیوسروں نے معاوضہ بھی بڑھا دیا۔ لیکن اصل مسئلہ تو ریگولر اداکاروں کا تھا۔ ان کو تشویش ہوئی کہ اگر تنویر کی مقبولیت کا گراف یونہی بڑھتا رہا تو وہ ان کے لئے خطرہ بن جائے گا۔
مسئلہ گمبھیر تھا۔ حل تلاش کرنا شروع کر دیے گئے۔ پہلے دو دو چار چار لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں پھر چار بڑے ڈرامہ پروڈیوسر جو عام طور پر ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے تھے مل بیٹھے۔ کئی گھنٹے کے بحث مباحثہ کے بعد لائحہ عمل طے پا گیا۔
00000000000000
سب نے باری باری اس سے رابطہ کر کے اسے اپنے آئندہ کے ڈراموں میں اہم کرداروں کے لئے کاسٹ کر لیا۔ یوں چار ڈرامے اور ریہرسلز کا وقت ملا کر وہ اگلے پانچ ماہ کے لئے پابند ہو گیا۔ معاوضوں کا بڑا حصہ اسے ایڈوانس میں دے دیا گیا۔ ان معاہدوں کی رو سے وہ اس تمام وقت میں سے ایک دن بھی کسی اور ادارے کے لئے کام نہیں کر سکتا تھا۔
اس وقت کے کامیاب اداکاروں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کے اعزاز میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا اہتمام کیا اور سٹیج
تھیٹر انڈسٹری میں اس کے کم بیک پر اسے خوش آمدید کہا۔ نوخیز اداکاراؤں نے بھی اسے احترام دیا اور آگے بڑھ بڑھ کر اس کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا نے ان تمام پارٹیوں کو اچھی خاصی کوریج دی۔
00000000000000
سٹیج ڈرامہ انڈسٹری کے بعض لوگ، جن میں اداکار، اداکارائیں، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور عملہ کے دیگر افراد بھی شامل تھے، شو ختم ہو جانے کے بعد سیدھے گھروں کو نہیں جاتے تھے۔ وہ پہلے کچھ دیر مختلف مقامات پر ٹولیوں کی صورت میں بیٹھتے اور اس دن کے شوز کے بارے میں تبادلہ ء خیالات کرتے تھے۔
یہ گپ شپ عام طور پر بہت کھلے اور دوستانہ ماحول میں ہوا کرتی تھی۔ پینے والے وہاں بیٹھ کر پینے سے اور جواء کھیلنے والے جوئے سے بھی دل بہلاتے۔ انہی محفلوں میں کئی نئے معاشقے جنم لیتے اور کئی پرانے دم توڑ دیتے۔ باتوں باتوں میں کچھ نئے ڈراموں کی منصوبہ بندی بھی ہوتی جو اکثر اگلی صبح تک بھلا دی جاتی۔
اب تنویر عالم کو بھی ان منی پارٹیوں میں شمولیت کی دعوت دی جانے لگی۔ وہ لوگ ایسا نہ سوچیں کہ بڑے بڑے کنٹریکٹ ملنے کے بعد وہ مغرور ہو گیا ہے، اسی خیال کے تحت وہ بھی کبھی کبھی ایسی محفلوں میں شریک ہونے لگا۔ شراب اور جوئے کی محفلوں میں شامل ہونے کے بعد یہ ممکن نہ تھا کہ وہ مکمل طور پر ان سے بچ جاتا۔
شراب تو وہ پہلے بھی کبھی کبھی تھوڑی بہت پی لیا کرتا تھا لیکن اب اسے کھینچ کھانچ کے اور چھوٹا موٹا کہتے کہتے جوئے پر بھی لگا لیا گیا۔ اس کو اس کی قسمت کہیں یا کوئی منصوبہ بندی مگر وہ اکثر ہی جواء جیت جاتا۔ ”بھئی آج کل آپ کے ستارے بلندی پر ہیں اس لئے تو ’جواء رانی‘ بھی آپ کی گود میں ہی آن بیٹھی ہے“ ایسے جملوں سے اسے گمان ہوتا کہ شاید یہ سب نصیب سے ہی ہو رہا ہے۔
