تعلیم بھی مہنگائی کی نذر ہو چلی


وہ بلوچستان سے رخت سفر پنجاب کی طرف تعلیم کے ارادے سے باندھ کر ڈھیروں ساری دعاؤں سمیت رات کے آخری پہر میں بہت ساری امیدیں اپنی گٹھڑی میں باندھے روانہ ہوا۔ اس کے ارادے مضبوط تھے اور وہ تہیہ کرچکا تھا کہ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے پنجاب بالخصوص لاہور کی کسی بہترین جامعہ میں داخلہ لے کر ان ساری خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرے گا جو اس نے بلوچستان کی مٹی پر دیکھے تھے۔ مگر مہنگائی آڑے آ گئی اور وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکا۔

کیونکہ لاہور پہنچ کر اس نے اپنا مقصد دل مجروح سے پیوست کیے اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ ہاسٹل کی تیسری منزل میں ایک چھوٹے سے کمرے میں باڑے پہ سکونت اختیار کی کہ ابھی جامعہ کے داخلی امتحان میں ایک مہینہ باقی تھا لہذا وہ محنت کرتا رہا اور بالآخر وہ دن آ گیا جب اس نے لاہور کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں سے ایک کا انٹری ٹسٹ دے کر اس میں کامیابی حاصل کی۔ جب پاس طلبہ کی لسٹ لگی تو اس کا نام لسٹ میں دوسرے نمبر پر آیا تھا اور اب وہ باقاعدہ اس یونیورسٹی کا طالبعلم شمار کیا جاسکتا تھا، مگر وہ شمار میں کبھی بھی نہ آیا کہ شمار میں لانے کے لئے اس کے پاس یونیورسٹی انتظامیہ کو دینے کے لئے شمار میں لائی جا سکنے والے کرنسی نوٹ نہیں تھے۔

اس نے اگرچہ پاکستان کی مہنگی ترین غیر سرکاری جامعات میں سے ایک میں داخلہ کا خواب دیکھا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ یونیورسٹی نے ببانگ دہل اشتہارات میں ’اسکالرشپس‘ کا ڈھنڈورا پیٹا تھا اور وہ چونکہ قابل تھا اور یہاں تک کی سابقہ تعلیم بھی اسکالرشپس پہ کرتا آیا تھا تو وہ یقین کر بیٹھا تھا کہ میری قابلیت میری غربت کو آڑے نہ آتے ہوئے میری راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کر دے گی مگر افسوس کہ ایسا نہ تھا، کیونکہ وہ جیسے ہی ایڈمیشن بلاک میں گیا تو اسے اتنے ہی فیس کا چالان تھما دیا گیا جتنا کہ ایک عام امیر زادہ اس یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے ادا کرتا تھا۔

اس کے استفسار پہ اسے انتظامیہ کی طرف سے ایسی منطق سے سمجھایا گیا کہ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور وہ چالان لئے باہر روانہ ہوا (چالان بھی وہ جس میں ایک سمیسٹر کی فیس دو لاکھ لکھی گئی تھی جو کہ اس کی چھوٹے سے خاندان کی شش ماہی آمدنی سے سینکڑوں گنا زیادہ تھی) ۔ یہ پہلا اور آخری مرحلہ تھا اس کے خوابوں کی تعبیر اور حقیقت کے درمیان جو اس نے نیلے آسمان تھلے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ حقیقیت دیکھنے کے بعد اس کے خواب دھیرے دھیرے ٹوٹتے ٹوٹتے ایسے ٹوٹے کہ وہ پھر جوڑنے کے ہی نہ رہ کر بکھر جیسے گئے اور وہ اعلی تعلیم کو اعلی سطح پہ چھوڑ کر ادنی سطح پہ لاہور کی کسی فیکٹری میں روزانہ کی پانچ سو روپے کی دیہاڑی پہ مقامی جنرل سٹور میں ملازم ہو کر مہینے کا پندرہ ہزار کمانے لگا۔

یہ کہانی صرف اس ایک طالبعلم کی نہیں بلکہ ہر اس طالبعلم کی ہے جو بڑے سپنے مگر کپڑوں میں خالی جیبیں لئے کسی اچھی تعلیمی ادارے کا رخ کرتا ہے اور مالی حالت کی کمزوری کی وجہ سے ’ناکام‘ ہو کر تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔

موجودہ پاکستانی تناظر میں اگر ہم تعلیم کو صرف اور صرف امیر کی ملکیت سمجھیں تو غلط نہ ہوں گے کیونکہ تعلیم بالعموم اور اعلی تعلیم بالخصوص پیسوں اور روپوں کے ایک ایسے کھیل کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس کے سمجھنے سے غریب قاصر ہے۔ طبقاتی تعلیم، جس کی ابتدا تعلیمی درجوں کی تقسیمی ڈھانچے میں کنڈرگارٹن سے ہی شروع ہوجاتی ہے وہ جاتے جاتے اعلی تعلیم تک ایسی صورت میں ڈھل جاتی ہے جس میں سوائے اشرافیہ اور امیر طبقہ کے کسی کے لئے کوئی جگہ اور نہ ہی کوئی حق سالم بچتا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیوں میں ہے بلکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں بھی آج کل ’مہنگائی کا شکار‘ ہو کر پرائیویٹ سیکٹر کی طرز کی فیس اسٹرکچرز اپنا چکی ہے۔ بلوچستان، جو کہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ مانا جاتا ہے، کی یونیورسٹیاں بھی اپنا ’ریٹ‘ پچھلی دو سالوں اتنا بڑھا چکی ہیں کہ بہت سے طلبہ تعلیمی عمل کو خیرآباد کہنے پہ مجبور ہوچکے ہیں۔ اگر ہم حکومت وقت کی یہاں بات کریں تو وہ صرف اور صرف پٹرول کی قیمتوں میں لگی ہوئی ہے، اسے طلبہ کی زندگیوں اور اور ان کے مستقبل سے اب کوئی لگاؤ باقی نہیں رہا ہے اگر ہوتا تو وہ اس ضمن میں ضرور کوئی موثر پالیسی اپناتی، اعلی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں حتی الوسع کمی کرتی، تعلیمی وظائف کا اجرا کرتی اور اس سمیت وہ ساری حکمت عملیاں عمل میں لاتیں جو کہ اس ضمن میں ایک حکومت لاتی ہے۔

Facebook Comments HS