انتخابی سیاست اور نظام؟
آج پاکستان حکمرانی کے عبوری دور سے گزر رہا ہے عام انتخابات کو وقت جوں جوں قریب آ رہا ہے ملک کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے نامزد امیدواران کے ٹکٹس فائنل کرنے کا معا، لہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ عام انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے اس بارے فی الحال خبریں یہی ہیں کہ انتخابات کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تیاریاں مکمل ہیں جس کا اعادہ نگران حکومت بھی کر چکی ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔
راقم گزشتہ کالم میں بھی اپنی تجاویز دے چکا ہے کہ ملک کے معاشی و سیاسی استحکام کے لئے انتخابات ناگزیر ہیں۔ جہاں ملک میں عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونے کے لئے تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں وہیں شہر خاموشاں سے کچھ ایسی غیر مصدقہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہوں گے بلکہ اگست ’ستمبر تک ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔ بہر حال اگر انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہوں گے تو اس سوال کو ضرور تقویت ملے گی کہ چھ ماہ مؤخر کرنے کے بعد الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنانے کی ضمانت کون دے سکتا ہے۔
پاکستانی سیاست کے نبض شناس اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ الیکشن اسی وقت ہوں گے جب‘ طاقت کا مرکز ’چاہے گا۔ اب دیکھئے‘ طاقت کے مرکز ’کے ساز گار حالات کا اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ مستقبل کے اصل حالات کا درست اندازہ اسی وقت ہو پائے گا۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں حقیقی سیاسی اور جمہوری پراسس کے نہ پنپ سکنے کے نتیجے میں کوئی حقیقی قومی لیڈر شپ نہیں ابھر سکی، بلکہ یہاں قوم کو منصوبہ سازوں نے کھلونوں کی طرح سیاسی لیڈر فراہم کیے۔
پھر جب کبھی قوم سے وہ کھلونا لے کر دوسرا کھلونا دینے کی کوشش کی گئی تو جیسے بچے سے زبردستی کھلونا چھینا جائے تو چھیننے والے کو بچے کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے ہی ہمارے منصوبہ ساز کئی بار ایسے غصے اور مزاحمت کا سامنا کرچکے ہیں۔ ہماری سیاسی رجیم میں موجود پارٹیاں اور ان کی لیڈرشپ، جو بڑی شد و مد سے ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، نہ ان کی پارٹیوں میں جمہوریت ہے اور نہ ہی ان کے اپنے رویے جمہوری ہیں، بلکہ یہاں سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے کو دیکھا جائے تو اسکرپٹ تیار کر لیا گیا ہے مرکز میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنائیں گے صرف انتخابی پراسیس کے بعد عملدرآمد ہو جائے گا۔ اب ملک میں سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنے گی یا قومی حکومت بنائی جائے گی یہ کہنا انتخابات سے قبل از وقت ہے۔ بہر حال یہاں کی جمہوریت آلہ کار سرمایہ داروں اور طفیلی جاگیر داروں کی جیب کی گھڑی ہے۔ اس ملک کے سیاست دان خود منصوبہ سازوں کے ساتھ مل کر اپنے طبقاتی مفادات کی خاطر کئی بار جمہوریت کو اپنے ہاتھوں قتل کرچکے ہیں۔
انھیں جمہوریت صرف اس وقت یاد آتی ہے جب انھیں اقتدار سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ جن ملکوں میں سسٹم کے بنیادی ادارے جیسے عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں متعین طرز عمل اور اپنی حدود کا خیال رکھتے ہوئے امور سر انجام دیتے ہیں وہاں، اور جہاں یہ ادارے صرف نام کی حد تک ہوتے ہیں، ان دونوں جگہوں پر نتائج کے حوالے سے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ یہاں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری قومی سیاست حالات کے جبر کا شکار رہی ہے۔
