نون لیگ کے ٹکٹوں کا تماشا

مولانا ابوالکلام آزاد کا شہرہ آفاق جملہ ہے کہ ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“ ، لیکن اگر مسلم لیگ نون کی ٹکٹوں کی تقسیم کو مدنظر رکھا جائے تو یوں کہنا چاہیے کہ ”سیاست کی آنکھ میں حیا بھی نہیں رہی“ ۔
دانیال عزیز کی طرز سیاست سے ہمیشہ اختلاف کیا اور کھل کر کیا۔ کشمیر الیکشن میں جب وہ کمپین میں مصروف ہو کر مخالفین کے لیے اپنا مخصوص طرز تکلم اپناتے تو خاکسار کھل کر اس پر تنقید کرتا تھا۔ گروپ دھڑا بندی، برادری کی تقسیم کی سیاسی باتیں دانیال عزیز جیسے پڑھے لکھے شخص کے منہ سے کبھی اچھی نا لگیں لیکن شاید وہ ٹھیک کرتا تھا۔ جب سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اسے دفنانے تک کا اہتمام ہو چکا ہو اور آزادی اظہار رائے اور اختلاف رائے کے دروازے مکمل بند کر کے صرف چاپلوسی و خوشامد کا دور دورہ ہو تو شاید تب ایسی سیاسی جماعتوں کی مضبوطی کی بجائے اپنے نظریاتی گروپ کی مضبوطی پر توجہ دینا اور توانائیاں صرف کرنا زیادہ موزوں ہوتا ہے۔
دانیال عزیز اور طلال چوہدری نے مسلم لیگ نون کے لیے عین سیاسی جوانی میں سیاسی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔ ثاقب نثار کے تعصب کا سورج جب سوا نیزے پر تھا اور کسی کو نون لیگ کے بیانیے کا وزن اٹھانے کی سکت نہیں ہو رہی تھی تو ان ناتواں کندھوں نے اس بار سیاست کو اٹھایا اور خود اگلے پانچ سالوں کے لیے نا اہل ٹھہرے۔ مسلم لیگ نون کے بڑے بڑے نام اس وقت سیاسی مصلحتوں کا شکار نظر آتے تھے اور کچھ تو پارٹی کا منہ ماتھا ہونے کے باوجود نا اہلی سے بچنے کے لیے ثاقب نثار کے در پر ماتھا ٹیک آئے لیکن ان دو لوگوں نے نا تو بیان بدلا اور نا اس پر پشیمانی و شرمندگی کا اظہار کیا جس پر انہیں نا اہلی کی سزا سنائی گئی۔
دانیال عزیز و طلال چوہدری کی نا اہلی خالصتاً نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہونے اور اس کے حق میں لب کشائی کے جرم کی سزا تھی۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب نواز شریف کے بیانیے کا وزن اٹھانے کے لیے نا کوئی ٹی وی چینل تیار تھا اور نا کوئی اخبار۔ نواز شریف البتہ اپنے اچھے وقت میں اپنے برے وقت کے محسنوں کو بھول گئے اور ایک لمحہ بھی نا لگایا کہ دونوں بڑے سیاسی رہنماؤں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنی ہی پارٹی کے مشکل وقت کے ساتھیوں کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کر دیا۔
مسلم لیگ نون نے راولپنڈی کے غلام سرور خان کو تو یاد رکھا جو کل تک نواز شریف کے تابوت میں واپس آنے کی پیشین گوئیاں کرتا رہتا تھا اور ان کے حلقے کو آسانی کے لیے کھلا چھوڑ دیا لیکن برے وقت میں کنکریاں کھانے والوں کو بھول گئے۔
نارووال وہ ضلع تھا جس کے بارے میں 100 فیصد پختگی کے ساتھ کہا جا سکتا تھا کہ وہاں سے مسلم لیگ نون کلین سویپ کرے گی اور قومی اسمبلی کی دو کی دو اور صوبائی اسمبلی کی پانچ کی پانچ سیٹیں لے اڑے گی لیکن وہاں معمولی سی ضد انا میں تبدیل ہو گئی جس پر ٹکٹیں فائنل ہوتے ہی آدھا ضلع مسلم لیگ نون کی مٹھی سے ریت کی مثل پھسل گیا۔
