ڈگڈگی


مداری اور بچہ جمورا گنداخہ کے ایک کشتی مقابلے میں

ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ
بچہ جمورا۔ جی استاد!
جھوم جا۔ جھوم گیا!
گھوم جا۔ گھوم گیا!
استاد۔ جمورے کیا دیکھا؟
جمورا۔ استاد آج ہم گنداخہ شہر کے اس میدان میں کیوں کھڑے ہیں؟
استاد۔ ہاں بے!
آج یہاں دو بڑے نامور پہلوانوں کی کشتی ہے

دیکھ اکھاڑا کیسے تماشائیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا ہے دونوں پہلوان میدان میں ہیں اور ان کے حامی گلے پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے ہیں نعرے بازیاں ہو رہی ہیں

جمورا۔ ارے استاد یہ تو دونوں رشتے دار شیدا اور میدا پہلوان ہیں دونوں ہی گبرو پہلوان ہیں مگر یہ تو نورا کشتی (پہلے سے طے شدہ لڑائی، ملی بھگت) کے لیے مشہور ہیں

استاد۔ ہاں یار جمورے تو کہتا تو ٹھیک ہے!

جمورا۔ استاد ادھر تماشائیوں میں دیکھ کیسے کیسے بڑے بڑے لوگ آئے ہوئے ہیں کشتی دیکھنے بڑی بڑی پگڑیوں والے، اونچے اونچے شملوں والے، امیر و رؤسا، غریب و فقیر سبھی موجود ہیں!

ارے استاد دیکھ کشتی شروع ہو گئی میدے نے داؤ لگایا شیدا چت ہوتے ہوتے بچا اب شیدا داؤ لگانے جا رہا ہے

استاد۔ آگے آگے دیکھ کیسے کیسے داؤ لگتے ہیں بے!

جمورا۔ ہاں استاد مگر تماشائی دیکھ کیسے اپنے اپنے پسندیدہ پہلوان کی حمایت میں اچھل رہے ہیں نعرے بازیاں ہو رہی ہیں

استاد۔ بیٹا جمورا تماشائیوں کو ہمیشہ تماشائی ہی رہنا ہے شیدا جیتے یا میدا، ان کے پلے آنا کچھ نہیں
اور چت بھی ان تماشائیوں کو ہی ہونا ہے، جیبیں اور عزتیں بھی ان کی ہی مٹی ہونی ہیں
جمورا۔ استاد وہ دیکھ۔ وہ دیکھ ادھر تماشائیوں میں دو بھائی آپس میں دست و گریباں ہو رہے ہیں

ارررے ادھر بھی کچھ بڑی بڑی پگڑیوں والے صاحبان میں بھی تھپڑ چل پڑے استاد ایک کی تو پگڑی بھی زمین پر آ پڑی ہے

استاد۔ اوئے جمورے یہ پگڑیوں والے دونوں بھائی ہیں نا؟
مگر یہ کیوں لڑ رہے ہیں آپس میں؟

جمورا۔ ہاں استاد ان میں سے ایک شیدے کا حامی ہے اور ایک میدے کا، دونوں اپنے اپنے پہلوانوں کی حمایت میں جذباتی ہو کر لڑ پڑے ہیں!

استاد۔ مگر یار جمورے شیدا جیتے یا میدا ہیں تو دونوں ایک، جیتا ہوا سارا مال تو ایک ہی گھر جائے گا
تو یہ پگڑیوں والے بھائی کیوں ایک دوجے کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں؟

جمورا۔ ہاں استاد مگر یہ بات انھیں کون سمجھائے! شیدا میدا تو ہمیشہ سے نورا کشتیاں لڑ لڑ مال بٹور کر چلتے بنتے ہیں!

مگر یہاں کے عوام کی پگڑیاں اسی طرح رل جاتی ہیں یہاں کی عوام بہت زود رنج ( جلد ناراض ہو جانے والے ) ہے دلوں میں عمر بھر کے لیے نفرتیں پال لیتے ہیں! پرائی کشتیوں میں یہ اپنی عزتیں بھی رولتے ہیں اور پگڑیاں بھی مٹی کر دیتے ہیں

استاد۔ ارے ارے جمورے وہ دیکھ یہ تو دوسرے بہت سے تماشائیوں نے بھی ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیے ہیں ابے یہاں تو جوتیوں میں دال بٹنے لگی ہے!

اور وہ ادھر دیکھ دونوں پہلوانوں نے سارا جیتا ہوا مال بوریوں میں سمیٹا ایک دوسرے کی گلے میں بانہیں ڈال کر ہنسے مسکراتے چلتے بنے ہیں!

جمورا۔ ہاں استاد مگر یہاں کی عوام نے تو ان کی خاطر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال ڈالیں گریبان پھاڑ ڈالے عزتیں لیرلیر کر دیں

استاد۔ ابے جمورے زیادہ فلسفہ نا بگھار اٹھا اپنا ساماں اور چل
ایسا نا ہو ان سانڈوں کی لڑائی میں ہم بھی نا مارے جائیں
جمورا۔ استاد بات تو ٹھیک بولتا ہے تو!
چل چلتے ہیں لڑنے دے ان کو ہمیں کیا!
منہ بھی ان کا تھپڑ بھی ان کے
ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ

Facebook Comments HS