اسی دوران اسے اگلے ڈرامے کا سکرپٹ بھی مل گیا مگر اب وہ جو روز روز جواء جیتنے کی خوشی کا چسکا لگ گیا تھا، ادھر بھی دھیان رہنے لگا تھا۔ وہ بینک سے واپس آ کر اس ڈرامے میں اپنے کردار کو پڑھتا، اس پر غور کرتا اور اسے بہتر سے بہتر انداز میں پرفارم کرنے کے طریقے بھی سوچتا۔ البتہ موقع ملتے ہی ان شراب اور جوئے کی پارٹیوں میں بھی پہنچ جاتا۔
اب روز روز پینا شروع کر دی تو شراب کی مقدار بھی بڑھنے اور اپنا اثر دکھانے لگی۔ ساتھ ہی جوئے میں قسمت کی دیوی بھی روٹھ گئی۔ کچھ دیر تو جوئے کا سلسلہ اس کے اپنے اور پھر یہیں سے جیتے ہوئے پیسے سے چلتا رہا، مگر کب تک؟ ڈرامے کی ریہرسل شروع ہونے سے پہلے ہی تنویر کی جیب خالی ہو گئی۔ تنخواہ تو ابھی دور تھی اس لئے ڈرامہ پروڈیوسروں سے مانگنا شروع کر دیا۔
ادھر ڈرامہ کی ریہرسل شروع ہو چکی تھی مگر ابھی اسے بلایا نہیں گیا تھا۔ ابھی اس کے کردار کی ریہرسل شروع نہیں ہوئی، یہ کہہ کر اسے ٹال دیا گیا۔ اب تک وہ اپنا پورا معاوضہ بھی وصول کر چکا تھا اس لئے کوئی اور وسوسہ بھی اس کے دماغ میں نہیں آیا۔ دن گزرتے گئے اور اسے بلایا ہی نہ گیا۔ آخر میں اسے یہ خبر سنا دی گئی کہ ریہرسلز کے دوران ڈرامے میں بہت سی تبدیلیاں ناگزیر ہو گئی تھیں، اس لئے اس کا کردار ہی ڈرامے سے نکالنا پڑا۔ (معاہدے میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ ڈرامہ اس کے بغیر سٹیج نہیں ہو سکے گا) ۔
پورے ڈرامے کا معاوضہ اسے پہلے ہی ادا کر دیا گیا تھا اس لئے وہ روپے پیسے کی ڈیمانڈ تو کر ہی نہیں سکتا تھا، لیکن وہ معاہدہ کے مطابق اس دوران میں کہیں اور کام بھی نہیں کر سکتا تھا۔ جس پرفارمنس کی متوقع کامیابی سے وہ جذباتی طور پر جڑ چکا تھا اس کی تو امید بھی ختم ہو گئی۔ شام کو گھر میں بیٹھنے کی عادت بھی جاتی رہی تھی اس لئے وہ شوز ختم ہونے کے بعد والی محفلوں میں بن بلائے بھی جانے لگا۔ وہاں ابھی اس کی آؤ بھگت جاری تھی کہ گاہے بگاہے اس کے آنے والے تین ڈرامے ان محفلوں کی گفتگو میں شامل رہتے تھے۔
حالات عجیب ڈگر پر چل نکلے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب محض اتفاق ہے یا باقاعدہ کسی منصوبہ بندی کے تحت وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ رات گئے والی ان محفلوں میں وہ کئی بار شراب کے نشے میں اوٹ پٹانگ باتیں کرتا اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہوا پایا گیا۔ کسی نے صرف شرارت سے یا کسی کے کہنے پر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔ ایک صبح وہ اپنے ہی گھر کے باہر شراب کے نشے میں بے ہوش پایا گیا۔ ایک شام وہ شراب پی کر اپنے ڈرامہ پروڈیوسر کے دفتر پہنچا اور وہاں کافی ہنگامہ کیا۔ انہیں پولیس بلانا پڑی۔