نارووال کے دو قومی اسمبلی اور پانچ صوبائی اسمبلی کے حلقے ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ نون نے وہاں سے کلین سویپ کیا تھا اور 2018 کے الیکشن میں ایک نشست کے سوا سبھی نشستوں پر مسلم لیگ نون کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
حالیہ الیکشن میں چونکہ فریق مخالف پی ٹی آئی میدان سے باہر ہے اس وجہ سے احسن اقبال صاحب کا حلقہ این اے 76 میں مقابلہ یک طرفہ ہے اور ان کے نیچے آنے والے تین صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر بھی دور دور تک کوئی مقابلہ نظر نہیں آ رہا۔ پی پی 56 پی پی 57 اور پی پی 58 میں راوی مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے لیے چین ہی چین لکھ رہا ہے ہاں البتہ اگر پی پی 56 میں مسلم لیگ نون سے راہیں جدا کرنے والے دانیال عزیز کوئی بڑا جوڑ توڑ کرتے ہیں اور دو تین گروپوں کو ایک کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر پی پی 56 میں سابق لیگی ایم پی اے رانا منان کے مقابلہ میں الیکشن بنے گا وگرنہ ابھی تک یک طرفہ مقابلہ ہے۔ دانیال عزیز کی بیگم مہناز اکبر عزیز اب اس حلقے سے الیکشن لڑیں گی۔
این اے 75 میں دانیال عزیز کی بجائے مسلم لیگ نون نے انوارالحق چوہدری کو ٹکٹ جاری کیا ہے جو 1988 میں پہلی دفعہ نارووال سے کامیاب ہوئے تھے بعد ازاں وہ 1990 میں نارووال سے ایم این اے منتخب ہوئے اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے پاکستان پیپلز پارٹی میں جا پہنچے اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کے مشیر بننے میں کامیاب ہو گئے۔
1993 میں نواز شریف نارووال گئے تو بھرے جلسے میں ایک نوجوان کا ہاتھ تھاما اور ہوا میں لہرا کر بولے کہ نارووال والو اب جو نوجوان آپ کو دے کر جا رہا ہوں یہ کبھی لوٹا نہیں ہو گا اور اس کے بعد احسن اقبال نے نواز شریف کو تاحیات قائد مان لیا اور نارووال والوں نے اس نوجوان کو ہمیشہ کامیاب کروایا۔
این اے 75 سے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ ہولڈر انوارالحق اس کے بعد قصہ پارینہ ہو گئے اور کبھی کامیاب نا ہو سکے حتی کے 2018 کے الیکشن میں شکر گڑھ سے ایم پی اے کا الیکشن لڑا تو محض 6947 ووٹ حاصل کرسکے اور مقابلے میں ساتویں نمبر پر آئے۔
دانیال عزیز کو ٹکٹ نا ملنے کی وجہ ظفر وال کا حلقہ پی پی 54 ہے جہاں سے مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر اویس قاسم ایم پی اے منتخب ہوتے تھے لیکن 2018 کے الیکشن میں وہ نون لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے تو وہاں سے آزاد امیدوار پیر سعید الحسن کامیاب ہو کر پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر بننے میں کامیاب ہو گئے۔
بعد ازاں کشمیر الیکشن میں دانیال عزیز کے ساتھ اویس قاسم دوبارہ جڑ گئے اور ریاستی الیکشن میں مسلم لیگ نون کے امیدوار کی بھرپور سپورٹ کی اور الیکشن مہم چلائی۔ دانیال عزیز اور اویس قاسم کا اشتراک احسن اقبال کو ایک آنکھ نا بھایا کیونکہ اگر اویس قاسم دانیال عزیز کے ساتھ کامیاب ہو جاتا ہے تو کل کو بلدیاتی سیاست میں 2015 کی طرح دوبارہ سے اپنے بیٹے کو ضلع چیئرمین بنوانے کے لیے احسن اقبال دانیال عزیز اور اویس قاسم کا محتاج ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے احسن اقبال نے اپنے بیٹے احمد اقبال کو ظفر وال سے ایم پی اے کے امیدوار کے طور پر الیکشن سے چند ہفتے پہلے میدان میں اتار دیا۔ دانیال عزیز نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے پورے ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار احسن اقبال کو قرار دے دیا اور میڈیا پر کئی روز احسن اقبال کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر مسلم لیگ نون نے دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس بھیج دیا اور جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔
دانیال عزیز نے جو جواب جمع کروایا اس میں بھی وضاحت دینے کی بجائے اپنے بیانات کے حق میں لمبے چوڑے دلائل دیے اور ظفر وال کے حلقے میں احسن اقبال کی مداخلت بند کرنے کے لیے پارٹی کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
احمد اقبال کے لیے پارٹی کے ٹکٹ اور الیکشن میں جیت کے واضح امکانات نظر نا آنے پر احسن اقبال نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور پی پی 54 ظفر وال میں کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔
پارٹی نے دانیال عزیز کو اویس قاسم کو چھوڑ کر اپنا ٹکٹ لینے کے لیے گزشتہ روز تین گھنٹے کی آخری میٹنگ میں منانے کی سر توڑ کوششیں کیں لیکن دانیال عزیز کے مطالبات کے پیش نظر بات نا بن سکی اور مسلم لیگ نون نے دانیال عزیز کو بھی ٹکٹ سے محروم کر دیا۔
پی پی 56 شکر گڑھ سے مسلم لیگ نون کے دیرینہ اور مخلص ورکر حافظ شبیر کو بھی تاحال پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا کیونکہ ظفر وال کے حلقے میں الیکشن مقابلے میں آنے کے لیے احسن اقبال کو اکمل سرگالہ پی ٹی آئی کے ایم ایل اے کی حمایت درکار ہے وہ وہ شکر گڑھ سے مسلم لیگ نون کی ٹکٹ کا طلبگار ہے۔ ظفر وال کی سیٹ پر مقابلے میں آنے کے لیے شاید شکر گڑھ میں بھی اکمل سرگالہ کو ٹکٹ جاری کر دیا جائے لیکن اگر اب حافظ شبیر کو بھی ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے تو بھی مسلم لیگ نون دانیال عزیز کی مخالفت کے ساتھ یہ سیٹ نہیں نکال پائے گی۔
گویا کہ سارا کلین سویپ کیا ہوا ضلع نارووال مسلم لیگ نون اپنی ضد ہٹ دھرمی اور انا پر قربان کر کے ایک قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست سے الیکشن سے پہلے ہی شکست کھا چکی ہے اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
وجہ تنازعہ یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ اویس قاسم لوٹا ہے اور ہم لوٹوں کو ٹکٹ نہیں دیں گے اور یہ بات بلوچستان سے لے کر شکر گڑھ کے آخری کونے تک تھوک کے حساب سے لوٹوں کو ٹکٹ جاری کرنے والے کہہ رہے ہیں۔
اویس قاسم کو ٹکٹ نہیں دینا وہ لوٹا ہے اور جو اس کے لیے بول رہا تھا اس کو بھی ٹکٹ نہیں دینا چاہے وہ نون لیگ کے لیے نا اہل ہونے والا دانیال عزیز ہی کیوں نا ہو۔
اور حافظ شبیر کو بھی ٹکٹ نہیں دینا کیونکہ وہ نون لیگ کا بہت پرانا ورکر اور حد سے کچھ زیادہ مخلص ہے۔
سوال یہ ہے کہ راجہ ریاض، انوارالحق اور اکمل سرگالہ تو بچپن سے نون لیگی ہیں نا؟