اس کا اپنا آزادانہ تشخص کبھی نہیں رہا۔ آج بھی پاکستان میں کسی سیاست دان اور پارٹی کی سمجھوتے کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ جس سے ڈیل ہوگی‘ اسے ہیرو بنالیا جائے گا اور جس سے نہیں ہوگی ’اسے زیرو کر دیا جائے گا۔ منصوبہ ساز جو چاہ رہے ہیں ویسا ہو جائے گا، یعنی مرضی کی ایک حکومت قائم کرلی جائے گی۔ کیوں کہ پولیس، انتظامیہ اور عدالتی نظام سمیت ہر جگہ اس رجیم کے لیے ہمدردی اور تعاون کی فضا قائم کردی گئی ہے۔ میڈیا؛ جس کا نان و نفقہ ہمیشہ چڑھتے سورج سے وابستہ ہوتا ہے، وہ بھی انھی کے گن گا رہا ہے۔
سوچنے کی اصل بات یہ ہے اب جس طرح سے نیا ڈھانچہ کھڑا کیا جا رہا ہے، کیا یہ چل پائے گا؟ اور ملک کوئی قدم آگے بڑھا سکے گا؟ اور کیا اس فرسودہ نظام کی استعمال شدہ سیاسی قوتیں کسی نئے سوشل کنٹریکٹ (social contract) کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ موجودہ صورت حال میں کسی کی بھی جیت نظر نہیں آتی۔ سب ہی وقت کو دھکا دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ مقتدرہ کو افراد اور شخصیات سے بالاتر ہو کر یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے جن نظریات کا سہارا لے کر پالیسیاں بنا رہے ہیں، کیا ماضی میں اس ویژن کے فیصلوں نے ہمیں بحران سے نکالا؟
یا بحران زیادہ سنگین ہوتے رہے ہیں؟ ہماری داخلی کمزوری ہمارے نظام کی فرسودگی ہے۔ قوم کے نوجوانوں کو اس نام نہاد لیڈر شپ کے سپرد کرنے کے بجائے فیصلے اب اپنے تاریخی شعور کی بدولت خود کرنے اور آگے بڑھ کر قوم کو ایک حقیقی لیڈر شپ فراہم کرنے کی تیاری کرنی چاہیے، تاکہ قوم اس گہرے کہر سے نکل کر درست سمت سفر کے آزادانہ فیصلے کرسکے۔ گزشتہ کالم میں بھی لکھ چکا ہوں کہ ملک میں موجود نوجوان نسل اس خود ساختہ روایتی سیاست سے بیزار ہو چکی ہے۔
ادراک ہو جانا چاہیے کہ ملک کا نظام اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ اس نظام میں نسل نو کو اپنا تابناک مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔ ملک کا نوجوان اس ملک و ملت کا بیش قیمت اثاثہ ہے جو سیاسی شعور کے زینہ پر قدم رکھ چکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس نوجوان کے مستقبل کے لئے موجودہ نظام کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے اس سسٹم کو اس قابل بنائیں جہاں کا نوجوان اس پر عدم اعتماد کا اظہار نہ کر سکے۔ اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ملک کی تمام سیاسی قوتیں اس ڈیل اور ڈھیل کے چکر سے نکل کر سر جوڑ کر موجودہ نظام میں اصلاحات لائیں گی۔
جب تک ملک کے اداروں کو آزاد اور خود مختار بنا کر ان اداروں میں احتساب کا خود کار نظام وضع نہیں کیا جائے گا تب تک اس ملکی نظام کی گنگا الٹی ہی بہتی رہے گی۔ سیاسی جماعتیں جب اپنے اندر جمہوری رویوں اور اقدار کو فروغ دیں گے تبھی وہ جمہوری جماعتیں کہلانے کی حقدار ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہو گی اور شخصیت پرستی‘ خاندانی سیاست کو دوام ملتا رہے گا تب تک ملک میں جمہوریت کے نام پر عوام کو ڈسا جاتا رہے گا۔ زمینی حقائق کا ادراک رکھنے والے بخوبی سمجھتے ہیں کہ نظام میں اصلاحات لائے بغیر ملک کی درست سمت کا تعین نہیں ہو سکتا۔