ایسے واقعات کے بعد جب وہ ہوش میں آتا تو اسے بہت شرمندگی ہوتی اور وہ طے کرتا کہ آئندہ وہ ایسی ہر محفل سے دور ہی رہے گا۔ مگر دو چار دن کے بعد پھر کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا، جو اس کے لئے شرمساری کا باعث بنتا۔ اس کے بھائی کے بچوں میں ان کی بیٹی اب سولہ سال کی ہو چکی تھی۔ وہ اب تک چچا (تنویر) کی بڑی چہیتی رہی تھی۔ بے شک چچا ہونے کے ناتے وہ تنویر کا احترام بھی کرتی تھی لیکن گھر میں صرف وہی ایک ایسا فرد تھا جس سے وہ اپنے ہر معاملے میں مشورہ لے سکتی تھی۔ مذکورہ بالا واقعات کے بعد اس کے ماں باپ نے اس کا تنویر کے کمرے میں جانا ہی بند کر دیا تھا۔
جب تک تنویر کو ان تمام تبدیلیوں کا احساس ہوا، تب تک معاملہ بات چیت سے آگے نکل چکا تھا۔ اب وہ گھر میں سب کے ہوتے ہوئے بھی بالکل اکیلا تھا۔ بینک والے کب تک ان تمام معاملات سے بے خبر رہ سکتے تھے۔ جیسے جیسے وہاں خبریں پہنچنا شروع ہوئیں، وہاں بھی حالات اس کے لئے تنگ ہونا شروع ہو گئے۔ پہلے تو اس سے ذمہ داری کے تمام کام واپس لے لئے گئے۔ پھر وہاں کا ماحول اتنا ناقابل برداشت بنا دیا گیا کہ اس کے پاس استعفا دینے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔
اگلا ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے وہ اتنا بدنام ہو چکا تھا کہ کوئی اسے پاس بٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔ وہ اکیلا کمرے میں پڑا کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا۔ اس نے طے کیا کہ وہ اب سولو پرفارمنس کی تیاری کرے گا۔ وہ دو چار ایسے آئٹم تیار کر کے پھر سے پبلک تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ دماغی طور پر وہ پھر سے چست ہو چکا تھا اس لئے اسے کامیابی کی بھی پوری پوری امید تھی۔
گھر والوں کے نزدیک اس کی دماغی حالت ابھی بھی ٹھیک نہیں تھی۔ بھائی اور بھابی جو کبھی اس کی مدد کی وجہ سے اس کے ممنون رہا کرتے تھے اب بات تک کرنے کے روادار نہیں تھے۔ کھانے کے وقت کوئی بچہ آ کر اسے بتا دیتا کہ آ کر کھانا کھا لے۔ جب وہ کھانے کی میز پر پہنچتا تو وہاں اس کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا تھا۔ اسے بتایا جاتا کہ باقی سب لوگ کھانا کھا چکے ہیں۔
ایک دن وہ اپنے بیڈ روم میں، اپنے نئے منصوبے کے لئے ایک کردار کی ریہرسل کر رہا تھا۔ آوازیں اس کے کمرے سے باہر تک آ رہی تھیں۔ اس کے بھائی نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ایمبولینس بلا لی۔ ایمبولینس کے عملہ کو بیان دیتے ہوئے، اس کے بھائی نے حالات کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر خطرناک بتایا۔ اس نے یہاں تک ڈر ظاہر کیا کہ ایسی دماغی حالت میں اگر کہیں تنویر نے خود اپنی جان لینے کی کوشش کی تو وہ اسے کیسے بچا پائیں گے؟
