کتابی مسلمان ـ کتابی پاکستانی

جب سے بچہ کچھ سمجھنے کا قابل ہو جاتا ہے۔ اسے گھر۔ سکول۔ کالج۔ ڈرائنگ روم۔ حجرہ۔ مسجد۔ سیاسی پارٹی۔ ہر قسم کے تنظیم۔ کھیل کے میدان میں اور ہر جگہ ایسی باتوں کی مسلسل تقریر و تحریر کے مسلسل تکرار سے یہ تلقین کرایا، تعلیم دیا اور باور کرایا جاتا ہے۔ کہ ہمیشہ سچ بولنا۔ جھوٹ مت بولنا۔ کسی کو دھوکہ مت دینا۔ ظالم کے سامنے کلمہ حق بولنا۔ کمزور کی مدد کرنا اور ساتھ دینا۔ اپنے فرائض ذمہ داری سے نبھانا۔ چاپلوسی اور چمچہ گیری مت کرنا۔
عزت نفس کی حفاظت کرنا۔ دوسروں کو عزت و احترام دینا۔ کسی بھی دوسرے مذہب، پارٹی، نظریہ سے اختلاف رکھنے کے باوجود اس کی مخالفت اور تحقیر نہ کرنا۔ کسی کی کمزوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھانا۔ انسان کو انسان سمجھنا، پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس میں آباد پنجابی۔ سندھی۔ پختون۔ سرائیکی اور بلوچ سب برابر اور بھائی بھائی ہیں۔ اور سب لوگ ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ سرکاری افسران اور ملازمین پبلک سرونٹ (عوام کے خادم) ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب کچھ اور ایسی ہزاروں باتیں جو بذات خود بلا شبہ بدرجہ اتم قابل تحسین اور قابل فخر انسانیت ہیں۔ یہ اور ایسی ہزاروں باتیں ہر بچے کے لاشعور کے کورے کینوس پر اس طرح کے مسلسل تکرار سے لاشعور سے بھی آگے تحت الشعور پر ایسے منقش کرائی جاتی ہیں۔ کہ اس کے وجود، اخلاق و کردار کا مستقل جزو بن جاتے ہیں۔ اور پھر ساری زندگی بھر اس سے مفر نہیں پا سکتے۔ یہ ایسی خوش کن اور ساحرانہ باتیں ہیں کہ اس پر اگر درست طور پر اور اجتماعی طور پر عمل کیا جائے تو معاشرہ بہت ہی خوشحال، مطمئن، پرامن اور ترقی کی جانب لازمی طور پر گامزن ہو گا۔ اور بجا طور پر بندہ اندر سے مطمئن ہو گا۔ کوئی ٹینشن نہیں ہوگی۔ رات کو نیند کی گولیاں لیے بغیر جلدی میٹھی نیند میں چلا جائے گا۔ اور خواب بھی بھلے ہی آنے لگیں گے۔
لیکن برا ہو اس لالچ، انا اور خود پرستی کا جہاں ان سب باتوں اور تعلیمات کے باوجود، ایسے ایسے لوگوں اور حالات کے ساتھ واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کہ خاکم بدہن ان سب باتوں اور تعلیمات سے اس وجہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خاص کر جب ان سب باتوں اور تعلیمات کو استحصال اور دھوکہ و فریب کے لیے بطور آلہ استعمال کیے جانے لگیں۔ روزمرہ کے معمولات میں ان باتوں، تعلیمات اور نصیحتوں کے ساتھ ہم سب کا لازمی واسطہ پڑتا رہتا رہا ہے۔ اور پھر ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی حد تک اس پر انتہائی ایمانداری اور مستقل مزاجی کے ساتھ عمل بھی کرنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔
اور پھر جب بلوغت کا سورج اپنے مکمل آب و تاب اور تمازت کے ساتھ زندگی کے تپتے ایام میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ تو آٹے میں نمک برابر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی کم اشرافیہ طبقہ کے غیر شریفانہ بلکہ مجرمانہ چالبازیوں کے مرہون منت اور قحط میں کیک بسکٹ کھانے والوں کو چھوڑ کے، جب سب کے سب ہی دنیا اور دنیا کو عارضی، بے وقعت اور امتحان گاہ بتانے والوں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور روزگار کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں۔ تو سب سے پہلے واسطہ فرقہ واریت کے ان مذہبی ٹھیکیداروں کے ساتھ پڑتا ہے جو اللہ کے گھر ہی سے نفرتیں پھیلاتے رہتے ہیں۔
اور جو ہر وقت حرام خوری سے بچنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں مگر خود تمام حرام خوروں کے ایک ایک کے حرام کی کمائی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ اور ان کے مفادات کا تحفظ بھی کرتے رہتے ہیں۔ اور ایسے نصیحتوں اور تعلیمات کے تیار کردہ لوگ ایسے ایسے صاحبان دستار تو نہیں حاملین دستار کی عزت کرتے ہیں جو حقوق کے تحفظ کی راگ الاپتے الاپتے خود ہی نہ صرف حقوق بیچتے اور پامال کرتے ہیں بلکہ انسانیت، غیرت اور حمیت تک بیچنے کی بھی پیچھے نہیں رہتے۔
سرکاری، نیم سرکاری یا نجی ملازمین ہوں کہ افسران، کاروباری طبقہ ہو کہ مفادات کے تاروں سے پروئے گئے رشتے رشتہ دار اور تعلق دار سب کے سب ایسی ہی تعلیمات سے بہرہ ور اور ان ہی کی پرچار کرتے اور لاگ الاپتے رہتے ہیں۔ اور اپنے ہی مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے دوسروں سے یہ توقع رکھتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوں اور خود کو اس سے مبرا سمجھتے ہوئے اس سے بغاوت کرتے ہیں۔ جبکہ عام، شریف، محب وطن۔ خوف خدا رکھنے والے، قانون کے پابند بندے جن کے لاشعور میں فیڈ کیے گئے تعلیمات بھرے پڑے رہتے ہیں۔
جو ان اصولوں کو انسانیت کا معراج اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں کی کلید سمجھتے ہیں۔ ان پر تمام تر خلوص اور ایمانداری سے عمل کرتے ہوئے کتابی مسلمان اور کتابی پاکستانی بنتے ہیں۔ اور ان سنہرے تعلیمات کی وجہ سے ہرگز نہیں بلکہ ان کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے دین۔ قانون و آئین کے تاجروں کی وجہ سے پیچھے ہی چلے جاتے جاتے ہیں۔ اور تمام تر صلاحیتوں سے لیس ہو کے بھی معاشرے کے نکمے ترین اعضاء بن جاتے ہیں۔ اور دولت ہو کہ طاقت سب کچھ مخصوص اور خود غرض لوگوں میں مرتکز ہو کے پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ جن کو بعد میں کسی انقلاب کے بغیر راہ راست پر لے آنا نا ممکن ہی بن جاتا ہے۔