ایمبولینس والوں نے اسے جتنی جلدی ممکن ہو سکا ایمرجنسی وارڈ میں پہنچایا۔ وہ لاکھ صفائیاں دیتا رہا کہ وہ تو اپنے ایک کردار کی ریہرسل کر رہا تھا۔ وہ ذہنی طور پر بالکل تندرست ہے مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس نے زیادہ شور مچایا تو اسے بیڈ کے ساتھ باندھ کر بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا گیا۔
دو گھنٹے کے بعد بڑے ڈاکٹر صاحب آئے۔ انہوں نے ایمبولینس والوں کے بیانات سنے۔ تنویر کے بھائی کا بیان پڑھا اور اس نے اخبارات میں شائع شدہ رپورٹوں کا جو پلندا ساتھ دیا تھا، اس کو ایک نظر دیکھا۔ کچھ سوچ بچار کی اور اسے مینٹل ہیلتھ کیئر سنٹر بھجوا دیا۔
”مینٹل ہیلتھ کیئر سنٹر“ یہاں کا سرکاری نام تھا۔ کاغذوں میں بھی یہی لکھا جاتا تھا مگر عام لوگ اسے ”پاگل خانہ“ ہی کہتے تھے۔ یہاں مقیم مریضوں کو بھی ذہنی بیمار کہنے کی بجائے ”پاگل“ کہہ کر ہی بلایا جاتا تھا۔
تنویر کو جب وہاں ہوش آیا تو اس نے پھر سے اپنے بارے میں صفائیاں دینے کی کوشش کی۔ وہاں کے عملہ کو یقین تھا کہ یہاں آنے والا ہر پاگل اسی طرح کی باتیں کرتا ہے۔ اسے اس حقیقت کا ادراک ہونے میں کئی دن لگ گئے کہ جب بڑا ڈاکٹر کچھ لکھ دیتا ہے تو باقی عملہ کچھ نہیں کر سکتا۔
سٹیج ڈرامہ سے متعلق تمام لوگوں نے تنویر کی اس حالت پر بہت افسوس کا اظہار کیا۔ کئی ایک نے تو بیانات بھی جاری کیے کہ اس کی اس بیماری کی وجہ سے سٹیج ڈرامہ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ کچھ نے حکومت کی نا اہلی کو نشانہ بنایا جو ایسے قیمتی فنکاروں کے مشکل وقت میں ان کی کوئی مدد نہیں کرتی۔ جبکہ درحقیقت انہی میں سے بہت سے، بہت خوش بھی تھے کہ مستقبل میں جو شخص ان کے لئے خطرہ بن سکتا تھا وہ اب پاگل خانے میں پڑا سڑتا رہے گا۔
ڈاکٹروں نے رپورٹ جاری کر دی تھی۔ تنویر عالم کو اب علاج کے لئے، کافی عرصہ مینٹل ہیلتھ کیئر سنٹر میں رہنا تھا۔ اب تنویر کے بھائی اور بھابی نے ضروری سمجھا کہ اس کے دونوں کمرے خالی کر کے ان کی اچھی طرح صفائی کرا لی جائے۔ بیڈ اور دوسرے فرنیچر کے علاوہ باقی سب سامان پھینکنے کا پروگرام بنا لیا گیا۔ ان کے بچوں نے بڑی کوشش کر کے ماں اور باپ کو راضی کیا کہ وہ اس کی کتابیں اور ذاتی ضرورت کی کچھ چیزیں پھینکنے کی بجائے سٹور روم میں رکھ دیں۔
00000000000000000000000
تنویر عالم کی خوش قسمتی کہ اس پاگل خانہ میں بھی سال میں دو بار ڈرامہ سٹیج کیا جاتا ہے۔ باہر سے ڈرامہ کمپنی والے ان مریضوں کا دل بہلانے کے لئے وہاں آتے ہیں۔ وہاں کے جو مریض بالکل بے ضرر سمجھے جاتے ہیں، انہیں بھی ان ڈراموں میں کوئی نہ کوئی رول پلے کرنے کا چانس دیا جاتا ہے۔ ان میں ایک مریض خود تنویر عالم بھی ہے۔ البتہ اسے اب بھی ایک ایسے فالتو کردار کے لئے چنا جاتا ہے، جس کا اصل ڈرامے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
0000000000000000000000

